وزیراعلی عثمان بزدار یا حیدر علی؟


کہتے ہیں کہ بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی۔ ایسا ہی کچھ پنجاب کے معصوم اور بھولے بھالے وزیراعلی سردار عثمان بزدار کے بارے میں لگ رہا ہے، پنجاب کے وزیراعلی نے تین سال ہنی مون منا لیا، اب جوں جوں ان کے اقتدار کا سورج ڈوبنے لگا ہے میڈیا میں اب کہیں نہ کہیں ان کے حوالے سے خبریں آنا شروع ہو گئی ہیں، چند روز قبل نیب نے وزیراعلی کے پرنسپل سیکرٹری طاہر خورشید کو زائد اثاثوں کے حوالے سے طلب کر لیا ہے، طاہر خورشید وزیراعلی کے انتہائی با اعتماد افسر ہیں

بعض میڈیا چینلز پر خبر چلی ہے کہ وزیراعلی پنجاب کے پی ایس او (پرسنل سٹاف افسر) حیدر علی کے دوستوں نے وزیراعلی کے سرکاری ہیلی کاپٹر کو سفر کے لئے استعمال کیا ہے، حیدر علی کے دوستوں نے نہ صرف سفر کیا بلکہ اس کی ویڈیوز بنا کر ٹک ٹاک پر بھی چلا دیں اور سلفیاں بھی بنائیں جس کے بعد یہ خبر میڈیا پر چل گئی کہ وزیراعلی پنجاب کا ہیلی کاپٹر ان کے پی ایس او کے دوست استعمال کر رہے ہیں

ترجمان حکومت پنجاب نے وزیراعلی پنجاب کے ہیلی کاپٹر کے استعمال کے حوالے سے بعض میڈیا چینلز پر نشر ہونے والی خبر کو حقائق کے منافی اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعلی پنجاب کے پی ایس او حیدر علی کے دوستوں نے سرکاری ہیلی کاپٹر کسی سفر کے لئے استعمال نہیں کیا، پی ایس او کے دوست ہیلی کاپٹر پر فیصل آباد گئے اور نہ کسی اور شہر، دوستوں نے صرف ہیلی کاپٹر میں تصویریں بنائی، کہیں سفر نہیں کیا۔

ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ہیلی کاپٹر کے استعمال کا اختیار صرف وزیراعلی پنجاب کے پاس ہے، ماسوائے کریو اور سٹاف ٹیکنیکل انسپکشن کے دوران ہیلی کاپٹر کی فلائٹ لے سکتے ہیں، پی ایس او کے پاس ہیلی کاپٹر کے استعمال کا کوئی اختیار نہیں، وزیراعلی عثمان بزدار نے اس ضمن میں انکوائری کا حکم بھی دیا ہے۔

ترجمان پنجاب حکومت کی وضاحت میں ہی خبر کی تصدیق ہوجاتی ہے کہ وزیر اعلی پنجاب کے پی ایس او حیدر علی کے دوستوں نے سفر نہیں کیا صرف ہیلی کاپٹر میں تصاویر بنوائی ہیں، ترجمان کی بات پر اعتبار کر لیا بھی جائے تو کیا قانون اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ وزیراعلی کے پی ایس او کے دوست جو ظاہر ہے بچے تو نہیں ہیں وزیراعلی پنجاب کے ہیلی کاپٹر تک پہنچ جائیں اور وہاں تصاویر بنائیں، کیا وزیراعلی پنجاب کا پی ایس او اتنا با اثر ہے کہ وہ اپنے دوستوں کو سرکاری طور پر منظوری کے بغیر اپنے دوستوں کو ہیلی کاپٹر تک لے جائے، کیا یہ حساس معاملہ نہیں ہے؟

حیدر علی کون ہے، موصوف وفاقی حکومت سے افسر مینجمنٹ گروپ کے گریڈ 18 کے افسر ہیں، سابق وزیراعلی شہباز شریف کے ساتھ بھی کام کرچکے ہیں، ان کو موجودہ وزیراعلی کے ساتھ پنجاب کی ایک اہم حکومتی شخصیت کی سفارش پر لگایا گیا ہے، موجودہ وزیراعلی نے ان کو ہٹانے کی متعدد کوششیں بھی کیں مگر پنجاب کی اہم حکومتی شخصیت فوراً حیدر علی کی حمایت میں وزیراعلی ہاؤس پہنچ جاتی ہے

حیدر علی نے وزیراعلی پنجاب کو مکمل طور پر اپنے قابو میں کیا ہوا ہے، پنجاب میں موصوف ڈمی وزیراعلی کے نام سے جانے جاتے ہیں، حیدر علی کی وجہ سے عثمان بزدار کو متعدد مرتبہ خفت بھی اٹھانا پڑی، راقم نے 2019 ءمیں خبر دی تھی کہ وزیراعلی کے پی ایس او حیدر علی نے پنجاب کا پورا انتظام سنبھال رکھا ہے، خبر یہ تھی کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی ملتان کے ارکان اسمبلی کے ہمراہ جن میں عامر ڈوگر بھی شامل تھے ملاقات کی، ملاقات شروع ہوتے ہیں ہی شاہ محمود قریشی انتہائی غصے میں آ گئے اور عثمان بزدار سے کہا، یہ حیدر علی کون ہے؟

عثمان بزدار نے حیدر علی کو بلایا اور غصے میں کہا تم کیا چیز ہوں، تم شاہ محمود قریشی سے بڑی شخصیت ہو، تمھارا خاندان میرے خاندان سے بڑا ہے، میں تحریک انصاف کا سینئر نائب صدر ہوں، کیا تمھارا عہدہ میں مجھ سے بڑا ہے، او تم شاہ محمود قریشی کا فون نہیں سنتے، شاہ صاحب انتہائی غصے میں حیدر علی پر برستے رہے، اس موقع پر ملازم شاہ صاحب کے لئے پانی لے کر آیا تو انہوں نے پانی پینے سے انکار کر دیا، پھر چائے پیش کی تو وہ بھی واپس کردی

شاہ محمود قریشی نے عثمان بزدار کو بھی کھری کھری سنا دیں کہ ملتان کے ارکان اسمبلی وزیراعلی ہاؤس آئیں تو ان کو باہر بیٹھا ہوا وٹو چنے پیش کرتا ہے اور ڈیرہ غازی خان کے ارکان اسمبلی کے لئے بکرے ذبح کرائے جاتے ہیں، بزدار صاحب میں اپنے ارکان اسمبلی کی توہین برداشت نہیں کروں گا، اس موقع پر ایک بار پھر شاہ محمود کو چائے پیش کی گئی تو انہوں غصے میں کہا کہ میں یہاں چائے پینے نہیں آیا، انہوں نے حیدر علی کو وارننگ دی کہ آئندہ میرا فون نہ سنا تو بہت برا پیش آؤں گا

حیدر علی کا وزیراعلی اور وزیراعلی ہاؤس پر اتنا زیادہ کنٹرول ہے کہ گریڈ 18 کے افسر کو صوبائی سیکرٹریز جو کہ گریڈ 20 کے ڈی ایم جی افسر ہیں وہ بھی حیدر علی کی طاقت کو دیکھتے ہوئے اسے ”سر“ کہہ کر بلاتے ہیں جس پر حیدر علی مزید اکڑ جاتا ہے، صوبائی سیکرٹریز کی جرات نہیں کہ وہ حیدر علی کی مرضی اور مزاج کے بغیر کوئی کام کریں

حیدر علی نے وزیراعلی پنجاب پر ایسا جادو کیا ہے کہ وہ جو چاہے وہ وزیراعلی پنجاب سے کروا سکتا ہے، حیدر علی کی طاقت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ چند ماہ قبل وزیراعلی جنوبی پنجاب کے دورے پر گئے، پریس کلپنگ بروقت نہ پہنچی تو حیدر علی طیش میں آ گیا اور وزیراعلی کو اتنا بھڑکا دیا کہ انہوں نے ملتان کے ڈائریکٹر پبلک ریلیشن کو او ایس ڈی بنا دیا حالانکہ وزیراعلی کو پریس کلپنگ صبح وقت مقررہ پر بھیج دی گئی تھی مگر عملے کی نا اہلی اور سستی کی وجہ سے وزیراعلی کو گیارہ بجے ملی جس پر وزیراعلی سے زیادہ حیدر علی کو زیادہ غصہ آیا

موصوف صرف وزیراعلی ہاؤس میں ہی طاقتور نہیں وہ پورے صوبے پر کنٹرول رکھے ہوئے ہیں، وزیراعلی پنجاب جب بھی دوسرے شہر دورے پر جاتے ہیں تو حیدر علی افسران کے دفاتر میں جاکر ان کی حاضری بھی چیک کرتے ہیں اور وزیراعلی کو رپورٹ دے کر ان کو او ایس ڈی بھی بنوانے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے

حیدر علی کی مرضی کے بغیر وزیراعلی ہاؤس میں چڑیا پر بھی نہیں مار سکتی، حیدر علی کی والدہ کا انتقال ہوا تو وزیراعلی صاحب بچیکی کے نواحی گاؤں میں وہاں تعزیت کرنے پہنچ گئے چند روز قبل لاہور میں حیدر علی کے چھوٹے بھائی کی شادی ہوئی وہاں بھی وزیراعلی پہنچے اور حیدر علی کی خوشیوں میں شریک ہوئے

کسی کی غمی اور خوشی میں شرکت کرنا اتنے بڑے عہدے پر فائز شخصیت کی عظمت ہے مگر کیا عثمان بزدار وزیراعلی ہاؤس کے دیگر ملازمین کی غمی اور خوشی میں بھی شریک ہوئے ہیں؟ اس وقت وزیراعلی کے بھانجے اسد بزدار اور حیدر علی میں گاڑی چھن رہی ہے، اسد بزدار وزیراعلی ہاؤس میں اہم امور دیکھتے ہیں اور حیدر علی اسد بزدار کو مکمل ہدایات دیتا ہے

اخبارات نے اشتہارات کے چکر اس خبر کو ہی گول کر دینا ہے، یہ تو بھلا ہو ٹک ٹاک کا جس نے بھانڈا پھوڑ دیا، ترجمان پنجاب حکومت کے مطابق وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار نے ہیلی کاپٹر کے معاملے کی انکوائری کا حکم دیدیا ہے، ہمارے ہاں جیسی انکوائریاں ہوتی ہیں وہ سب جانتے ہیں۔ اب دیکھتے ہیں انکوائری میں کیا نکلتا ہے ویسے ہیلی کاپٹر کے استعمال پر نیب بھی پر انکوائری کر سکتا ہے۔

Facebook Comments HS