موجودہ حکومت میں اوورسیز پاکستانیوں کے مشکلات میں اضافہ


ہمارے وزیر اعظم اپنی ہر تقریر میں اوورسیز پاکستانیوں کو پاکستانی معیشت کے لئے ریڑھ قرار دیتے ہیں۔ اپنی ہر تقریر میں روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے حوالے سے اوورسیز پاکستانیوں کی دلچسپی اور ریکارڈ ساز پیسے بھیجنے کی بات کرتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان اپنی حالیہ تقریر میں کہا ہے کہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ اہم سنگ میل عبور کر گیا ہے اور اکاؤنٹ 1.5 ارب ڈالر کو کراس کر گیا۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی رپورٹ کے مطابق جاری مالی سال 2020۔21 ء کے 11 ماہ (جولائی تا مئی) کے دوران سمندر پار پاکستانیوں نے مجموعی طور پر 26 ارب 73 کروڑ 60 لاکھ ڈالر ڈالر کا زرمبادلہ ملک ارسال کیا ہے۔ یہ شرح گزشتہ مالی سال 2019۔ 20 ء کے 11 ماہ (جولائی تا مئی) کے مقابلہ میں 29.4 فیصد زیادہ ہے۔ لیکن اس کے باوجود حکومت ایسے اقدامات اور قانون سازی کرتی ہے جس سے اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل میں اضافہ ہوتا ہے۔

اوورسیز پاکستانی اپنے ساتھ اپنا موبائل تک اپنے ملک نہیں لا سکتے۔ اگر اپنا موبائل اپنے ساتھ لاتے ہیں اور استعمال کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے حکومت پاکستان کو ٹیکس دینا پڑتا ہے۔ ایسی قانون سازی کی مثال دنیا کے کسی ملک میں نہیں۔ اوورسیز پاکستانیوں کی جائیدادوں پر قبضہ اور ائر پورٹوں پر بد تمیزی کے واقعات عام ہیں۔ یورپ میں پاکستان انٹرنیشنل ائر لائن پر پاکستان کے ہوا بازی کے وزیر کے بیان کے بعد پابندی لگ گئی۔ یہ پابندی ایک سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود برقرار ہے۔

پاکستان انٹرنیشنل ائر لائن واحد ائر لائن تھی جو یورپ سے پاکستان کے لیے ڈائرکٹ پرواز کرتی تھی۔ یورپ میں انتقال کر جانے والے پاکستانی شہریوں یا پاکستانی نژاد باشندوں کی میتوں کا تدفین کے لیے پاکستان پہنچایا جانا بھی ایک بہت بڑا مسئلہ بن چکا ہے اور کمیونٹی کے افراد کو میتوں کو واپس لانے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اب جبکہ یورپ میں معمولات زندگی بحال ہو رہی ہے اور بین الاقوامی پروازوں کو معمول پر لایا جا رہا ہے تاکہ یورپ میں سیاحت اور معیشت کو بحال کیا جا سکے تو ایسے موقع پر حکومت پاکستان کی طرف سے بین الاقوامی فلائٹ آپریشن 31 جولائی تک معطل کرنے کا فیصلہ سنایا گیا ہے۔

پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ملکی ہوائی اڈوں سے بین الاقوامی پروازوں کی آمد و رفت کی معطلی کی تاریخ میں 31 جولائی تک توسیع کر دی گئی ہے۔ اوورسیز پاکستانیوں نے حکومت سے فلائٹ آپریشن بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اوورسیز پاکستانی عید تہوار کے مواقع پر کثیر تعداد میں اپنے وطن کا رخ کرتے ہیں تاکہ خوشیاں اپنے عزیز و اقارب کے منا سکیں جولائی میں بچوں کی گرمی کی تعطیلات بھی ہوتی ہے اور پورے سال میں یہ واحد موقع ہوتا ہے کہ لوگ ان تعطیلات میں اپنے پیاروں کے ساتھ وقت گزارے۔

بہت سے لوگوں نے ایڈوانس میں ٹکٹیں بھی خرید رکھی ہے۔ لیکن بین الاقوامی فلائٹ آپریشن بند ہونے کی وجہ سے پاکستانی کمیونٹی نے جس ایئرلائنز سے ٹکٹس بک کروائی تھیں اس ایئرلائنز کی جانب سے فلائٹ کینسل ہونے کی میل موصول ہو رہی ہیں اوورسیز پاکستانی پریشانی کا شکار ہے۔ جبکہ بہت سے پاکستانی جو چھٹیوں پر پاکستان گئے ہیں اور جن کی چھٹیاں حتم ہو چکی ہیں وہ فلائٹس نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان میں پھنسے ہوئے ہیں ایسے اوورسیز پاکستانیوں کو شکایت یہ ہے کہ وہ وطن لوٹنے کے بعد وہاں پھنس کر رہ گئے ہیں۔ وہ واپس آنا چاہتے ہیں، مگر ان کی کسی جگہ شنوائی نہیں ہو رہی۔

یہ صورت حال مجموعی طور پر کتنے شہریوں کو درپیش ہے، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ ایسے اوورسیز پاکستانیوں کی تعداد ہزاروں میں ہے اور وہ نہیں جانتے کہ وہ کب ان ممالک کو لوٹ سکیں گے، جہاں وہ آباد ہیں۔ ان میں سے بعض افراد کے پاس قلیل مدتی رہائشی کارڈ ہیں اور اگر یہ وقت پر واپس نہیں آئے تو ان کے کاغذات بھی حتم ہو سکتے ہیں۔ امریکہ، یورپ اور خلیجی ممالک میں تقریباً 90 لاکھ اوورسیز پاکستانی آباد ہیں جو دن رات محنت کر کے اربوں ڈالر کا زرمبادلہ پاکستان کو بھیجتے ہیں، جن سے پاکستان کی معیشت میں بہتری آتی ہے۔

اس طرح اوورسیز پاکستانیوں نے ملکی معیشت کو بہت بڑا سہارا دے رکھا ہے۔ یورپ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی حکومت پاکستان سے مطالبہ کر رہی ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل کے حل کے لیے بیانات نہیں بلکہ ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔ اور بین الاقوامی پروازوں پر پابندی کے خاتمے کے ساتھ ساتھ پاکستان انٹرنیشنل ائر لائن کی یورپ کے پروازوں کی بحالی کے لئے حکومت سنجیدہ اقدامات کرے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words