حبس زدہ معاشرے کی سیاست
اس حبس زدہ معاشرے میں جہاں معصوم زینب سے لے کر موٹر وے پر سفر کرتی خواتین جنسی درندگی کا نشانہ بن گئیں اور دینی و دنیاوی تعلیمی اداروں میں مستقبل کے معمار اساتذہ اور ملاؤں کی جنسی ہوس کا نشانہ بن گئے۔ کتنی ہی مجبور عورتوں نے پیٹ کا جہنم بھرنے کی خاطر اپنی عصمتوں کا سودا کر لیا۔ ایسے ملک کے ذرائع ابلاغ کو اس سب کچھ کے باوجود اگر کچھ نظر آیا تو حریم شاہ کی شادی کا اعلان۔ مہنگائی، غربت اور بے روزگاری جیسے مسائل کے حل کی بجائے حریم شاہ کے ممکنہ دولہا کی تلاش شروع کردی گئی۔ اس کیفیت کو معروف شاعر شاکر شجاع آبادی نے خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے کہ ساڈی دھاڑ سنڑی نہ کہیں شاکر، اوندی ہنجھ نکھتی ہل ہل پئے گی۔
ہل ہل تو قومی اسمبلی میں اس وقت بھی پڑ گئی جب بلاول بھٹو زرداری نے دوران تقریر وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کو ان کے ماضی میں لگائے گئے جیئے بھٹو کے نعرے یاد کرا دیے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ بلاول بھٹو زرداری جس اسپیکر کو دیکھ کر قریشی کو عہد رفتہ یاد کرا رہے تھے وہ اسپیکر قومی اسمبلی بھی پہلے جماعت اسلامی سے سیاسی وابستگی رکھتے تھے بعد ازاں سوئے ہوئے ضمیر کے جاگنے پر تحریک انصاف کا حصہ بن گئے۔ تبدیلی سرکار کے بھان متی کے جوڑے ہوئے کنبے میں کہیں کی اینٹ اور کہیں کے روڑے کا استعمال کیا گیا ہے اب بلاول کس کس کو ان کے سیاسی قبیلے یاد کراتے رہیں گے
یاد تو پی ڈی ایم کو اس کا بیانیہ بھی کرانا ہے جو بظاہر سوات کے جلسہ میں کہیں نظر نہیں آیا۔ سوات کے ٹھنڈے موسم میں جہاں بارش نے سردی میں اضافہ کیا وہاں پر شہباز شریف کے ٹھنڈے بیانیے نے بھی سامعین کو یخ بستہ کیے رکھا۔ مریم نواز شریف کے بغیر ماحول پھیکا پھیکا سا رہا نون لیگ کے قائد کی ہومیوپیتھک تقریر نے عوام کو کتنا متاثر کیا یہ تو سوات کی عوام ہی بتا سکتی ہے تاہم پی ڈی ایم کا جو ابتدائی بیانیہ تھا وہ بہرحال کہیں کھو گیا ہے۔ قائدین کی تقریروں سے زیادہ گھن گرج تو موسم کی تھی لگتا یہی ہے کہ پی ڈی ایم سابقہ بیانیہ دہرانا نہیں چاہتی مطلب یہ کہ پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا۔
گھن گرج تو پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کے اجلاس میں بھی کہیں سنائی نہیں دی۔ میڈیا ذرائع کے مطابق بلاول بھٹو، شہباز شریف، شاہ محمود قریشی اور مشاہد حسین سید نے آرمی چیف سے افغان صورتحال پر سوالات کیے جن کے تسلی بخش جواب دیے گئے۔ کھانے کی میز پر سپہ سالار مرکز نگاہ رہے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ پی ٹی ایم کے علی وزیر کو معاف کردیں تو آرمی چیف نے کہا کہ فوج پر تنقید برداشت نہیں کریں گے اس لیے علی وزیر کو بھی معافی مانگنا ہوگی۔ ایک موقع پر مشاہد حسین سید نے کہا کہ اپوزیشن اور خاص طور پر نون لیگ پر ہاتھ ہولا رکھیں تو آرمی چیف نے مسکراتے ہوئے کہا کہ فواد چوہدری بھی ساتھ ہی کھڑے ہیں آپ کے۔
میڈیا کے مطابق بڑے بھائی جان جس شخصیت کو ہدف تنقید بناتے ہیں چھوٹے بھائی جان بوتل پکڑے اسی شخصیت کے سامنے کھڑے رہے یہی نہیں بلکہ ووٹ کو عزت دو کے فلک شگاف نعرے لگانے والے رانا ثنا اللہ، خواجہ سعد رفیق اور مریم اورنگزیب بھی چہروں پر مسکراہٹ سجائے وہیں اکٹھے ہو گئے۔ ویسے جب میاں نواز شریف نے جب اس محفل کا حال سنا ہوگا تو اس وقت خود کو کس قدر تنہا محسوس کیا ہوگا۔ اور تو اور مریم نواز بھی کم وبیش یہی کیفیت ہوگی۔
ہماری سیاست کا یہی سب سے بڑا المیہ ہے کہ ہمیں یہاں کچھ بھی خالص نہیں ملا۔ اس ملک پر جب بھی فوج نے اقتدار سنبھالا تو ہر فوجی حکمران نے پہلے پہل تو شاندار تقاریر کر کے عوام کو اپنی طرف متوجہ کر لیا مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہر فوجی حاکم نے آمریت کو چھوڑتے ہوئے جمہوری شخصیت بننے کی کوشش کی اور اسی طرح ہر جمہوری دور کے حاکم نے وقت ملنے پر آمر بننے کی کوشش کی اور نتیجہ یہ نکلا کہ کوئی بھی کامیاب نہیں ہوسکا۔
پاکستان کی سیاسی قیادت کا یہ بھی تو المیہ ہے کہ یہ ایک ہی ساس کی بہووں کی طرح سارا دن ایک دوسرے سے ساس کے گلے کرتی ہیں اور شام کو اسی ساس کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ نظریاتی بنیادوں پر پارٹی کی بنیادوں کو استوار کرنے کی دعویدار سیاسی قیادت اپنے انقلابی نعروں سے جہاں عوام میں انقلاب کی نئی روح پھونک رہی ہوتی ہیں عین اسی وقت درپردہ اقتدار میں باری لینے کی تگ و دو بھی کر رہی ہوتی ہیں۔ عوام سمجھ رہی ہوتی ہے کہ انقلاب آ رہا ہے اور انقلاب آ بھی جاتا ہے مگر صرف ان کی زندگیوں میں جنہوں نے اقتدار میں آنا ہوتا ہے اور عوام کے حالات جوں کے توں رہتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ آج گئی اور کل گئی حکومت کی پیش گوئیاں کرنے والوں کی موجودگی میں بجٹ بھی پاس ہو گیا اور اپوزیشن کے جلسے جلوس بھی جاری ہیں۔ افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پریشان کن بھی ہے اور خانہ جنگی کی وجہ سے مایوس کن بھی۔ لہذا ملک کسی بھی قسم کے داخلی سیاسی انتشار کا متحمل نہیں ہو سکتا اور اسی بنیاد پر حکومت کو اپنی مدت پوری کرنے کا موقع بھی مل جائے گا۔ مگر ان نالائقیوں کا کیا کیا جائے جن کی بنیاد پر عام آدمی کی حالت دگرگوں ہو گئی ہے۔
ٹیکسز کی بھرمار اور ہوش ربا مہنگائی کے خلاف جن کو آواز اٹھانی چاہیے تھی وہ کھانے کی میز پر بڑے مودب اور مہذب انداز میں کھانا کھاتے ہوئے جان کی امان کے منتظر نظر آتے ہیں۔ اگر آخری عمل یہی تھا تو اس قدر شور کیوں مچایا گیا۔ اگر باری ہی لینی تھی تو انقلابی نعرے کیوں لگائے گئے۔ اگر سلیکشن ہی کرانا مقصود تھی تو ووٹ کو عزت دینے کا فلسفہ کیوں بیان کیا گیا بس سیدھے سیدھے لائن میں لگ جانا تھا۔ کبھی نا کبھی تو باری آ ہی جانی تھی۔


