5 جولائی 1977 کا کالا دن اور میں

ان دنوں ایم بی بی ایس کرنے والے کو زبردستی فوج میں عارضی ملازمت کرنے پر مجبور کیا جاتا تھا۔ اس مجبوری کا شکار میں بھی ہوا تھا۔ فوج کے ایک ادارے کی معاشرے میں مداخلت پہلے سے شروع تھی۔ اس ادارے کو میری بائیں بازو سے وابستہ سیاسی سرگرمیوں کا علم تھا اور ہوتا بھی کیوں نہ چونکہ میں 1972 میں مزدوروں کے ایک احتجاجی جلوس میں شامل ہونے کی بنا پر پولیس کے ہاتھوں خوب پٹا تھا اور مجھ پر اغوا بالجبر، مسلح بلوہ، لوٹ مار، آتشزنی اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے تحت مقدمات تھے۔ قانون شکنی کی یہ شقیں پاکستان میں کسی پر بھی لگائی جا سکتی تھیں اور اب بھی لگائی جاتی ہوں گی ۔

ایم بی بی ایس کر لیا تھا مگر پیشیاں بھگتنا جاری تھا۔ جی ایچ کیو میں رسمی انٹرویو کے دوران جب مجھ سے انگریزی میں پوچھا گیا ”Any problem جس میں ہم مدد کر سکیں“ تو میں نے بتایا تھا کہ مجھ پر مقدمات ہیں۔ جب پوچھا گیا کون سے مقدمات تو میں نے کہا تھا کہ انگریزی میں مجھے شقیں معلوم نہیں چنانچہ میں نے اردو میں ہی انہیں دہرا دیا تھا۔ لیفٹیننٹ جنرل سی کے حسن نے کہا تھا، ”ہم انہیں دیکھ لیں گے“ ۔ میری پوسٹنگ گلگت کے دور افتادہ علاقے میں کر دی گئی تھی۔

سال سوا سال کے بعد ہارڈ ایریا سے سافٹ ایریا میں پوسٹنگ ہوتی تھی۔ میں نے جی ایچ کیو کو لکھا کہ مجھے ملتان پوسٹ نہ کیا جائے مگر مجھے ملتان میں ہی پوسٹ کیا گیا اور ایک بار پھر یونٹ میں۔ اگرچہ عمومی طور پر یونٹ کے بعد یا اس میں پوسٹ ہونے سے پہلے نئے ڈاکٹر کپتانوں کو سی ایم ایچ پوسٹ کیا جاتا تھا تاکہ وہ طب کا عملی علم بھی جان سکیں۔

تب ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے خلاف پرتشدد مظاہرے جاری تھے۔ میں اپنی ایک سرمئی سرگرمی ”Grey activiity“ کے کارن آئی ایس آئی کے جال کا حصہ بن چکا تھا۔ میرے ذمے فوج اور عوام میں حکومت اور حزب مخالف کے حق میں لوگوں کی تعداد کا اندازہ لگانا لگایا گیا تھا۔ کام سے تقریباً چھٹی تھی۔ میرے سی او لیفٹیننٹ کرنل بشیر مجھ سے کوئی استفسار نہیں کر سکتے تھے۔ میرا کام وردی میں یا وردی کے بغیر گھوم پھر کر ملاقاتیں کرنا تھا جو میں خاک نہیں کرتا تھا اور دو چار روز بعد آئی ایس آئی انچارج میجر مجاہد کو جا کر زبانی جھوٹی رپورٹ دے دیا کرتا تھا۔

میں نے تحریری رپورٹ دینے سے یہ کہہ کر استثنٰی لے لیا تھا کہ مجھے کل کلاں کو واپس سویلینز میں ہی جانا ہے۔ مگر مجھے لگتا ہے کہ میرے جھوٹ میں بھی کہیں نہ کہیں سے وہ سچ نکال لیتے ہوں گے جو مجھے کچھ زیادہ لوگوں پر مشتمل میٹنگز میں بھی لیا جانے لگا تھا۔ میں اپنی ہی جذباتی تقریر کے باعث ایک ہو رہی میٹنگ سے نکال دیا گیا تھا یوں مجھے مارشل لاء سے پہلے ہی ”فکر فردا سے رہائی“ مل گئی تھی۔

میرے کرنل بھٹو کے شدید مخالف تھے جبکہ میں بھٹو کا حامی باوجود اس کے کہ ان کے گورنر کھر کے عہد میں ہی مجھے بہت پیٹا گیا تھا۔ جیل میں قید تنہائی میں رکھا گیا تھا۔ بقول مسعود قریشی صاحب کے جو ڈسٹرکٹ جیل ملتان کے سپریٹینڈنٹ تھے انہیں کھر کے احکامات تھے کہ ہم سیاسی قیدیوں کو عام طور پر اور مرزا مجاہد کو خاص طور پر جیل میں اذیتیں دی جائیں مگر ان کا اپنا بیٹا بھی جیل سے دو قدم کے فاصلے پر قائم نشتر میڈیکل کالج کا طالبعلم تھا اس لیے انہوں نے مجھے اذیت پہنچانے سے گریز کیا تھا۔

ایک روز شاید 3 جولائی 1977 کا دن تھا کہ گیریزن کے سارے افسروں کو گیریزن آڈیٹوریم میں پہنچنے کا حکم ملا تھا۔ کرنل صاحب خود ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے تھے، میں ان کے ساتھ والی نشست پر جبکہ ڈرائیور کو پچھلی سیٹ پر بیٹھنے کو کہا گیا تھا۔ میں اور کرنل صاحب اکٹھے آڈیٹوریم میں داخل ہوئے تھے۔ وہ سینئر ہونے کی وجہ سے پہلی قطار میں بیٹھ گئے تھے اور میں تیسری قطار میں ایسی جگہ بیٹھ گیا تھا جہاں سے ان کو دیکھا جا سکتا تھا۔

گیریزن کمانڈر یعنی کور کمانڈر جنرل اعجاز عظیم سٹیج پر آئے تھے۔ اس طویل قامت بارعب جنرل کے ہاتھ میں ایک کاغذ تھا جس پر درج تحریر کو انہوں نے جا بجا ”ریڈ مارک“ کیا ہوا تھا۔ انہوں نے وہ کاغذ لہرا لہرا کر ایک دھواں دار تقریر کی تھی جس میں حکومت کی حمایت اور پی این اے کی سرگرمیوں کی شدید مخالفت کی تھی۔ جو کاغذ ان کے ہاتھ میں تھا وہ پی این اے کے ایک رہنما سابق ایر مارشل اصغر خان کا فوج کے نام لکھا خط تھا جس میں انہوں نے فوجیوں کو بغاوت کرنے کی تلقین کی تھی۔ میں اپنی نشست سے اپنے کرنل کے نشست کے ہٹھوں پر سختی سے جمے ہوئے ہاتھوں اور چہرے کے نصف کے تاثرات دیکھ کر خوش ہو رہا تھا کیونکہ وہ پیچ و تاب کھا رہے تھے مگر جنرل کے خلاف بول نہیں سکتے تھے۔ واپسی پر بھی گاڑی انہوں نے خود چلائی، جھنجھلائے ہوئے بڑبڑاتے رہے۔ میں سامنے دیکھتا مسکراتا رہا۔

5 جولائی 1977 کو میں یونٹ پہنچا تو کرنل صاحب کی جیپ پارکنگ کی بجائے آفس کے سامنے تھی اور جیسے وہ جیپ کے پاس کھڑے میرا انتظار کر رہے تھے۔ میرے سیلیوٹ کا جواب دے کر کہا، بیٹھو جیپ میں اور خود ڈرائیور کی نشست پر بیٹھ گئے۔ میرے استفسار پر بھی کچھ نہ بولے کہ کہاں لے جا رہے تھے۔ آڈیٹوریم کے باہر گاڑی روکی۔ میں ان کے ساتھ اندر داخل ہوا۔ وہ پہلی قطار کی نشست پر میں تیسری قطار میں نشست پر۔ وہی جنرل اعجاز عظیم پھر سٹیج پر آئے۔ اس بار وہ حکومت پر برسے اور پی این کو پرسکون رہنے کی تلقین کرتے ہوئے ملک میں مارشل لاء لگائے جانے کی اطلاع دی۔ میں نے دیکھا میرے سی او کرنل بشیر کا انگ انگ کھل اٹھا تھا اور میں پژمردہ ہو چکا تھا۔

مجھے ملتان میں گھنٹہ گھر میں قائم مارشل لاء کورٹ کا رکن بنا دیا گیا تھا۔ جس میں ہوتے انصاف کو دیکھ کر میں نے عدالت میں نہ آنے کی اجازت مانگی تھی جو باریش ضیاء نواز میجر رشید نے فوراً مرحمت فرما دی تھی کیونکہ وہ میری مداخلت بے جا سے تنگ تھے۔

ایک بار جنرل ضیاء کے ہیلی کاپٹر کو ملتان اترنا تھا۔ ہیلی پیڈ پر بطور ڈاکٹر میری ڈیوٹی لگائی گئی تھی۔ میں نہ صرف کہ خود یہ ڈیوٹی نہیں کرنے گیا تھا بلکہ دوسری یونٹ کے کیپٹن ڈاکٹروں کو اپنے کمرے میں بلا کر انہیں اس طرح کی ڈیوٹی کرنے سے روک دیا تھا۔ میرا کیا کر سکتے تھے۔ زیادہ سے زیادہ فوج سے نکال دیتے جو میں خود نکلنا چاہتا تھا۔

مجھے ہرگز فوج میں مزید نہیں رہنا تھا، کہیں جا کر اکتوبر میں کرنل صاحب مجھے جنرل اعجاز عظیم سے ملانے لے گئے تھے جن کو میں نے فوج میں رہنے یا اس سے نکلنے کا عندیہ دینا تھا۔ کرنل نے راستے میں مجھے جنرل کے کمرے میں داخل ہو کر رسوم کا پروٹوکول سمجھایا تھا مگر میں کرنل سے پہلے دراتا ہوا سیدھا جنرل کی میز کے نزدیک پہنچ کر ان سے ہاتھ ملا رہا تھا۔ میرا کچھ نہیں کیا جا سکتا تھا۔ کورٹ مارشل کی سزا بھی فوج سے رخصتی تھی۔

میں نے پہلا فقرہ ہی یہ کہا ”سر مجھے فوج میں نہیں رہنا“ ۔ جنرل نے پوچھا، ”کیا وجہ ہے؟“ میرا جواب تھا، ”سر فوج کا کوئی دین ایمان نہیں ہے“ جنرل اپنی سیٹ سے تقریباً دو انچ اٹھتے ہوئے دھاڑے تھے، ”کیا مطلب ہے تمہارا کپتان؟“ میں نے انہیں 3 جولائی اور 5 جولائی یاد دلائے تھے کہ 48 گھنٹوں میں ان کا موقف کس طرح 180 درجے بدل گیا تھا۔ وہ کسمسائے تھے اور کہا تھا، ”فوج میں ایسا ہوتا ہے ینگ مین“ اور مجھے فوج چھوڑنے کی اجازت دے دی تھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words