خدائی خدمتگار (سماجی شخصیات) کا المیہ


یہ مضمون لکھنے کا تحرک دراصل وہ سینکڑوں دل جلانے والے تبصرے اور پیغامات ہیں جن کا نہ صرف مجھے بلکہ بیشتر سماجی شخصیات کو سامنا ہوتا ہے۔ اس مضمون میں راقم نے کوشش کی ہے کہ بظاہر خود کی کہانی رقم کر کہ اس سماجی روئیے کی جانب لوگوں کی توجہ مبذول کروائی جائے جو کہ ایک سماجی بحران کی سی حیثیت اختیار کرتی جا رہا ہے۔

یہ تو آپ کو ماننا ہی ہوگا کہ میں آپ سے محبت کرتا ہوں اور آپ کو کسی صورت کھونا نہیں چاہتا۔ آپ میرا اثاثہ ہیں جو عمر سے میں جمع کر پایا ہوں۔ ایک مشکل یہ ہے کہ آپ گلہ کرتے ہیں کہ میں ”Available“ نہیں ہوتا۔ فون نہیں کرتا۔ بعض اوقات فون بروقت سن نہیں پاتا۔ واپس کال کرنے میں تاخیر ہو جاتی ہے۔ واٹس ایپ پر فوراً جواب نہیں دے پاتا۔ آپ میں سے کچھ بے تکلف دوست، خواتین و حضرات، حسب توفیق تبرے سنا کر دل کا بوجھ ہلکا کرتے، کچھ جرمانے ڈال دیتے، کچھ ناراض ہو جاتے اور کافی محبان میرے اس روئیے کا Empathetic جائزہ لینے کے بجائے اسے بے جا تکبر و غرور کہہ، غیبت بھی کرتے تاآنکہ یک طرفہ مخالفت، بلکہ حد امکان دیکھئیے کہ دشمنی تک پال لیتے ہیں۔

اب جو دوست فی الفور رابطے میں آ جاتے، وہ تو ایک طرف، وہ جو گالیاں دے بھڑاس نکال لیتے، وہ بھی قبول۔ مگر جو آخر الذکر ہیں، ان کے لیے بمشکل تمام وقت نکال کریہ تحریر لکھی۔

دیکھو دوستو۔ میں از خود سماج کا ایک خدائی خدمتگار ہوں۔ مجھے لگے کہ یہاں مجھے کچھ کرنا چاہیے، میں وہاں سے پیچھے نہیں ہٹتا۔ وسیع خاندان کا سب سے چھوٹا چشم و چراغ۔ خاندانی مصروفیات اور تقاضے بہت زیادہ ہوتے۔ اگرچہ اب خاندانوں میں پہلے جیسے اکٹھ نہیں رہے لیکن اس کے باوجود مشینی دور میں مختصر تقاضے بھی کل وقتی کام تصور ہوتے ہیں۔ اماں سے رابطہ، بھائیوں سے رابطے، بہنوں کی خبر گیری، سسرال کی عافیت، بیٹوں کے تقاضے، بیٹیوں کی اٹکھیلیاں کہ وہی حیات کا حسن ہیں۔

بعض اوقات تمام حالات اور وقت سے بے خبر کبھی فروٹ کی بھوک اور کبھی Junk food کی۔ دادکے اور نانکے کے رہے سہے تعلق اور آبائی علاقے کا ہر فرد بھلے دور ہو یا قریب، ایک رشتہ دار کی حیثیت رکھتا ہوتا ہے۔ خوشی غمی۔ سب سے بڑھ کر زوجہ ماجدہ کے احکامات جس سے آئن سٹائن اور بل گیٹس نہ بچ سکا تو ہم کون سا سائنسدان یا ”عرب پتی“ ہیں۔

آگے بڑھیے تو بات سیاست کی آتی۔ پارٹی عہدہ احترام اور عزت کا باعث ہوتا۔ پارٹی کے صوبائی عہدے پر ہوتے یہ عقدہ تو کھلا کہ پارٹی سیاست کوئی آسان کام نہیں۔ پنجاب بھر کے دورے۔ بیوروکریسی سے لیکر تنظیم تک رابطے، میٹنگز اور پھر انکے تقاضے۔

ہم ایسے سماج سیوک نوکری پیشہ ہوتے۔ نوکریوں کے تقاضے بذات خود کسی کل وقتی کام سے کم نہیں وہ بھی جب آپ کسی بڑے ادارے کی اہم نشست پر براجمان ہوں۔

بات یہاں ختم نہیں ہوئی۔ دلی ہنوز دور است۔ دریں اثناء اگر آپ ہر ہفتہ بھر میں میڈیا پر باقاعدہ تسلسل کے ساتھ دوچار پروگرام کر رہے ہوں توان میں درپیش ذمہ داری اور پیشہ ورانہ مہارت پر سمجھوتہ نہ کرنا از خود کسی معرکہ سے کم نہیں۔

الغرض، میں سمجھتاہو‌ں کہ ہمیں سماجی کارکنان، رہنماؤں اور سماجی شخصیات کے متعلق بہت ساری والہانہ محبت کو خودغرض اور جلد باز نفرت اور بلاوجہ مخالفت میں بدل لینے والے روئیے سے اجتناب برتنا ہو گا۔ کیونکہ یہی عدل کا تقاضا ہے اور یہی اس بات کا بھی ضامن ہے کہ خدائی خدمتگار معاشرے کو اپنی قربانی سے سینچتے رہیں، وہ معاشرہ جو پہلے سے قحط الرجال کا شکار ہے۔

Facebook Comments HS