بڑھتے ہوئے جنسی جرائم کا سدباب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کچھ دنوں سے وطن عزیز میں جنسی جرائم اور وزیر اعظم کے بیان کے تناظر میں تبصروں اور چہ مگوئیوں کا سلسلہ جاری ہے، ہمارے معاشرے میں ایسے جرائم ناقابل قبول ہیں اور عوام میں اس حوالے سے خاصہ اضطراب پایا جاتا ہے، دینی مدارس کی اہمیت مسلمہ ہے لیکن ایسے مقدس ماحول میں جہاں ہر وقت قرآن و حدیث کی بات ہو رہی ہو ایسے جرائم کا ارتکاب انتہائی افسوس ناک ہے، یونیورسٹیوں اور دیگر تعلیمی اداروں میں بھی آئے روز ایسے واقعات ہوتے ہیں جو ہمارے معاشرے کے اخلاقی انحطاط کے غماز ہیں، ایسے میں ہم سب کا فرض ہے کہ مل جل کر ایسے اقدامات کیے جائیں جو ان واقعات کے تدارک میں معاون ثابت ہوں۔

انسان اللہ تعالیٰ کی شاہکار تخلیق ہے اور خالق سے زیادہ اس کی نفسیات کو کون جانتا ہے، اگر خواتین کے لئے مناسب لباس کی اہمیت نہ ہوتی تو اس کا حکم ہی کیوں دیا گیا ہے؟ مگر مرد بھی ان احکام سے مبرا نہیں ہیں اور ان کو بھی اپنی عفت و پاکیزگی اور نظروں کی حفاظت کا حکم دیا گیا ہے، اس لئے ہر فرد اگر اسلامی شعار کی پابندی کرے تو ایسے واقعات کا تدارک ممکن ہے، اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ یہ بیانیہ قطعاً درست نہیں کہ صرف عورتوں کا نامناسب لباس ہی جنسی جرائم کا باعث ہے ورنہ کمسن بچوں، قبروں میں مدفون عورتوں، اندھی ڈولفن اور بلی کے بچوں نے کون سا فحش لباس پہنا تھا جو ایسے جرائم کا نشانہ بنے۔

فارغ اور بے کار دماغ شیطان کا کارخانہ ہوتا ہے اس لئے صحت مندانہ سرگرمیاں ذہنی اور جسمانی صحت کے فروغ کے علاوہ ایسے جرائم کی روک تھام میں بھی معاون ثابت ہو سکتی ہیں، ایک عربی مقولہ ہے کہ صحت مند دماغ صحت مند جسم میں ہوتا ہے لیکن بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے کھیل کے میدانوں کی کمی ان سرگرمیوں کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے جو ارباب اختیار کی توجہ کی متقاضی ہے، علاوہ ازیں تعلیمی اور کاروباری اداروں کی سطح پر کھیلوں کا فروغ وقت کی اہم ضرورت ہے، انٹرنیٹ کا بڑھتا ہوا استعمال، مطالعہ اور کتب بینی کے رجحان میں کمی کا باعث ہے اور لائبریریوں کا وجود آہستہ آہستہ ناپید ہوتا جا رہا ہے، حکومتی اور تعلیمی اداروں کی سطح پر علمی اور ادبی سرگرمیوں کا فروغ بھی مجرمانہ رجحانات کے اضافے کی روک تھام میں معاون ہو سکتا ہے۔

صحت مندانہ تفریحی مواقع مفقود ہونے کے باعث بھی مجرمانہ رجحانات میں اضافہ ہو رہا ہے، ٹیلی وژن، سینما اور تھیٹر تفریح کے بڑے ذرائع ہیں لیکن سینما کا زوال اور کیبل اور انٹرنیٹ پر دستیاب مواد بدقسمتی سے گھٹن اور کج روی میں اضافے کا باعث ہے، لہٰذا ملک میں صحت مند تفریحی مواقع مہیا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ غلط ذہنی رجحانات میں اضافے کو روکا جا سکے، میڈیا پر دستیاب مواد کی مناسب روک تھام بھی ضروری ہے کیوں کہ ٹی وی پر پیش کیے جانے والے بعض ڈرامے نا مناسب رویوں کے عکاس ہیں جو معاشرے کو بے راہروی کی جانب لے جاتے ہیں، انٹرنیٹ پر موجود مواد پر بھی قدغن لگانے کی ضرورت ہے تا کہ فحش مواد تک عوام کی رسائی کم ہو اور جنسی گھٹن میں اضافہ نہ ہو سکے۔

قوموں کی ترقی اور شعور اور آگہی میں اضافہ صرف تعلیم کے ذریعے ہی ممکن ہے، تعلیمی نصاب میں جرائم میں کمی کے حوالے سے تبدیلی نا گزیر ہے اور تعلیم ہی وہ واحد ذریعہ ہے جس سے معاشرے کی اجتماعی سوچ میں تبدیلی ممکن ہے، کم عمر اور معصوم بچے زیادہ تر جنسی جرائم کا نشانہ بن رہے ہیں اس لئے تعلیمی نصاب میں اس نکتہ نظر سے تبدیلی ضروری ہے تاکہ بچوں میں ایسے واقعات سے بچنے کا شعور بیدار کیا جا سکے۔ اس سلسلے میں میڈیا کا رول بھی بہت اہم ہے، عوام میں شعور اور آگہی کے لئے الیکٹرانک، پرنٹ اور سوشل میڈیا پر ایسی مہم چلائی جائے جو ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے معاون ہو۔

سزا و جزا کا تصور انسان کی سرشت میں شامل ہے لہٰذا سخت ترین سزاوں پر عمل درآمد اور ان کی تشہیر اور اسلامی سزاوں پر عمل درآمد بھی ایسے قبیح جرائم کے سدباب کے لئے ضروری ہے، بعض لوگ اسلامی سزاوں کو وحشیانہ فعل گردانتے ہیں لیکن ان کا مقصد جرائم کی بیخ کنی ہے، قرآن کریم کی ایک آیت کا مفہوم ہے کہ قتل کے قصاص میں زندگی ہے یعنی قصاص پر عمل درآمد سے آئندہ بہت سی زندگیاں بچائی جا سکتی ہیں، بعینہٖ تمام اسلامی سزاوں کا مقصد جرائم کا سدباب ہے اس حوالے سے قوانین میں ترامیم کی اشد ضرورت ہے مثلاً جنسی جرائم کی روک تھام کے لئے نامرد بنانے کے قانون کا نفاذ کیا جا سکتا ہے۔

ہر فرد اس حساس مسئلے پر اپنی انفرادی ذمہ داری ادا کرے، تعلیم، شعور و آگہی، بنیادی اسلامی تعلیمات اور معاشرتی روایات کی پاسداری ہی ان مسائل کا حل ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments