امریکی فوج نے بگرام ایئربیس خالی کر دیا


طالبان اور اس کے اتحادی القاعدہ کے خلاف امریکی افواج کی کارروائیوں میں بگرام ایئربیس اہم کردار ادا کرتی رہی ہے۔

امریکہ اور مغربی ملکوں کے عسکری اتحاد ‘نیٹو’ کا افغانستان سے انخلا کا عمل جاری ہے۔ اس ضمن میں جمعے کو امریکی فوج نے افغانستان کی سب سے بڑی بگرام ایئربیس خالی کر دی ہے۔

خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کے مطابق امریکی محکمۂ دفاع کے حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ بگرام ایئربیس سے تمام فوجی واپس چلے گئے ہیں۔

البتہ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ بگرام ایئربیس کو باضابطہ طور پر کب افغان فورسز کے حوالے کیا جائے گا۔

طالبان اور اس کے اتحادی القاعدہ کے خلاف امریکی افواج کی کارروائیوں میں بگرام ایئربیس اہم کردار ادا کرتی رہی ہے۔

سینئر افغان حکام نے کہا ہے کہ اب تک افغان فورسز کو سرکاری طور پر ایئربیس کی حوالگی سے متعلق آگاہ نہیں کیا گیا۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے ایک بیان میں بگرام ایئربیس کو خالی کرنے کے عمل کو مثبت قدم قرار دیا ہے۔ ان کے بقول یہ اقدام فریقین کے مفاد میں ہے۔

ترجمان نے کہا کہ غیر ملکی افواج کے مکمل انخلا سے افغان عوام امن اور سیکیورٹی کے قریب جا سکتے ہیں۔

حالیہ چند مہینوں کے دوران بگرام ایئر بیس کے قریب راکٹ حملے بھی ہوئے ہیں جس کی ذمہ داری عالمی دہشت گرد تنظیم ‘داعش’ نے قبول کی تھی۔ راکٹ حملوں کے بعد ان خدشات کا اظہار کیا جا رہا تھا کہ شدت پسندوں کی نظریں مستقبل میں حملوں کے لیے اس بیس پر ہیں۔

یاد رہے کہ سرد جنگ کے زمانے میں امریکہ نے بگرام ایئربیس 1950 میں تعمیر کی تھی اور 2021 میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد اس بیس کو طالبان سمیت دیگر قیدیوں کو رکھنے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

سینئر افغان حکام نے کہا ہے کہ اب تک افغان فورسز کو سرکاری طور پر ایئربیس کی حوالگی سے متعلق آگاہ نہیں کیا گیا۔
سینئر افغان حکام نے کہا ہے کہ اب تک افغان فورسز کو سرکاری طور پر ایئربیس کی حوالگی سے متعلق آگاہ نہیں کیا گیا۔

بگرام ایئر بیس کا کنٹرول سنبھالنا افغان فورسز کی صلاحیتوں کا امتحان ہو گا۔ اس بیس سے مقامی فورسز کو نہ صرف دارالحکومت کابل کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی بلکہ طالبان پر بھی اس کا دباؤ ہو گا۔

غیر ملکی افواج کا انخلا

امریکہ اور طالبان کے درمیان گزشتہ برس ہونے والے امن معاہدے کے تحت غیر ملکی افواج افغانستان سے انخلا کر رہی ہیں۔ اب تک جرمنی اور اٹلی نے تصدیق کی ہے کہ ان کے تمام فوجی واپس اپنے ملک پہنچ گئے ہیں۔

امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے بھی 11 ستمبر 2021 تک افغانستان سے مکمل انخلا کا اعلان کر رکھا ہے۔

نیٹو کی قیادت میں ایک غیر جنگی مشن افغانستان میں قیام کا ارادہ رکھتا ہے جس کا مقصد غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد افغان فورسز کو تربیت فراہم کرنا ہو گا۔

دوسری جانب طالبان نے گزشتہ دو ماہ کے دوران افغان فورسز کے خلاف اپنی کارروائیاں بھی تیز کر دی ہیں اور اب تک وہ 100 سے زیادہ اضلاع پر قابض ہو چکے ہیں۔

Facebook Comments HS

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 3333 posts and counting.See all posts by voa