پارلیمنٹ کا گرتا ہوا معیار



پاکستانی سیاست اس وقت تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہی ہے۔ سیاستدان اپنی بقا کی لڑائی لڑنے میں مصروف ہیں۔ کیوں کہ ملکی سیاست مسلسل ایک دائرے کے ارد گرد گھوم رہی ہے۔ اور اس کا کوئی کنارہ کسی کو نہیں دکھائی دے رہا۔ اس کے علاوہ سیاستدانوں کے درمیان خلیج میں بھی دن بدن اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ جو جمہوریت کے لئے نیک فال نہیں ہے۔ اگرچہ پارلیمنٹ پوری طرح فنکشنل ہے۔ مگر اس کا حال بھی بہت پتلا ہے۔ اراکین کی اکثر تعداد پارلیمانی امور اور قواعد و ضوابط سے ناواقف دکھائی دیتی ہے۔

سرکاری بنچوں پر بیٹھنے والے زیادہ تر اراکین خلاف توقع اسمبلیوں میں پہنچ تو گئے۔ مگر بدقسمتی سے ان کی کارکردگی اطمینان بخش نہیں ہے۔ البتہ وہ گالم گلوچ اور مخالفین پر کتابیں وغیرہ پھینکنے میں بڑی مہارت رکھتے ہیں۔ اس کا عملی مظاہرہ انہوں نے قائد حزب اختلاف کی بجٹ تقریر کے دوران بڑی خوش اسلوبی سے کیا۔ ماضی میں بھی اسمبلیوں میں لڑائی جھگڑوں کی روایت رہی ہے۔ مگر اس دفعہ ایوان میں جو کچھ ہوا۔ اس کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔

بجٹ کی بے جان کاپیاں گولیوں کی طرح ادھر سے ادھر پھینکی جا رہی تھیں۔ ان کاپیوں پر لکھی ہوئی قرآنی آیتوں کی حرمت کا نہ کسی کو لحاظ تھا۔ اور نہ ہی اللہ پاک کے ان 99 ناموں کے تقدس کا پاس جو ہال میں آویزاں ہیں۔ سارجنٹ ایٹ آرمز بے بسی کی تصویر بنے سارا منظر دیکھ رہے تھے۔ مگر وہ اس صورت حال پر قابو پانے میں ناکام رہے۔ اس سارے معاملے کا افسوس ناک پہلو اس وقت سامنے آیا جب وفاقی وزیر کے مرتبے پر فائز دو خواتین نے اس ہنگامے میں اپنا حصہ ڈالا اور جگ ہنسائی کا موجب بنیں۔ یہ سلسلہ تین دن تک چلتا رہا۔ اور چوتھے روز مہربانوں کے اشارے پر ایوان کا ماحول قدرے پرسکون ہوا۔ اور میاں شہباز شریف کی بجٹ تقریر ممکن ہو سکی۔

درحقیقت پارلیمنٹ کے اراکین کی بنیادی ذمہ داری عوامی مسائل اجاگر کرنا اور ان کے حل کے لئے قانون سازی کرنی ہوتی ہے۔

مگر بدقسمتی سے برسراقتدار پارٹی کے زیادہ تر ممبران اہلیت کے فقدان کی وجہ سے مطلوبہ نتائج دینے سے قاصر ہیں۔ وہ قیادت کے سامنے ہیرو بننے کے لئے ہمیشہ کوشاں رہتے ہیں۔ اسی لئے اپوزیشن راہنماؤں کی تقاریر کے دوران ہوٹنگ کرنے اور نازیبا فقرے کسنے میں مشغول دکھائی دیتے ہیں۔ دراصل سارا کیا دھرا ان کی خام تعلیم کا بھی ہے۔ پرویز مشرف نے اپنے دور حکومت میں پارلیمنٹ کا رکن بننے کے لئے گریجویشن کا قانون پاس کیا تھا۔

جس کے مثبت نتائج ظاہر ہونا شروع ہو چکے تھے۔ مگر بعد میں یہ قانون ختم کر کے خواندہ یا نیم خواندہ سب کے لئے ایوان کے دروازے کھول دیے گئے۔ جس کی وجہ سے ہمارے پہلے سے پرہنگم معاشرے پر دوررس اثرات مرتب ہوئے۔ کونسلر کی سطح کے لوگ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ممبر منتخب ہو گئے۔ اور پھر چراغوں میں روشنی نہ رہی۔

نوے کی دہائی میں پارلیمان ماضی کے نامی گرامی ستاروں سے مزین ہوا کرتی تھی۔ جس میں نوابزادہ نصراللہ، مولانا شاہ احمد نورانی، عبدالولی خان، پروفیسر غفور احمد، عبدالحفیظ پیرزادہ، شاہ فرید الحق اور پیر صاحب پگاڑا شریف جیسے ہیوی ویٹ سیاستدان شامل تھے۔ آئینی اور قانونی نکات کے علاوہ پارلیمانی امور میں مہارت ان زعماء میں بدرجہ اتم موجود تھی۔ وہ جب ایوان میں ڈیبیٹ کا حصہ بنتے تو دیکھنے اور سننے والے ان کی تقاریر سن کر مبہوت رہ جاتے۔ ایک دوسرے کے خلاف بات کرتے وقت تہذیب کا دامن تھامے رکھنا ان کے مزاج میں شامل تھا۔

آج بدقسمتی سے ایوان میں ڈیسک پر چڑھ کر تاک تاک کر نشانہ لگانے والے تو موجود ہیں۔ مگر وہ پارلیمانی مہارت اور اخلاقی اقدار سے کوسوں دور کھڑے ہیں۔

قومی اسمبلی اور پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ہونے والی ہلڑ بازیوں کا اگر جائزہ لیا جائے۔ تو ماضی میں مرحوم صدر غلام اسحاق خان کی صدارتی تقریر کے دوران محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی قیادت میں پیپلز پارٹی کے اراکین اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر ”گو بابا گو“ کے نعرے ضرور لگایا کرتے تھے۔ مگر شائستگی کا دامن تھامے رکھتے۔ یہ سلسلہ مرحوم فاروق لغاری، رفیق تارڑ کے ادوار میں بھی جاری رہا۔ سابق آمر پرویز مشرف کے دور صدارت کے دوران جب قومی اسمبلی وجود میں آئی تو پارلیمانی سال کے آغاز پر ان کی صدارتی تقریر کے دوران بھی اراکین پارلیمنٹ نے گو مشرف گو کے زور دار نعرے لگائے۔

اس ہنگامہ آرائی کے دوران اس دور کے ڈکٹیٹر کے چہرے کے تاثرات سے برہمی اور بے چینی صاف ظاہر ہو رہی تھی۔ اسی لئے تقریر کے اختتام پر انہوں نے اپوزیشن بنچوں کی طرف رخ کر کے مکہ لہرایا اور ایوان سے رخصت ہو گئے۔ اس کے بعد جب تک وہ صدارتی کرسی پر براجمان رہے۔ انہوں نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرنے کی ہمت نہیں کی۔

Facebook Comments HS