پاکستان اور امریکہ کے تعلقات اور طالبان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کے جانب سے بیانات دیے جانے کے بعد سے ہی پاکستان اور امریکہ کے مابین تعلقات خاصی روشنی میں ہیں، جہاں انہوں نے امریکا کو ہوائی اڈے دینے سے انکار کر دیا۔ اور کہا ”بالکل نہیں“ ، تو دوسری جانب اس فیصلے کی وضاحت واشنگٹن پوسٹ میں دے دیں۔

تب سے، طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے امریکی حکومت کے افغانستان سے انخلا کے بعد امریکی فوجیوں کو اپنے فوجی اڈے نہ دینے کے پاکستانی حکومت کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے، اور امریکی حکومت پر سکون ہے جیسا کہ ہمیشہ نظر آتا ہے۔

عمران خان کے بیان سے متعلق سوال کے جواب میں امریکہ محکمہ خارجہ نے ہمیں بتایا ”امریکہ دوسری قوموں کی خودمختاری اور ان کی قومی سلامتی کے مفاد میں ان کے فیصلے کرنے کی صلاحیت کا احترام کرتا ہے“ ۔

لیکن بیان بازی کے پیچھے، دونوں فریق اس سے کہیں زیادہ محتاط انداز میں جواب دے رہے ہیں جو کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں دی گئی اپنی رائے میں کہا ہے کہ ”پاکستان امریکہ کے ساتھ افغانستان میں امن کے لئے شراکت دار بننے کے لئے تیار ہے لیکن امریکی فوجیوں کے انخلا کے بعد ہم مزید تنازعات کے خطرے سے بچیں گے۔

پاکستان میں، کچھ لوگ تصور کرتے ہیں کہ خان کے اعلان کو علامتی اہمیت سے زیادہ کچھ تو حاصل ہوگا۔

امریکی محکمہ خارجہ نے پاکستان کی تعریف کرتے ہوئے ہمیں بتایا ”ہم پاکستان کے افغانستان میں امن کو آگے بڑھانے میں مدد کرنے پر پاکستان کے اقدام کی تعریف کرتے ہیں“ ۔

لیکن یہاں سب سے بڑا مسئلہ افغانستان سے امریکی فوجوں کا انخلا ہے، جو لگ بھگ دو دہائیوں سے افغانستان میں طالبان کے خلاف لڑ رہی تھی، اور موجودہ صورت حال یہ ہے کہ طالبان بہت تیزی سے افغانستان کی سر زمین پر قابض ہو رہی ہے، واشنگٹن نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ آنے والے چھے مہینوں میں طالبان کابل کو اپنے قبضے میں لے سکتے ہیں، اور واشنگٹن کو اندازہ ہے کہ طالبان اتنی صلاحیت رکھتے ہیں کہ امریکی افواج کے انخلا کو موقوف یا الٹ دی۔

ان خدشات کو مد نظر رکھتے ہوئے، امریکہ خفیہ ادارے سی آئی اے نے یہ بات ضروری سمجھی، کہ امریکی افواج کو افغانستان سے نکالنے کے لئے پاکستان میں ان کو ہوائی اڈے درکار ہے، فوج کے انخلا کے دوران اگر طالبان نے مزاحمت کی تو امریکہ با آسانی سے ان پر ڈرون حملے کر سکتا ہے۔

امریکی مداخلت اور افغانستان سے انخلا۔

افغانستان میں امریکی فوج نے مداخلت 11 ستمبر 2001 کو امریکا میں ہوئے دہشت گردانا حملوں کے جواب میں کیا، اس وقت کی امریکی صدر جارج بش نے دنیا میں موجود تمام ممالک کو مخاطب کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا تھا، القاعدہ اور افغان طالبان حکومت کے خلاف فوجی مہم چلانے میں ”یا آپ ہمارے ساتھ ہیں یا ہمارے خلاف“ ۔

مجبوراً پاکستان کو بھی امریکا کا ساتھ دینا پڑا تھا، پاکستان کے اس وقت کے صدر پرویز مشرف نے بی بی سی کو دی ہوئی اپنی انٹرویو میں کہا تھا

” ہمارے پاس اس وقت کوئی اور رستہ نہیں تھا“ ۔

امریکی محکمہ خارجہ نے پاکستان سے متعلق انکوائری رپورٹ میں ہمیں یہ بھی کہا کہ ”یونائیٹڈ سٹیٹ نے ہمیشہ ایک مضبوط، خوشحال، اور جمہوری پاکستان کو امریکی مفادات کے لئے اہم سمجھا ہے۔“

گزشتہ 19 سالوں میں نیٹو کو بہت بھاری نقصان اٹھانا پڑا، 22,000 سے زیادہ فوجی casualtie سامنے آئی (جن میں تقریباً 2، 400 اموات شامل ہیں ) ، ساتھ ہی ساتھ اربوں کھربوں ڈالر بھی گوانے پڑے۔

امریکہ کے ساتھ جنگ لڑتے ہوئے پاکستان کو بھی بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے، جس کا حساب لگانا مشکل ہے، اب تک کی رپورٹس کے مطابق پاکستان میں دہشت گردی کے باعث 70 ہزار سے زیادہ لاشے دفنانی پڑیں، جن میں سے 2 ، 714 افراد امریکا کی جانب سے پاکستان پر 2004 سے کی گئی ڈرون حملوں میں 409 کے قریب افراد مارے گئے، پاکستان میں آخری ڈرون حملہ 7 اپریل / 2018 کو جنوبی وزیرستان میں تورتنگی کے مقام پر ہوا تھا۔

دو دہائیوں سے جاری جنگ کے خاتمے کا آغاز
14 اپریل 2021 کو صدر بائیڈن کے اعلان کے بعد ہوا۔

امریکی عوام کے لاجسٹک سامان قیمتوں کے کیٹلاگ سے متعلق نیٹو اسٹاک نمبر کے ریکارڈ کے ساتھ لیک ہونے والی دستاویز میں، ہم نے دریافت کیا ہے کہ افغانستان میں کم از کم 1 1، 112، 765، 572 ڈالر مالیت کے امریکی فوج کے زیر انتظام فوجی ساز و سامان موجود ہیں (اصل قیمت دو یا تین گنا زیادہ ہونے کا امکان ہے ) ۔

اب ایک محفوظ انخلاء یہ ہوگا کہ اس تمام سامان کو واپس امریکہ پہنچائے جائے بغیر کسی نقصان کے۔

ایک بار پھر پاکستان امریکہ کے لئے سب سے اہم ملک بن گیا ہے۔ افغانستان میں 20 سالہ امریکی موجودگی کے مرکز میں رہنے والا C۔ I۔ A جلد ہی اس ملک میں اپنے اڈے کھو دے گا جہاں سے اس نے جنگی مشن اور ڈرون حملے چلائے ہیں اسی لئے وہ پاکستان سے اڈوں کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

امریکی عہدیداروں نے ہمیں بتایا کہ ”بائیڈن انتظامیہ نے خطے میں سلامتی کو فروغ دینے کے لئے ہم (پاک یو ایس ) نے مل کر کی گئی پیشرفت کو آگے بڑھانے کی ضرورت کو تسلیم کیا ہے، جیسے افغانستان میں امن قائم کرنا اور اقتصادی اور تجارتی تعاون میں اضافہ کے لئے ہماری باہمی خواہش جس سے ہمارے دونوں ممالک کو فائدہ ہو“ ۔

طالبان نے بھی واضح کر دیا ہے، کے وہ افغانستان میں کسی بھی غیر ملکی مداخلت کو تسلیم نہیں کرے گا۔
طالبان۔

اسلامی فقہ حنفی مکتب فکر میں طالبان کا نظریہ گہرا ہے۔ طالبان رہنما شریعت ( ’اسلامی‘ قانون) کے ذریعہ حکومت کے قیام اور افغانستان میں ”اسلامی امارت“ کے قیام کی حمایت کرتے ہیں۔ طالبان کو اس لحاظ سے ایک ”قوم پرست“ تحریک قرار دیا گیا ہے کہ ان کے رہنما برائے نام اسلامی خلافت کے بجائے ’اسلامی امارت‘ کے حامی ہیں۔

مجموعی طور پر امریکہ نے اندازہ لگایا ہے کہ کل وقتی طالبان جنگجوؤں کی تعداد کم تخمینے 55,000 سے لے کر 85,000 زیادہ تخمینے تک ہے، حالانکہ طالبان کے سہولت کاروں اور انٹیلی جنس کارکنوں کی تعداد ممکنہ اندازے سے ایک لاکھ سے زیادہ اہلکاروں تک پہنچاتی ہے۔

ان طالبان نے دنیا کی سب سے بڑی اور مضبوط فوجی قوتوں کے خلاف دہائیوں سے جنگیں لڑی ہیں، اور پھر بھی وہ اپنے گہرے جڑے نظریے پر قائم ہیں، بالواسطہ طور پر افغان طالبان اور امریکا کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے بعد طالبان دنیا کی مضبوط ترین قوتوں میں شامل ہو گئے ہیں۔

گزشتہ 21 تاریخ کو امریکی انٹلیجنس رپورٹ نے واشنگٹن کو متنبہ کیا تھا کہ کابل میں موجودہ سیٹ اپ امریکی انخلا کے بعد چھ ماہ کے اندر ہی گر سکتا ہے۔ جس پر واشنگٹن نے طالبان کو متنبہ کیا ہے کہ دنیا افغانستان میں طاقت کے ذریعے مسلط کردہ حکومت کو قبول نہیں کرے گی۔

پاکستان اور امریکہ کے تعلقات
پاکستان اور امریکہ کے تعلقات 1947 سے دونوں ممالک کے مابین پہلی اعلی سطحی تبادلے سے ہوئے۔

امریکہ تاریخی طور پر پاکستان کے ترقیاتی شراکت داروں میں سے ایک رہا ہے اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ اس کی سب سے بڑی برآمدی منڈی میں سے ایک ہے۔

حالیہ برسوں کے دوران امریکہ، پاکستان کے تعلقات میں زبردست تبدیلی آئی ہے، اور بیشتر موقعوں پر اسے اتار چڑھاؤ کا سامنا کرنا پڑا ہے، جیسے تاریخ کا فیصلہ ہے کہ پاکستان کبھی کبھی واشنگٹن کے لئے اہم ہے اور اربوں ڈالر کی امداد وصول کرتا ہے جبکہ بعض اوقات اس کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔

لیکن پاکستان اب امریکہ کے لیے وقت کی ضرورت ہے، پاکستان اب افغانستان میں امن کی بحالی اور امریکی فوج کے انخلا کی کوششوں میں اہم کردار ادا کرے گا۔

لیکن افغانستان کے امن کی بحالی کی طرف دونوں ممالک کے نقطہ نظر میں ایک قطعی حیثیت موجود ہے، جس نے اس تعلقات کو غیر یقینی صورتحال کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔

ایک طرف، وزیر اعظم، عمران خان کا اصرار ہے کہ دہائیوں سے جاری اس تنازعے سے نکلنے کا واحد راستہ پائیدار امن معاہدے کے ذریعے ہی ہے جس میں 70 ہزاروں سے زیادہ پاکستانی جانوں کو سپرد خاک کیا گیا ہے۔

دوسری طرف، امریکہ نے افغانستان کو ناکام مذاکرات کے قبرستان کے نام سے جانا ہے، سی آئی اے کے مطابق طالبان کے القاعدہ کے ساتھ تعلقات ہیں، لیکن اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ اب امریکی انٹیلی جنس نے پاکستان میں اڈے حاصل کرنے پر اصرار کیا لیکن وزیراعظم عمران خان نے ”بالکل نہیں“ کہہ کر اسے ناممکن کر دیا، لیکن اس بیان سے کوئی بھی اسرار حل نہیں ہوتا ہے۔

ایک انٹرویو میں، عمران خان نے کہا کہ امریکی انتخابات کے بعد ان کے اور صدر جو بائیڈن کے مابین ایک بھی ٹیلی فونک گفتگو نہیں ہوئی۔ تو دوسرے طرف افغانستان کا صدر واشنگٹن کے دورے پر ہے، لیکن یہ وہ صدر ہے جو اپنے ہی ملک میں ناکامی کا شکار ہے۔

اس وقت دنیا میں سب سے بڑا مسئلہ افغانستان میں امن کے قیام کا ہے، امریکی صدر جو بائیڈن اور پاکستانی وزیراعظم عمران خان اس مسلے کے دو اہم کردار ہے۔

دنیا کو دونوں ممالک کے مابین کھلے رابطے کی ضرورت ہے، جس کے لئے عمران خان اور جو بائیڈن کو ان اہم امور پر تبادلہ خیال کرنے کے لئے بات کرنے کی ضرورت ہوگی، اگر امریکی فوجیوں کے انخلا کے بعد صورتحال مزید خراب ہوتی ہے تو، یہ افغانستان میں ایک اور خانہ جنگی کا باعث بن سکتا ہے اور اس کا براہ راست اثر پاکستان کو ایک تباہ کن صورتحال میں دھکیل سکتا ہے جو زندگی کے تمام پہلوؤں کو نقصان پہنچائے گا


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
سہیل خان، سوات کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments