ایک سکول کا اپنے طالبعلم کے نام خط


سلام، امید ہے تم خیریت سے ہو گے۔

کل تمھیں پاس سے گزرتے دیکھا تو آنکھوں پر یقین ہی نہیں آیا کہ یہ تم ہی ہو۔ کتنے بڑے ہو گئے ہو۔ کہاں کبھی تم ٹانگوں کی قینچی بنا کر سائیکل چلاتے میرے پاس آیا کرتے تھے اور کہاں اب یہ بڑا سا موٹرسائیکل زناٹے بھرتے پاس سے گزر جاتے ہو۔ محض گزر جاتے تو اور بات تھی لیکن اس خط کو لکھنے کی ایک بڑی وجہ تمھارے چہرے پر پھیلی اداسی کی پریشانی ہے۔ یہ کن جھمیلوں میں بانکپن کی رعنائی کھو کر تم سنجیدہ، سنجیدہ سے نظر آنے لگ گئے ہو۔

مجھے وہ دن بھی یاد ہے جب 7 گھنٹے کی تھکا دینے والی کلاس، اچھل کود اور ڈرامے بازیوں کے بعد بھی تم سات لوگوں کا جھنڈ چھٹی کے وقت سائیکلوں کی ریس لگاتے دمکتے چہروں کے ساتھ گھروں کو لوٹتا تھا اور آج یہ چہرہ ایسا ہے جیسے نئے بستے میں زائد کتابوں کا بوجھ لاد دیا ہو۔

تمھیں یاد ہوگا یہاں بالکل میرے سامنے فروٹ کے ٹھیلے والے چچا جمیل ہوا کرتے تھے۔ صرف سکول کے بچوں کی گاہکی سے ہی ان کی دکان اتنی چلتی تھی کہ رش کم ہی نہیں ہوتا تھا پر پھر بھی وہ کبھی کسی بچے کو خالی ہاتھ نہیں بھیجتے تھے۔ ایک روپے کے سیب سے لے کر تین روپے کا انگوروں کا گچھا تک تم لوگ کیسے ایک دوسرے سے چھین، چھین کر کھایا کرتے تھے۔ مصالحہ لگی ابلی ہوئی چھلیاں، گول گپے اور آلو چاٹ والے مقابلہ بازوں ہانکیں گلی کی دوسری نکڑ تک سنائی دیتی تھی جن کا شور سن کر اکثر پرنسپل صاحب سکول کی کلاس چھوڑ کر ان کی کلاس لینے آ جایا کرتے تھے اور وہ بھی یاد ہے کہ جس دن رزلٹ سنانے کی باری آتی تھی تو تم اپنے ٹیبلوز کی ریہرسل میں پورے سکول کو سر پر اٹھا لیا کرتے تھے اور تو اور وہ جب تمھاری بھاگم بھاگ، برف پانی جیسی کھیلوں میں گرجتے بوٹوں سے میری دوسری منزل کی چھتیں تمھیں خوب صلواتیں سناتی تھی۔ یوں نہیں لگتا جیسے یہ سب کل ہی بات ہو۔

لوگ کہتے ہیں زمانہ بدلنے میں صدیاں ڈھلتی ہیں، یہاں تو آنکھیں بھی نہیں جھپکی گئی اور سب اتنی تیزی سے بدل گیا۔

سچ کہوں تو شاید واقعی بہت کچھ بدل گیا ہے۔ اپنے اندر جھانکوں تو پہلے جیسا کچھ بھی نہیں۔ وہ جن تختہ سیاحوں کو رنگنے کے لیے تم ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی دوڑ میں ہوتے تھے اب تو ان کے نشان تک مٹ گئے ہیں۔ سکول کے مکین رفتہ رفتہ غائب یا کم ہو گئے ہیں لہذا سیڑھیوں کے ساتھ لٹکتی لوہے کی گھنٹی بھی اتار لی گئی ہے۔

اب نہ تو یہاں کوئی ٹھیلے والا آتا ہے اور نہ ہی پرنسپل صاحب! تم کیا گئے اس سکول سے سب کچھ اپنے ساتھ ہی لے گئے۔ جس آنگن میں کبھی چہکنے اور قہقہے لگانے کی آوازیں ہوا کرتی تھی وہاں پہروں سناٹا رہتا ہے۔ لوگ میری دیواروں کے پاس کھڑے ہو کر باتیں کرتے ہیں کہ کوئی وبا آئی ہے جس نے بچوں کو سکول جانے سے روک دیا ہے۔ مجھے نہیں معلوم وہ وبا کون سی ہے مجھے تو بس اتنا پتا ہے کہ میرے سیم زدہ در و دیوار اس سے زیادہ سکوت برداشت نہیں کر سکتے۔ مجھے ان قہقہوں، شرارتوں، چٹکلوں اور ننھی منی بدمعاشیوں کی عادت سی ہو گئی ہے۔

تمھاری زندگیاں جس ڈگر پر چل نکلی ہیں قدرت اس راستوں کو آسان کرے لیکن میں اپنی نرسری کو یوں خشک ہوتے نہیں دیکھ سکتا۔

تمھیں صلاح ہے۔ زندگی کو آسان رکھنا سیکھو۔ وہ ریس جو تم بچپن میں محض کھیل کود کے لیے لگایا کرتے تھے اسے اپنی سماجی اور معاشی زندگی کا حصہ نہ بناؤ۔

ان چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو ڈھونڈو جو تمھارے اردگرد موجود ہیں، ان کی طرف مت بھاگو جو سیراب سی نظر آتی ہیں۔ کیا کرو خود کے چہرے پر وقت سے پہلے سے شکن ڈال کے۔ آگے سے آگے کی منزل ایک فطری عمل ہے۔ جمود تو ہم جیسی بے جان اشیاء کے لیے ہے لیکن چلے جانے کی رسم میں اپنے اندر کے بچپنے کا ہاتھ تھامے رکھو۔ اگر تم میں بھی وہ مسکراہٹیں، قہقہے اور شرارتیں کھو گئی تو پھر اپنے زندہ ہونے کا ٹھپا کیسے دکھاؤ گے۔

مجھے نہیں معلوم زندگی تمھیں کن امتحانوں سے گزار رہی ہے لیکن اس کا رزلٹ سکول کے امتحانوں کی طرح قبول کرو جس میں نمبر بھلے جتنے بھی کم آئیں تمھارے چہروں سے مسکراہٹیں غائب نہیں ہوتی تھی۔

بستے کے زائد بوجھ کی طرح خراب اور فالتو یادیں زندگی کے بوجھ سے کم کر دو۔ ہر نئے دن کو اسی نئی کتاب کی طرح سینچ کر رکھو جس کے ورق سے اٹھنے والی مہک سے تمھیں تاثیر ملتی تھی۔ زندگی کے کسی مقام پر خود یا کسی دوسرے کو مدد کی ضرورت ہو تو اس کا غم بانٹ لو بالکل ایسے ہی جیسے تم سکول کے امتحان میں قلم بانٹ لیا کرتے تھے۔

دس سالوں میں زندگیوں کو دس صدیوں جتنا مت بدلو!

امید کرتا ہوں تم میری باتوں کو کسی اپنے کے مشورے کے طور پر لو گے اور ایک خاص بات کہ خط ملنے کے بعد اس کا جواب لکھنے نہ بیٹھ جانا مسکراتے ہوئے میرے پاس سے گزرنا۔ تمھارا مسکرانا ہی میرا جواب ہوگا۔

سدا خوش رہو۔ والسلام
تمھارا پیارا سکول

Facebook Comments HS