خوش ہونے کی ایکٹنگ بھلے نہیں کریں، پر کیا شکایت کرنا کم کر سکتے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مجھے روتی دھوتی فلموں سے چڑ ہو جاتی ہے، جبکہ اس کے برعکس ایکشن مویز مجھے انرجی دیتی ہیں۔

روتی دھوتی فلمیں ہوں ڈرامے یا حقیقت میں روز مرہ کے ملتے لوگ، مجھے لگتا یہ فالج زدہ مفلوج لوگ ہوتے ہیں جو اپنی مفلوجیت کو دوسروں کو بانٹتے ہیں اور پھر سارے کے سارے لوگ ویسے ہی مفلوج سے لگنا شروع ہو جاتے ہیں، بالکل ویسے جیسے زومبی فلموں میں ہوتا ہے جب ایک زومبی کسی بھی انسان کو ہاتھ لگاتا ہے تو دوسرا بھی ویسا ہی مفلوج ہو جاتا ہے۔

کیا آپ کے ساتھ ایسا ہوا کبھی کے کوئی فلم/ ڈرامہ دیکھا ہو دکھی اور پھر آپ اس دکھ کے حصار میں رہیں کچھ دنوں تک؟ روزمرہ زندگی میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے جوں ہی ہم ایسا کچھ دیکھتے سنتے ہیں تو ہم اس دکھ کے حصار میں آ جاتے ہیں۔ اور یہ رویہ ہمارے اپنے اندر

کرونا سے کہیں زیادہ جلدی پھیلتا ہے اور ہم اس کی زد میں ہمیشہ سے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ایک عام انسان ایک دن میں کم سے کم 8 منٹ تک نیگیٹو رہتا ہے اور زیادہ کی تعداد تو ہم سب جانتے ہیں۔ لفظوں سے پھیلتا یہ وائرس جسے ہم میں سے بہت سے لوگ صبح اٹھتے ہی پوری جانفشانی سے یہ فریضہ انجام دینا شروع کر دیتے ہیں۔ اور آپ کے ساتھ بھی ہوتا ہو گا ایسا کوئی آتے ہی اپنی پریشانی شروع کر دے یہ غلط وہ غلط، یہ پریشانی وہ پریشانی، اور پھر آپ کو یاد آئے کے آپ کے اپنے کتنے حل طلب مسلے ہیں اور آپ اپنا جو بھی کام کر رہے ہوں وہ چھوڑ کر ان مسلوں کی سوچوں میں غرق ہو جائیں۔

ایسا ہوتا ہے کوئی مانے یا نہیں، کیونکہ میرا ماننا ہے کوئی خبر ٹی وی پہ سنیں دکھی یا کوئی سامنے بیٹھا خود بتائے اور آنکھیں نم ہو جائیں تو یقین جانیے وہ پہلا آنسو آپ کی آنکھ سے سامنے والے کے غم پہ نہیں نکلے گا وہ آنسو آپ کی اپنی کسی گزشتہ تکلیف پہ ہوگا پھر جھڑی لگ جائے گی فلاں کے بعد فلاں دکھ اور پھر آخر میں باری آئے گی نئے تازے دکھ کی اور پھر سامنے والے کے دکھ کی۔ ہم لوگ دوستوں میں بیٹھ کر آفس اور گھر والوں کی شکایات کرتے ہیں، گھر جا کر دوستوں اور آفس کی، اور آفس جا کر دوستوں اور گھر والوں کی اور پھر پریشان رہتے ہیں کے سب کچھ ٹھیک کیوں نہیں ہوتا۔

A Complainant free world

کتاب کے مصنف will Bowen کہتے ہیں یہ وائرس انسان کو کھوکھلا کر دیتا ہے اور بہت سی بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔ انھوں نے اس کی نشاندہی کچھ اس طرح کی ہے کے لوگ شکایت کیوں کرتے ہیں کا فارمولا نکالا ہے جسے انگریزی میں G۔ R۔ I۔ P۔ E کا نام دیا ہے

G: Get attention

مطلب جب بھی کوئی آپ سے شکایت کرتا ہے چاہے کسی بھی بات پہ ہو جیسا کے آج موسم گرم/ سرد ہے ٹیم میچ ہار گئی، باس نے بات نہیں سنی، بچوں کے خرچے، شادی نہیں ہو رہی، شادی کی ہی کیوں، الغرض ہر بات پہ شکایت، تو اصل میں وہ بات کرنا چاہتے ہیں پر وہ یہ کہہ نہیں پاتے کے مجھ سے بات کرو تو وہ بات شکایت کے انداز سے شروع کرتے ہیں۔ اور اس کا مقصد یہ ہوتا کے اب مجھے اپنی پریشانی بتاؤ کے بات آگے بڑھ سکے۔

R: Remove Responsibility

آر مطلب جب بھی کوئی شکایت کرتا ہے تو وہ اپنی ذمہ داری سے بچنا چاہتا ہے۔ اور سامنے والے کو یہ بات باور کروانا چاہتا ہے کے جو کام سونپا گیا ہے وہ ایک تو انتہائی مشکل ہے دوسرا وہ اسے بتائے گئے وقت پر پورا نہیں کر پائیں گے کیونکہ ان کے علاوہ باقی سارے ڈیپارٹمنٹ سست ہیں اور وہ ان کو مطلوبہ رپورٹ وقت پہ مہیا نہیں کریں گے۔ سو یہی وجہ ہے کے وہ بھی اپنا کام وقت پر نہیں کر پائیں گے۔ اس کے علاوہ بھی زندگی کا کوئی کام ہو وہ اس میں ہمیشہ مین میخ نکال کر اپنے سر سے ذمہ داری اتارتے ہیں کے یہ ایک ناممکن کام ہے۔

I: Inspire Envy

مطلب عاجزانہ طریقہ سے شیخی بگھارنا، یا آسان الفاظ میں کہیں تو شو مارنا اپنے کام یا چیزوں کی۔ شیخی بگھارنا یوں تو بداخلاقی کہلاتا ہے، پر شکایت کرنے والوں کا انداز نرالا ہوتا ہے، یہ اپنے اچھی قسمت کو کوستے ہیں، اور پھر اسی کی تعریف بھی کرتے ہیں کے سامنے والے کو آپ کے ساتھ ہوئے واقعات معلوم ہو سکیں۔ اس کی مثال ویسے ہی ہے جیسے اپنے لیے خریدے گئے نئے موبائل کی بد تعریفی کرنا کے محفل میں بیٹھے ہر انسان کو معلوم ہو جائے کے نیا موبائل خریدا ہے، یا آفس میں اپنے باس کو بتانا کے آپ کے کولیگ نے ایک کام اتنی دیر میں کیا ہے ( مطلب آپ اس سے کم وقت میں اچھا کام کر سکتے ہیں ) ۔

P: Power

طاقت حاصل کرنا دوسروں کے خلاف بات کر کے۔ جیسے سیاست میں ایک پارٹی دوسری پارٹی کے خلاف بولتی ہے اور لوگ اکٹھے کرتی ہے اپنی طاقت بڑھانے کے لیے۔ یوں ہی عام زندگی میں ہم جب بھی کسی کے خلاف بولتے ہیں تو اصل مقصد یہ بتانا ہوتا ہے کے ہم اس سے اچھے ہیں اس سے اس لیے سامنے والے کے خلاف کھڑے ہونے کے لیے ہمارے ساتھی بن جاؤ۔

E: Excuse Poor Performance

یہ بھی اپنی ذمہ داری سے بھاگنا ہی ہے، جیسے میں تو وقت پر آ جاتا آفس پر راستے میں ٹریفک مل گیا، میں تو کام کرنے ہی بیٹھا تھا پر فلاں نے بلا لیا اب رپورٹ کو ٹائم لگے گا، گھر آتے ہوئے سب یاد تھا کیا لانا ہے پر وہ فلاں نے ایسی نحوست ڈالی اپنی باتوں کی سب بھول گیا۔

ہم شکایتیں کرتے ہیں کہ اپنے اوپر سے ذمہ داریاں ہٹا سکیں۔ شکایات کی خاص بات ہے جب ایک کرتا ہے تو دوسرے کے پاس اس سے زیادہ شکایات ہوتی ہیں اور یہ ایک نا ختم ہونے والا سلسلہ وائرس ہے جو جتنا پھیلتا ہے اتنا مزید بڑھ جاتا ہے اس سب میں مرد اور عورتیں برابر ہیں کم زیادہ نہیں۔ سوال یہ ہے کیا ہم اس وائرس سے بچ سکتے ہیں، اس کا علاج کیسے ہو سکتا ہے؟

سب سے پہلے تو دن کا ایک وقت کورنٹائن کریں شکایات سے جیسے پچھلے دو سالوں سے دنیا کورینٹائن میں ہے کرونا کے خلاف۔ شکایت سے کورنٹائن صرف یہی نہیں کے کوئی شکایت نہیں کرنی، بلکہ یہ بھی ہے کے شکایت سنیں بھی نہیں دیکھنی بھی نہیں۔ جاپان کی پرانی کہاوت میں تین بندروں کی کہانی مشہور ہے کے ان تین بندروں میں سے ایک نے فیصلہ کیا کے وہ اب سے کوئی غلط بات نہیں بولے گا، دوسرے نے فیصلہ کیا کے وہ اب کوئی غلط بات سنے گا نہیں اور تیسرے کا فیصلہ تھا کے وہ اب کوئی غلط بات دیکھے گا نہیں۔

اسی طرح دن کا ایک پہر کچھ منٹ ہم اس طرح سے کورنٹائن کر سکتے ہیں جب ہم کچھ غلط سننے نا، بولیں نا اور دیکھیں نا۔ اور اس کے ساتھ ساتھ اپنی پورے دن کی شکایات گنتی کریں، کے ہم کب اور کیوں شکایت کرتے ہیں۔ اس کے لیے will Bowen نے تو ایک طریقہ یہ بتایا کے ہم اپنے ایک ہاتھ میں ربڑ باندھ لیں اور جب بھی شکایت کریں تو تو اسے دوسرے ہاتھ میں بدل دیں اس طرح ہم احساس رہے گا کے اب ہم نے شکایت کی ہے، ربڑ نا ہو تو ہم اپنی ایک جیب میں چند چھوٹے بال یا پتھر بھی رکھ سکتے ہیں جسے شکایت کے وقت دوسرے جیب میں منتقل کر سکیں۔ اس کے علاوہ بھی کئی متبادل ہو سکتے ہیں اپنی مناسبت سے جس سے ہم اپنی شکایات جو بن سکیں وجہ جان سکیں، اصل میں کوئی شکایت ہے بھی یا صرف ہم کسی دوسرے کی شکایت پہ اپنا دکھڑا لے بیٹھے ہیں۔

زندگی میں ہر انسان اپنی مستقل کوشش میں ہے جینے کی ہم بعض اوقات دوسروں کو دیکھ کر خود کے لیے زندگی کو مشکل بنا لیتے ہیں سوشل میڈیا کے اس دور میں خاص طور ہم دوسروں کی زندگیوں سے خاص طور پہ ڈپریشن میں چلے جاتے ہیں یہ سوچے بنا کے سامنے والے کی کوشش الگ اور راستہ بھی الگ ہے، پر انسانی فطرت ہے کے وہ ہر چمکتی چیز کو سونا سمجھ لیتا ہے اور سامنے والے کی زندگی کی چمک ہماری آنکھوں کو خیرہ کرتی ہے اور ہم وہی چمک لینے کی خاطر اپنی زندگی کو مشکل بنا لیتے ہیں یہ جانے بنا کے آگ بھی ایک چمک ہے کیا پتہ ہم جس کو سونا سمجھ کر مانگ رہے ہوں سامنے والے کے لے وہ آگ ہو۔ جس طرح اعراف کو جنت اور دوزخ کے درمیان کا مقام کہتے ہیں، جہاں اگر کوئی جہنم سے آئے تو اسے وہ مقام جنت لگے اور کوئی جنت سے نکال کر وہاں لایا جائے تو اسے وہ مقام جہنم لگے۔ اسی لیے جنتیوں کے لیے اعراف جہنم ہے اور دوزخیوں کے لیے اعراف جنت سے کم نہیں ہے۔

اسی طرح ہر انسان کا جنت اور دوزخ کا مفہوم الگ ہے۔

مطلب ہر ایک کی زندگی الگ اور کوشش بھی الگ پر ہم یہ ماننا ہی نہیں چاہتے کے اور خود بھی تک تکلیف میں مبتلا رہتے اور شکایت کے پلندے لیے پھرتے ہیں۔

سب سے آسان حل جو مجھے لگتا ہے :

ہر بات ہر کام کے دو پہلو ہوتے ہیں، پہلا جب کوئی کام آپ کی مرضی کا نا ہو تو دیکھیں کے کیا آپ اس کو اپنی مرضی کے مطابق کر سکتے ہیں، اگر جواب ہاں میں ملے تو لگ جائیں کوشش میں بجائے شکایت کرنے کے۔

دوسرا پہلو اگر جواب نا میں ملے تو پھر اسے جیسا ہے ویسا قبول کریں اور خود کو اس حساب سے ڈھال لیں۔ یہاں سوال اٹھتا ہے آخر کب تک خود کو ضبط میں رکھیں اور برداشت کریں تو سادہ سا جواب تب تک جب تک آپ اس کے لیے کوئی راستہ نکال لیں اور ہو گا پتہ کیا یا تو آپ راستہ نکال لیں گے یا حالات کے مطابق ڈھل چکے ہوں گے۔ حالات کے مطابق ڈھل جانا ناکامی نہیں ہوتا، کبھی کبھی وقت کی ضرورت ہوتا ہے۔ میرا ماننا ہے وقت کو وقت دیں تو وقت بدل ہی جاتا ہے۔ صبر کے دو مفہوم ہیں ایک تو صبر کرنے والوں کو اتنا ملتا ہے جتنا کوشش کرنے والوں سے بچ جاتا ہے، دوسرا صبر ہر ممکن کوشش کے بعد کا عمل ہے۔ ہاتھ پاؤں چھوڑ کر روتے رہنے کا نام نہیں۔

یہی وجہ ہے مجھے روتی دھوتی فلمیں پسند نہیں جہاں ہر بات میں رونا ہوتا ہے، اور صبر کرو کی تلقین یہی سبق ہم اپنی کئی نسلوں سے پڑھتے آرہے ہیں صبر کا۔ اسی لیے ایکشن فلموں میں کوشش دکھائی جاتی ہے۔ ہار اور جیت کا کوشش سے کوئی لینا دینا نہیں کیونکہ ہار جیت کی جس ڈگر پہ ہم لوگ گا گامزن ہیں وہ سرے سے ہی انسانی فطرت کے خلاف ہے بالکل ریس کے گھوڑے جیسا، جسے بھاگنا ہے اور منزل معلوم نہیں۔ ہاں پر ہاتھ پہ ہاتھ دھر کر بیٹھ جانا اور شکایت کرنے سے بڑی شکست بھی کوئی نہیں۔ اور شکایات خوشی تو کچھ نہیں دیتی ہاں البتہ سکون بھی چھین لیتی ہیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments