کاکروچ ہی بہتر ہے
عدالت کا کمرہ لوگوں سے بھرا ہوا تھا، جج کے آتے ہی شور اچانک بلند ہو کر وہیں رک گیا، جیسے کسی نے آہستہ آہستہ ریموٹ کا بٹن دبا کے ٹی وی کی آواز بند کی ہو۔ جج نے اپنی کرسی سنبھالی اور اردگرد دیکھا۔ کالا کوٹ سنبھالتا ہوا ایک وکیل اٹھ کھڑا ہوا۔ ’جناب عالی اگر آپ اجازت دیں تو عدالت کی کارروائی شروع کی جائے‘ ۔ ’ہاں اجازت ہے، لیکن ملزم کدھر ہے‘ ؟ جج نے سوالیہ نظروں سے کٹہرے کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔ ’جناب ملزم کٹہرے میں موجود ہے، آپ غور کریں‘ ۔
وکیل نے کٹہرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ ’لیکن کدھر‘ ؟ جج نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے سوال کیا۔ ’مجھے تو کچھ نظر نہیں آ رہا‘ ۔ وکیل نے دور کھڑے ایک باوردی سپاہی کو اشارہ کیا، وہ کٹہرے کی طرف بڑھا۔ وہ وہ کٹہرے کے اندر جاکر جھکا اس کے ہاتھ میں ایک گتے کا ٹکڑا تھا جو اس نے پہلے زمین پر رکھا اور جب اٹھ کر کھڑا ہوا تو اس پر ایک کاکروچ بیٹھا اپنے سامنے کے دو لمبے بال ہلا تھا۔ وہ انتہائی پتلی پتلی سونے کی زنجیروں میں جکڑا تھا۔
مکھیوں کی سی بھنبھناہٹ سے کمرا عدالت بھر گیا۔ جج جو کہ خود بے حد حیران اور پریشان تھا، پھنستی ہوئی آواز میں بولا، ’آرڈر، آرڈر، یہ سب کیا ہے؟ یہ کون ہے؟ یہ مجرم ہے‘ ؟ جج نے وکیل سے سوال کیا۔ ’جی ہاں جناب والا یہی مجرم ہے‘ ۔ وکیل نے اپنی مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے کاکروچ کو دیکھا۔ ’اس کا قصور کیا ہے‘ ؟ جج نے اپنی حیرت اور گھبراہٹ پر قابو پانے کی پھر سے شدید کوشش کی۔ ’اس کاکروچ نے آ خر کیا ایسا کر دیا کہ اس پر مقدمہ کرنا پڑا‘ ؟
جج نے لفظ کاکروچ پہ زور دیتے ہوئے پوچھا۔ ’معزز جج میں آپ کو سب کچھ بتاتا ہوں۔ اس کاکروچ کے جرائم کی داستان بہت لمبی ہے۔ لیکن مجھے ڈر ہے کہ فاضل جج اس کو محض بے ضرر کیڑا سمجھتے ہوئے اس کے ساتھ پہلے سے ہی ہمدردی پال بیٹھے ہیں، میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کی آپ اس کو ایک عام ملزم کی طرح دیکھتے ہوئے عدالت کی کارروائی شروع کرنے کی اجازت دیں‘ ۔ وکیل نے اپنی لمبی تقریر ختم کی۔ ’اجازت ہے‘ جج کی آ واز کمرہ عدالت میں گونجی، جدھر اب سناٹا چھایا تھا۔
حقیقت، تمثیل، کردار، تماشائی سب ایک ہو چکے تھے۔ ’آپ کی اجازت سے میں چھوٹے خدا کو کمرہ عدالت میں بلانے کی اجازت چاہتا ہوں، جو اس کاکروچ کے گھناؤنے جرائم کے نہ صرف گواہ ہیں، بلکہ انہوں نے بروقت مقدمہ دائر کر کے معاشرے اور قانون کی توجہ اس خطرناک مجرم کی طرف مبذول کروائی‘ ۔ وکیل کے جوش و خروش سے یوں لگتا تھا کہ وہ ابھی کاکروچ کا خاتمہ کر دے گا۔ ’اجازت ہے‘ جج کی آ واز میں مرعوبیت تھی۔ ’چھوٹے خدا کو حاضر کیا جائے‘ ۔
وکیل نے اونچی آواز میں اعلان کیا۔ ادھر جج دل ہی دل میں قانون کی ساری شقیں دھرا رہا تھا، اس کی زندگی میں کاکروچ پر کیا گیا یہ پہلا مقدمہ تھا جس کا اس کو فیصلہ سنانا تھا۔ کمرہ عدالت میں پینٹ کوٹ میں ملبوس لمبا اونچا، وجیہہ ’چھوٹا خدا‘ داخل ہوا اور کٹہرے میں آ کر کھڑا ہو گیا۔ کاکروچ کے سر کے دو لمبے بال دائیں بائیں ہل رہے تھے اور وہ اب گتے پر پتلی پتلی سونے کی زنجیروں سے باندھ دیا گیا تھا۔ گتا ایک اونچی میز پر کٹہرے میں رکھ دیا گیا تھا، جہاں سے وہ سب کو باآسانی نظر آ رہا تھا۔
’جی میرے عزیز اب آپ اپنے الفاظ میں اس کاکروچ کی پھیلائی ساری غلاظت اور تعفن کے بارے میں جج صاحب کو آگاہ کریں، تاکہ وہ قانون کے مطابق اس کو سخت سے سخت سزا دے کر عبرت کا نشانہ بنائیں‘ وکیل نے آ نے والے شخص کو کہا۔ چھوٹے خدا نے نخوت سے سر اٹھایا، اس کی بھوری آنکھوں میں کاکروچ کے لیے زہر بھرا تھا۔ اپنا گلا صاف کرتے ہوئے وہ بولا، ’جج صاحب یہ کاکروچ دراصل ایک عورت تھی‘ کیا؟ جج اپنی کرسی سے اچھل پڑا، قانون کی ساری کتابیں اس کے ذہن میں بنی الماریوں میں اتھل پتھل ہو گئیں۔
اس نے دونوں ہاتھوں سے اپنا سر پکڑ لیا، کمرہ عدالت میں کھسر پھسر بلند ہو چکی تھی۔ جج نے تھوڑی کوشش کر کے اپنے دماغ میں کتابوں کی ترتیب ٹھیک کرتے ہوئے آرڈر آرڈر کہا، اور پوچھا ’عورت تھی۔ تو اس کو کاکروچ کس نے بنایا؟ کیوں بنایا؟ مقدمہ تو اب درج ہوا ہے اس پر سزا پہلے ہی کس نے سنا دی‘ ؟ جج نے الجھتے ہوئے سوال کیا۔ ’جناب والا چھوٹے خدا کو کچھ طاقتیں بڑے خدا نے سونپ رکھی ہیں، چونکہ یہ عورت قابو سے باہر تھی اس لیے چھوٹے خدا نے بہتر سمجھا کہ اس کو کاکروچ کی شکل میں قانون کے سامنے پیش کیا جائے تا کہ اس کو اس کے جرائم کی سخت سے سخت سزا دی جائے‘ ۔ وکیل نے صورت حال جج پہ واضح کرنے کی کوشش کی۔ فرد جرم پڑھ کر سنائی جائے۔ جج نے جھنجھلا کر کہا۔
’جناب عالی‘ ! چھوٹا خدا بولا، ’یہ بہت لمبی کہانی ہے، یہ عجیب و غریب عورت تھی نہ پوری پاگل تھی نہ سیانی تھی، اکثر ساری ساری رات چاند کو دیکھ کہ روتی تھی، چاند کی چودھویں رات کو یہ بالکل سٹھیا جاتی تھی، اس کو روٹی ہانڈی کی بجائے لکھنے لکھانے کی پڑھ جاتی تھی، کاپی پینسل لے کر شاعری کرتی تھی‘ ۔ ’اچھا یہ روٹی نہیں پکاتی تھی تب‘ ؟ جج نے دلچسپی لیتے ہوئے پوچھا۔ ’پکاتی تھی لیکن گول نہیں، کیوں کہ اس کا دھیان جو کسی اور طرف ہوتا تھا‘ وہ تیزی سے بولا۔
’اچھا، تمہیں دھیان بھی نظر آ تا تھا اس عورت کا؟‘ ۔ جج نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا۔ ’میرے پاس ثبوت ہے جناب والا اس کی ایک تحریر میں ساتھ لے کر آ یا ہوں۔ اگر آپ اجازت دیں تو میں پڑھ کر سناؤں‘ ؟ کمرہ عدالت میں سناٹا چھایا تھا۔ اجازت ہے لیکن اس عورت کا وکیل کدھر ہے؟ اور عدالت حکم دیتی ہے کہ اس کو دوبارہ عورت بنایا جائے تا کہ ہم اس کی بات بھی سن سکیں ’۔ جج نے حکم دیا۔ چھوٹا خدا ہاتھ میں کاغذ کا ایک ٹکڑا لے کے کھڑا تھا جس کو دیکھ کر کاکروچ شدید بے چین تھا، اس کے سامنے کے دو لمبے بال تیزی سے ہل رہے تھے، اور وہ سونے کی زنجیروں میں تیزی سے حرکت کر رہا تھا۔
وکیل نے آنکھوں آنکھوں میں چھوٹے خدا کو کوئی بات سمجھائی، تھوڑے تذبذب کے بعد اس نے اپنی انگلی سے کاکروچ کی طرف اشارہ کیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے کاکروچ ایک عورت میں تبدیل ہو گیا۔ کمرہ عدالت میں پھر شہد کی مکھیوں والی بھن بھن ہوئی، جج نے میز پر ہتھوڑا بجایا۔ سب اس عورت کی طرف دیکھ رہے تھے۔ اس کی آنکھیں صحرا کی طرح خالی تھیں۔‘ بی بی تم کون ہو، اور یہ سب کیا معاملہ ہے؟ تم اپنی صفائی میں کیا کہنا چاہتی ہو؟
اور تم ابھی اتنی زیادہ بے چین کیوں تھیں ’؟ جج نے سوال کیے۔ سب لوگ اس کی طرف دم سادھے دیکھ رہے تھے۔‘ مجھے اپنی صفائی میں کچھ بھی نہیں کہنا، بس میری تحریر چھوٹا خدا نہ پڑھے، اس لیے میں بے چین تھی اس کی کھردری آواز میری تحریر کو زخمی نہ کر دے، میری خیر ہے لیکن میری تخلیق مسخ نہ ہو۔ مجھے اپنی تحریر خود پڑھنے کی اجازت دی جائے ’اس عورت نے مدھم آ واز میں ٹھہر ٹھہر کہ جواب دیا۔‘ تم، تم پاگل عورت، سٹھیائی ہوئی، کسی فلسفی کی اولاد ’، ۔
چھوٹا خدا چیخ کے بولا۔‘ تم اب خاموش کھڑے رہو اور اپنا لہجہ درست کرو ورنہ میں تم پہ توہین عدالت کا مقدمہ درج کر دوں گا، مجھے دونوں فریقین کی بات سن کے فیصلہ دینا ہے۔ جج نے انتہائی غصے سے اس کی بات درمیان سے کاٹتے ہوئے کہا۔ ’تحریر اگر اس کے پاگل پن کا ثبوت ہے تو پڑھ کر سنائی جائے، ہاں خاتون تمہیں یہ تحریر پڑھنے کی اجازت ہے‘ ۔ جج نے بات ختم کی۔ کاغذ کا ٹکڑا اس عورت تک کٹہرے میں پہنچا دیا گیا۔ اس نے اس کو ایسے محبت اور احتیاط سے پکڑا جیسے کوئی ماں اپنے نو مولود بچے کو گود لیتی ہے۔ سب لوگ کان بن چکے تھے۔ اس نے شروع کیا۔
’آج شام کو سورج کی لال آنکھ ڈھلتے دیکھی۔ دھرتی نجانے کیوں اس سے بیزار تھی،سورج کو گود نہ لیا۔ اس کی آنکھ سے خون کا آنسو ٹپکنے والا تھا۔ وہ سونا چاہتا تھا، لیکن ہوا میں معلق تھا۔ اس منتظر سے منظر میں مجھ سے اس کا مکالمہ ہوا۔ لیکن نہ وہ بولا نہ میں بولی۔ وہ دل گرفتہ تھا۔ میں بھی کہانی کا آغاز نہ کر پائی۔ بس درمیان سے کسی آوارہ سر کی طرح ہم نے مل کے دھن اٹھا دی۔ وہ بھی لٹ کے آیا تھا، میں بھی خالی دامن تھی۔
وہ اپنی آگ میں جھلس چکا تھا۔ میں بھی آوارہ راکھ تھی۔ ہم دونوں کے پاس محض ایک لمحہ تھا، ایک سانس، ایک آس، آخری پڑاؤ۔ وہ لمحہ غروب میں داخل ہو چکا تھا، اور میں چراغ کی وہ لو تھی جو آخری وقت پہ بھڑکتی ہے۔ وہ بھی بے گھر تھا، میں بھی بے ٹھکانہ تھی۔‘ سنو میں نڈھال ہوں، انجانے میں آخری محبت کر بیٹھا ہوں تم سے ’۔ اس کی آنکھ میں ٹھہرا خون ٹپک پڑا۔ افق پہ شام کی لالی پھیل گئی۔ دھرتی نے تڑپ کے اپنی بانہیں کھول دیں۔ وہ خاموش تھا۔ اور میری ذات کے پاتال سے نہ لفظ نکلے نہ آواز۔ لیکن اس نے نجانے کیسے سن لیا۔‘ کہ یہ وجود کی آخری سانس، میرا آ خری لمحہ اس آخری محبت کے نام۔ اور پھر وہ شعلہ دھواں ہو گیا۔ سورج نے ڈوب کے آنکھیں موندھ لیں اور ایک چراغ بجھ گیا ’۔
وہ کچھ دیر خاموش ہوئی۔ پھر بولی، ’جج صاحب مجھے یہ تحریر مکمل کرنے کا موقع نہیں ملا، مجھے ایک پین دلوا دیں تو میں آ خری سطر لکھ لوں۔‘ سر پھری، دیکھا جج صاحب کیا ان حالات میں کوئی آ خری سطر لکھنے کا سوچ سکتا ہے؟ آپ کو میری بات کا یقین کرنا چاہیے کہ یہ عورت پاگل ہے ’کٹہرے میں کھڑا چھوٹا خدا چلایا۔ یہ عورت پاگل ہے یا نہیں، یہ ہم دیکھ لیں گے لیکن تم اس سے اتنا خوفزدہ کیوں ہو‘ ؟ جج نے حیرت سے پوچھا۔
دریں اثناء ایک خاتون وکیل تیزی سے کمرہ عدالت میں داخل ہوئی اور جج کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔ ’جج صاحب! ہمیں اس کیس کی اطلاع میڈیا کے ذریعے ملی۔ میں اس عورت کی وکیل کے طور پہ آئی ہوں۔ میں اس کی مدد کرنا چاہتی ہوں۔ پھر اسی تیزی اور جوش سے وہ اس عورت کی طرف مڑی۔‘ دیکھو خود کو اکیلی مت سمجھو، بولو، بتاؤ جو جو تمہارے ساتھ ہوا، اگر تم آ واز بلند کرو گی تو آج کے بعد کوئی اور چھوٹا خدا کسی عورت کو کاکروچ نہیں بنا سکے گا، ورنہ یہ ستم یونہی جاری رہے گا۔
وکیل خاتون جوش سے بولی۔ ’لیکن میں تو دوبارہ کاکروچ بننا چاہتی ہوں‘ ۔ عورت کے جواب نے ہر ایک کو حیران کر دیا۔ ’جج صاحب‘ ۔ دوسرا وکیل چلایا، جسے جج نے ہاتھ کے اشارے سے چپ کروا دیا، ’مجھے دوسرے فریق کا نقطۂ نظر جاننے دو اور اپنی باری کا خاموشی سے انتظار کرو‘ ۔ جج نے غصے سے کہا۔ وکیل تلملا کر خاموش ہو گیا۔ ’تم کیوں مایوس ہو؟ ہم تم پہ ظلم نہیں ہونے دیں گے، ہم تمہیں تمھارے حقوق دلوائیں گے، ہم عورت پہ مزید ظلم نہیں ہونے دیں گے۔
‘ ، خاتون وکیل کا جوش اب کچھ ماند پڑ چکا تھا۔ ’میں حقوق کی جنگ سے دستبردار ہو چکی، مجھے بڑے خدا نے انسان پیدا کیا تھا، عورت تو تم سب نے مجھے مل کے بنایا ہے۔ میں خود کو محض ایک انسان سمجھتی ہوں، اور تخلیق کے وسیع کینوس پر اپنے حصے کے رنگ بکھیر نا چاہتی ہوں۔ میرے لیے شخصی آزادی اہم ہے۔ مجھے بھی خالق نے عقل، احساس، جذبات کے تحفوں سے نوازا ہے، اور ایک انسان ہونے کے ناتے میں خود کو تفویض کیے گئے تمام معجزات کو دریافت کر کے آ خری سانس تک جینا چاہتی تھی، مجھے حقوق کی جنگ سے کہیں زیادہ یہ مقصد اہم لگتا تھا‘ ۔
’دیکھیں جج صاحب! چھوٹے خدا نے بہت مدبر اور معتبر انداز میں بولنے کی کوشش کی، یہی سٹھیائی ہوئی باتیں تھی اس کی جو میری سمجھ سے باہر تھیں۔‘ کیوں کہ تمہاری سمجھ تھی ہی اتنی ’خاتون وکیل نے اس کی بات تیزی سے کاٹی۔‘ تم کون ہو خاموش رہو ورنہ ’۔ چھوٹا خدا غصے سے چلایا،‘ ورنہ کیا، اس غلط فہمی میں نہ رہنا کہ تم مجھے بھی کاکروچ بنا سکتے ہو، تم میرے چھوٹے خدا نہیں ہو ’وکیل خاتون نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا۔
‘ آرڈر، آرڈر، جج بولا۔ خاتون اب اس کا فیصلہ تم خود کرو گی کہ تم کیا چاہتی ہو؟ میں پھر سے کاکروچ ہی بننا چاہتی ہوں جج صاحب ’۔ عورت نے جواب دیا۔‘ لیکن اس کی وجہ ’؟ جج انتہائی غصے اور افسوس سے بولا۔ جبکہ چھوٹے خدا اور وکیل کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ تھی‘ جج صاحب جس دن سے میں نے اپنا عورت کا وجود کھویا ہے، میری جان چھوٹ گئی ہے چھوٹے خدا کی نظر کے خنجر سے۔ یہ میرے اردگرد ہوتا تھا یا نہیں اس کی نظر غائب ہونے کے باوجود حاضر ہوتی تھی، کبھی بیڑیاں بن جاتی تھی، کبھی خنجر۔
اس کی نظر طرح طرح کی زبان بولتی تھی۔ میرے خواب خیال پہ بھی پہرہ دیتی تھی۔ جب میں کاکروچ بنی تو میں اس کی نظر کی قید سے آزاد ہو گئی۔ مجھ سے یہ خوبصورت احساس نہ چھینیں۔ ، ’اچھا تو کاکروچ کی بجائے تمہیں تتلی بنا دیا جائے‘ ؟ جج نے بے بسی سے پوچھا۔ ’نہیں نہیں، جج صاحب میں کاکروچ ہی بننا چاہتی ہوں، تتلی بن گئی تو پھر گلشن میں رنگ و پر کا حساب دیتی پھروں گی۔ میں نے وہ جسم کیا کرنا جس پر ہر وقت نظر کا پہرا ہو، ایک غلاف ہی تو ہے جج صاحب، عورت نہیں انسان بننا چاہتی تھی، انسان نہیں سمجھا گیا تو کاکروچ ہی بہتر ہے۔ پورے کمرہ عدالت میں سناٹا چھایا تھا، سب کی قوت گویائی جیسے صلب ہو چکی تھی۔‘ میں نہ کہتا تھا یہ عورت پاگل ہے ’چھوٹا خدا چھینپتے ہوئے بولا۔
جج کافی دیر سر جھکائے بیٹھا کچھ لکھتا رہا۔ اور پھر بولا، ’اس ملک کی تاریخ کا یہ انوکھا کیس تھا جو ایک ہی سماعت میں نپٹا دیا گیا۔ گو کہ چھوٹا خدا کوئی بھی جرم ثابت کرنے میں کامیاب نہیں ہوا۔ چاندنی راتوں میں کہانیاں لکھنا قانون کی کسی کتاب، کسی شق کے مطابق گناہ نہیں۔ لیکن عدالت اس عورت کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے چھوٹے خدا کو حکم دیتی ہے کہ وہ اس کو پھر سے کاکروچ بنا دے۔ اس کو اپنی زندگی کے متعلق فیصلہ کرنے کا حق ہے‘ ۔ جج نے قلم رکھ دیا۔ وکیل نے چھوٹے خدا کو اشارہ کیا اور چھوٹے خدا نے پہلے کی طرح کرتب دکھا اس عورت کو پھر سے کاکروچ بنا دیا۔ آن کی آن میں وہ عورت دوبارہ کاکروچ بن گئی، کٹہرا کھول دیا گیا، اور کاکروچ آہستہ آہستہ کمرہ عدالت سے باہر نکل گیا۔


