افغانستان کو منقسم کرنے کے منصوبے؟
سابق صدر آصف زرداری نے اگست 2010 میں فرانسیسی اخبار Le Monde کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ”اتحادی افواج، افغانستان میں (افغان) طالبان کے خلاف جنگ میں شکست کھا رہی ہیں، اس جنگ میں دنیا کو متحد ہونا چاہیے نہ کہ تقسیم۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگرچہ (افغان) طالبان کا افغانستان میں برسراقتدار آنے کا امکان نہیں ہے تاہم ان کی گرفت پہلے سے مضبوط ہے ’یہ بات سب سے اہم ہے کہ ہم لوگوں کے دل و دماغ جیتنے کی جنگ میں شکست کھا رہے ہیں‘ امریکی اور اتحادی افواج نے افغانستان کے زمینی حقائق کا غلط اندازہ لگایا ہے ’صرف طاقت کے استعمال سے جنگیں نہیں جیتی جا سکتی“ ۔ افغان جنگ پر امریکہ نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے سابق صدر کے موقف کو رد کر دیا تھا۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان رابرٹ گبس نے کہا تھا کہ،‘ میرا نہیں خیال کہ صدر اوباما، صدر زرداری کے موقف سے اتفاق کریں گے۔ ’
11 برس بعد وزیراعظم عمران خان نے سابق صدر کے موقف کی ایک طرح سے توثیق کی کہ پاکستان نے امریکہ کا ہمیشہ ساتھ دیا لیکن اس نے ہمیشہ ہمیں ہی برا کہا۔ سابق صدر زرداری نے مستقبل کی پیش گوئی کرتے ہوئے بتا دیا تھا کہ امریکہ اور نیٹو زمینی حقائق کے برعکس عمل پیرا ہیں، زمینوں کو فتح کرنے کے بجائے اگر دلوں کو فتح کرنے کی پالیسی اپنائی جاتی تو آج امریکہ کو بدترین شکست کا سامنا نہ ہوتا۔ وزیراعظم نے بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کو دیے انٹرویو اور اپنے آرٹیکل میں دو ٹوک موقف دیا کہ امریکہ کو اب کوئی فضائی اڈا نہیں ملے گا اور افغان طالبان کے خلاف بھی کوئی فوجی کارروائی نہیں کی جائے گی۔
وزیراعظم نے واضح پالیسی بیانیہ امریکی رویے کو دیکھتے ہوئے اختیار کیا، خیال رہے کہ راقم نے 11 جون کو ’روزنامہ جہان پاکستان‘ میں شائع اپنے کالم میں وزیراعظم سے امریکہ کو فضائی اڈے دینے کی افواہوں پر واضح پالیسی بیان دینے کی ضرورت کو اجاگر کیا تھا۔ 21 جون کو وزیراعظم نے عالمی نشریاتی ادارے میں بالآخر پالیسی بیان دے دیا، جس سے غیر مبہم پالیسی واضح و افواہوں کا قریبا خاتمہ ہوا۔ حزب اختلاف کی تنقید اپنی جگہ اب بھی برقرار لیکن وزیراعظم کی پالیسی بیان کے بعد حکومتی وزرا ء، سفارتی حکام نے بھی کھل کر موقف کا اظہار کیا، گو کہ اس سے قبل ان کی وضاحتیں آتی رہیں لیکن وہ شکوک میں مزید اضافہ کر دیتیں، اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے خصوصی ان کیمرا اجلاس بلانے کی بھی بات کی گئی، سینیٹر شیری رحمان و حنا ربانی کھر کا موقف بھی قابل توجہ ہے کہ پاکستان کے کردار کو دیکھتے ہوئے موجودہ بات چیت کے نتائج میں پاکستان کا کیا حصہ ہوگا، نیز پاکستان افغانستان کے مستقبل کے متعدد ممکنہ منظر ناموں کے لئے کیسے تیاری کر رہا ہے۔
سابق صدر آصف زرداری نے اپنے دور اقتدار میں جن خدشات پر کھل کر اپنے موقف کا اظہار کیا تھا آج مکمل طور پر موجودہ صورت حال اسی بے یقینی کی عکاسی کر رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق افغانستان میں نسلی و فرقہ ورانہ بنیادوں پر مسلح جنگجو گروپوں میں بھرتی کا عمل شروع ہے، جس سے خطرہ ہے کہ پشتون اور دیگر نسلی اکائیاں آبادی کی تناسب سے انتظامی طور پر تقسیم ہو سکتی ہیں، ایک اندازے کے مطابق افغانستان میں پشتونوں کی آبادی 42 سے 48 فیصد اور دیگر نسلی اکائیوں کی تعداد بالخصوص تاجک کی 20 سے 25 فیصد، جبکہ ہزارہ، ازبک، ایماق، ترکمانستان، بلوچ، پاشایی، نورستانی، عرب، براہوی، پامیری، گرجر، وغیرہ کی تعداد کم و بیش 30 سے 33 فیصد ہے۔
عالمی قوتیں سمجھتی ہیں کہ افغان طالبان کا اثر رسوخ و قبضہ پشتون خطے میں زیادہ ہے اور غیر پشتون علاقوں میں دیگر مسلح جنگجو ملیشیاؤں کا نفوذ ہے اس لئے گمان یہی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ نظام و انصرام کا حتمی فیصلہ نہ ہونے سے خانہ جنگی کا بڑا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔ تقسیم کے منصوبے پر افغانستان میں نسلی و سیاسی اکائیوں پر مشتمل اتحادی (عبوری) حکومت بنانے کا مسودہ دیا گیا، لیکن افغان صدر نے امریکی مسودے کو ناقابل عمل قرار دے دیا۔
حالیہ دورے میں صدر اشرف غنی نے ایک بار پھر بھرپور کوشش کی کہ اتحادی افواج کے انخلا ء کو روکا جاسکے، لیکن انہیں کامیابی نہ مل سکی، تاہم امریکی حکام نے اپنے سفارت خانے کی حفاظت کے لئے 650 فوجیوں کے تعیناتی برقرار رکھنے کی خبر پر افغان طالبان نے سخت ردعمل دیا، جس سے خدشات ابھر کر سامنے آئے ہیں کہ اگر کابل ائرپورٹ پر ترکی اور کابل کے مرکز میں امریکی تعینات رہیں گے تو غیر ملکی افواج سے تصادم کا خطرہ بھی موجود رہے گا جس سے افغانستان میں امن کے کسی فارمولے پر بات چیت کی کامیابی کے امکانات معدوم ہوجائیں گے، تاہم بقول ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ، کہ افغان طالبان سے اس وقت تک مذاکرات کیے جائیں جن تک وہ خود انکار نہیں کر دیتے۔
یہ ایک بڑی پیچیدہ صورت حال ہے جس کا اس وقت افغانستان کے علاوہ پاکستان کو بھی سامنا ہے، کیونکہ کسی بھی غیرمتوقع صورت حال میں مملکت کو نئی آزمائشوں سے گزرنا ہوگا، خدانخواستہ خانہ جنگی ہوتی ہے تو مہاجرین کا بڑا ریلا مزید پاکستان ہجرت کرے گا اور ان میں ملک دشمن عناصر چھپ کر آسکتے ہیں، جن کی وجہ سے ایک مرتبہ پھر دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہو سکتا ہے، پاک۔ افغان بارڈر مینجمنٹ سسٹم امریکی انخلا تک مکمل ہونے کی توقع ہے، جس کے بعد پاکستان ہنگامی حالات میں اپنی سرحدیں سیل کرنے کی استعداد بروئے کار لا سکے گا، لیکن افغان مہاجرین کے نئے ریلے میں انتہا پسندوں کی پہچان دشوار گزار عمل ہوگا، مہاجرین کی آمد کو عالمی قوانین کی وجہ سے نہیں روکا جا سکتا، اقوام متحدہ کے دباؤ پر مہاجرین کی آمد پر پابندی عاید کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہوگا۔
ان حالات میں پاکستان کو تین اطراف سے ملک دشمنوں سے بھی لڑنا ہوگا اور امریکہ کو فضائی اڈے اور افغان جنگ میں حصہ نہ بننے کے پالیسی بیان کے بعد ناراضگی و دوریاں مزید بڑھ جانے سے فیٹف کی طرح نت نئے مطالبات اور ڈو مور کا سامنا رہے گا۔ جس کا مقابلہ و سامنا کرنے کے لئے قبل از وقت ایک مشترکہ حکمت عملی بنائے جانا ضروری ہے۔ بقول سابق صد ’ر ہم لوگوں کے دل و دماغ جیتنے کی جنگ میں شکست کھا رہے ہیں‘ ۔ سیاسی و دفاعی موثر حکمت عملی کے لئے ریاست کو پارلیمنٹ کے اندر و باہر تمام سیاسی جماعتوں کی اے پی سی بلانے کی ضرورت بڑھ جاتی ہے، پارلیمانی جماعتوں کو ان کیمرہ بریفنگ پہلے بھی دی جاتی رہی ہے، با الفاظ دیگر ’عوام‘ کو اعتماد میں لینا ہم سب کے حق میں بہتر ہے۔


