کالا دل



آج سکول کے کوریڈور میں بیٹھے کچھ نو دس سال کی بچیاں ڈرائینگ کر رہی تھیں، جبکہ آفس میں بیٹھے میں اپنا کام کرنے میں محو تھی۔ اچانک ایک آواز میرے کانوں میں پڑی، ”دل میں کالا نہیں لال رنگ کرتے ہیں، کالا دل تو ان کا ہوتا ہے جن کا دل ٹوٹا ہوا ہو۔“ میں نے اندر بیٹھے ہی بچی کا نام لے کر مخاطب کرتے ہوئے بے ساختہ کہا، ”بچے! جن کا دل ٹوٹا ہوا ہو ان کا دل کالا نہیں ہوتا۔“ سب بچیاں چونک گئیں کہ ان کی باتیں سنی جا رہی تھیں وہ ڈر کے مارے بھاگ گئیں۔

وہ تو ڈر کے مارے بھاگ گئیں لیکن یہ بات میرے خیالات میں کہیں دبک کر بیٹھ گئی، ”جن کا دل ٹوٹا ہوا ہو ان کا دل کالا ہوتا ہے۔“ شاید ان بچوں کو ٹوٹے ہوئے دل کی سمجھ نہیں یا پھر وہ کالے رنگ کی خاصیت نہیں جانتے۔ یقینا وہ نہیں جانتے ہوں گے کہ کالا رنگ کوئی عام رنگ تو نہیں ہوتا؛ ایک یہی رنگ تو سب رنگوں کو خود میں سمیٹنے کا خاصہ رکھتا ہے، سب منفی سوچوں کے رنگ، سب مثبت باتوں کے رنگ، لوگوں کے بدلتے رویوں کے رنگ، بدلتے لہجوں کے رنگ، سخت لفظوں کے تازیانوں کے رنگ، ڈھلتی عمر کے بے رونق دنوں کے رنگ، ظاہری دوستی کے رنگ، مخفی عداوت کے رنگ، بے رنگ آنسوؤں کے رنگ، رنگ برنگی نفرتوں کے رنگ، بناوٹی ہنسی کے رنگ، جھوٹی تعریفوں کے رنگ، وقت گزاریوں کے رنگ، چمکتے دھوکوں کے رنگ۔

”نادان ہیں وہ جو نہیں جانتے کالے رنگ کا مطلب۔“ پھر ایک دم خیال آیا ارے نادان تو میں ہوں۔ وہ تو ٹھیک کہہ رہی ہیں ٹوٹا ہوا دل کالا ہی تو ہوتا ہے ان کا لاجک کچھ اور ہو شاید لیکن جو باتیں میں نے سوچیں ان کے مطابق تو اتنا سب سہ سہ کر دل کالا ہی ہو جاتا ہے کہ اگر ٹوٹے ہوئے دل کا کوئی اور رنگ ہوتا تو کیسے سب جذب کر پاتا؟ کیسے سہ پاتا وہ کڑوے لہجے، بدلتے لوگ؟ وہ تو اور ہی ٹوٹ جاتا، چکنا چور ہو جاتا۔

پھر اچانک مجھے خیال آیا ارے میں اتنا زود حس کیوں ہو رہی ہوں میرا کون سا دل ٹوٹا ہے ؛ اسی خیال کی موجودگی میں ہی ایک اور خیال آن بیٹھا، ”یہ دل ٹوٹنا کیا ہوتا ہے؟“ مجھے تو خود کو بھی نہیں معلوم تھا کی دل ٹوٹنا کیا ہوتا ہے تو ایسے ہی ان بچوں کا ’کانسیپٹ کلیئر‘ کرنے بیٹھ گئی تھی۔ اب خیال نے ٹوٹے دل کا معنی سمجھنے کا سوال اٹھا لیا۔ بائیولوجی تو کہتی ہے دل میں کوئی ہڈی نہیں ہوتی تو دل کیسے ٹوٹ سکتا ہے؟

دل تو گوشت کا ایک لوتھڑا ہے یہ ٹوٹ تو نہیں سکتا ہاں کٹ سکتا ہے ؛ پھٹ سکتا ہے، ’مائیو کارڈئیل انفارکشن‘ بھی ہو سکتا ہے لیکن دل ٹوٹ نہیں سکتا۔ یہ میرے خیالات کی عقل بھی کیا عجیب گھوڑے دوڑانے بیٹھ جاتی ہے۔ گھوڑے دوڑتے دوڑتے جب تھک کے بیٹھے تو ایک اور خیال میرے گزشتہ خیال کے ساتھ ہی آن بیٹھا، دل تو ایک کاسہ ہے جو محبت کی بھیک مانگنے کے لیے ہمارے کوزہ گر نے بڑی مہارت سے احساس کی مٹی گوندھ کر بنایا ہے۔

یہ کوزہ تو ہر بشر کو سونپا گیا ہے، ”لو تھامو! اور جاؤ مانگو دنیا سے محبت کی بھیک؛ اور جب مانگ مانگ کر تھک جاؤ، ہار جاؤ، ٹوٹ جاؤ تو توڑ دو اپنا یہ غرور جو تم سینے میں سمیٹے پھرتے ہو۔ توڑ دو اپنا بھی اور اپنے ساتھ جڑے ہر شخص کا کاسہ، اٹھا کر دور پھینکو جھوٹی محبتوں سے لبریز یہ کوزہ؛ اور جب ٹوٹ جائے تو اس کی کرچیاں اٹھاؤ، ایک ایک کر کے اکٹھی کرو، خود کو چھلنی کرو، ڈھونڈو کچھ بھی چھوڑنا نہیں سب اکٹھا کر کے میرے پاس لے آؤ بھلے ہی کتنی چھوٹی کرچیاں ہوں مجھے اس بات کی پرواہ نہیں ؛ تمہیں ان چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کے بدلے میں بھی میری محبت ملے گی۔ لیکن یہ شرط لازم ہے کہ یہ ٹکڑے میرے پاس لائے جائیں کیونکہ ان کا بنانے والا میں ہوں اور ان کا اصل قدر دان بھی میں ہی ہوں۔ میں ہی ہوں جو ان کرچیوں کو جوڑ کر ایک نیا دل بنانے کی قدرت رکھتا ہوں۔“

خیال اور سوال ہمیشہ بے تکے ہی ہوتے ہیں اور انہی بے تکے خیالوں کو قبول کرنے والے اور بے تکے سوالوں کو حل کرنے والے خود کو ذی شعور سمجھ بیٹھتے ہیں۔ میں تو کم عقل ہوں جو ایسے بے تکے خیالات کو پال رکھا ہے کہ دل تو کالا نہیں ہوتا۔ جب کہ اس کا بنانے والا ہی اس کو کالا بناتا ہے تا کہ اس میں چھپی اپنی محبت کو بد نظری سے بچا کے رکھے۔ دل تو سب کا ٹوٹتا ہے کسی کا کم سنی میں اور کسی کا ادھیڑ عمری میں۔ وجہ ہوتی ہے دنیا کی محبت اور یہ ٹوٹا دل ہی ہمیں دنیا کی رنگینیوں میں پھر سے بھٹکنے سے بچا لیتا ہے۔

یہ ٹوٹا دل ہمیں باہر سے تو مار دیتا ہے مگر اندر سے زندہ رکھتا ہے یہ ٹوٹا دل ہی ہمیں اس کے کوزہ گر کی جانب رخ کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ میرے خیال نے مجھے بتایا کہ ثابت لال دل دنیا کے دلال کا ہوتا ہے جب کہ ٹوٹا کالا دل آسمانی تحفہ ہے۔ پھر آخری خیال نے میرے ٹوٹے کالے دل کو اپنی مٹھی میں دبوچ لیا، ”یہ لال کالے، ثابت ٹوٹے دل بنانے کی ان بچوں کو کیا سوجھی؟“