سندھ یونیورسٹی کی ڈکٹیٹر انتظامیہ اور میٹرک فیل صحافی
سندھ یونیورسٹی اور صحافیوں کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ رہا ہے، جیسے مچھلی بغیر پانی نہیں رہ سکتی بالکل اسی طرح سندھ یونیورسٹی بغیر صحافیوں کی نہیں رہ سکتی۔ یہی وہ صحافی تھے جو سابق وائس چانسلر نظیر مغل کی ہٹ دھرمی کو اعلیٰ ایوان تک پہنچاتے تھے، یہی وہ میٹرک فیل صحافی ہیں جو اساتذہ کے ہر جائز مسائل کو اخبار کی زینت بنا کر حکمرانوں کی آنکھوں کے سامنے لاتے ہیں، اسی صحافیوں نے ہی بر وقت کی کرپشن کو بے نقاب کیا تھا، یہ ہی وہ صحافی ہیں جو ہر دفعہ آپ کی آواز بنتے ہیں، یہی میٹرک فیل صحافی آپ کے لیے ہمیشہ پل کا کردار ادا کرتے آئے ہیں۔
عرفانہ ملاح صاحبہ! فرض کریں اگر ان ہی میٹرک فیل صحافیوں نے آپ کی آواز کو اعلیٰ ایوانوں تک نہ پہنچایا ہوتا تو آپ کی درد بھری کتھا کون سنتا؟ یہ میٹرک فیل صحافی ہی تھے جو سوشل میڈیا کے آنے سے پہلے بھی آپ کے جائز مسائل اجاگر کرتے تھے، ان ہی میٹرک فیل صحافیوں نے سندھ یونیورسٹی کے طلباء، ملازم اور اساتذہ کے مسائل کو اپنا سمجھ کر ہمیشہ اجاگر کیا ہے پر میڈم صاحبہ آپ کا نزلہ ہمیشہ ان بغیر لالچ والے میٹرک فیل صحافیوں پر ہی کیوں گرتا ہے؟
سندھ یونیورسٹی وہ ادارہ ہے جہاں غریب، مزدور، کسان اور ریڑھی بان کا بچہ تعلیم جیسے زیور سے آشنا ہوتا ہے، یہ وہ مادر علمی ہے جو ہر اس غریب کے لیے باہیں پھیلائے رکھتی جو علم کی پیاس بجھانا چاہتا ہو۔
ایک طرف کرونا کی صورتحال میں جہاں پوری دنیا متاثر ہوئے وہاں غریب عوام کے لیے دو وقت کی روٹی کا بندوبست کرنا بھی کسی عذاب سے کم نہیں، ایسی غیر معمولی اور غیر یقینی والی صورتحال میں سندھ یونیورسٹی کی بے رحم انتظامیہ نے بنا کچھ سوچے سمجھے سالانہ فیسوں میں اضافہ کر کے طلباء پر بم گرا دیا ہے، میرٹ، سیلف فائنانس اور اسپیشل سیلف فائنانس میں کم و بیش 100 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، ایک طرف تو سال 2020 اور سال 2021 میں سارا نظام آن لائن چلایا گیا اس کے باوجود فیس میں غیر معمولی اضافہ ”آپ کھاؤ“ پالیسی کو واضح کرتا ہے۔ جبکہ انتظامیہ کا کردار روز اول سے ”مال مفت دل بے رحم“ والا رہا ہے۔
گزشتہ ایک ہفتے سے طلباء اس ناجائز اقدامات کے خلاف سراپا احتجاج ہیں، اور ان کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ ”فیسوں میں اضافہ نامنظور“ جہاں غریب طلباء یونیورسٹی آنے جانے کے لیے پریشان ہیں وہیں انتظامیہ کا فیسوں میں اضافہ کسی ایٹم بم سے کم نہیں۔
دوسری طرف پیپلز پارٹی سرکار بجائے طلباء کی داد رسی کرنے کے الٹا طلباء کو ہی ہراساں کرنے میں مصروف ہے، دو روز قبل وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر برائے یونیورسٹیز اینڈ بورڈز نثار کھوڑو نے سندھ یونیورسٹی کے طلباء کے احتجاج میں شریک ہو کر طلباء کو چپ رہنے کی ہدایات جاری کیں، اور طلباء کے جائز مطالبات سننے کے بجائے ان سے بدتمیزی کرتے دکھائی دیے، کھوڑو صاحب وہ بدمست گھوڑا ہے جو کبھی اپنے ہوش و حواس میں نہیں رہتا جو موں میں آتا ہے بول دیتا ہے، جیسے طلباء ان سے کوئی بھیک مانگ رہے ہوں۔
سونے پہ سہاگا یہ ہے کہ اساتذہ کی لیڈر عارفانہ ملاح بھی انتظامیہ کی زبان بول رہی ہیں جس کو کسی زمانے میں مزاحمت کی علامت سمجھا جاتا تھا اس نے اب اپنے سارے ہتھیار ڈال کر مفاہمت کی راہ اپنائی ہوئی ہے۔ اور اپنا سارا غصہ انتظامیہ کے بجائے صحافیوں پر نکال کر خود بری و ذمہ ہونا چاہتی ہیں۔ تاہم اس ساری صورتحال میں پیپلز پارٹی کی طلباء تنظیم بھی غائب دکھائی دیتی ہے، محسوس ایسا ہوتا ہے کہ یہ تنظیم بھی سرکاری ٹھیکیدار کی طرح نفع نقصان دیکھ کر کام کرتی ہے۔
جناب نثار کھوڑو، وائس چانسلر صدیق کلھوڑو صاحب اور میڈم عرفانہ ملاح صاحبہ تاریخ بڑی بے رحم اور ظالم ہے، خدارا طلباء پر رحم کریں، فیسوں میں غیر معمولی و قانونی اضافہ واپس لے کر طلباء کے زخموں پر مرہم رکھی جائے۔


