میں اور مشک پوری کی ملکہ۔ ایک مکالمہ



سوال: آپ کو یہ ناول لکھنے کا خیال کیسے سوجھا؟

مصنف: چند سال پہلے میں ایوبیہ نیشنل پارک گلیات کی حدود میں کامن لیپرڈ کے موضوع پر ایک ڈاکومینٹری کے سکرپٹ پر کام کر رہا تھا۔ اس دوران مجھے کامن لیپرڈ اور گلیات کے بارے میں بہت کچھ جاننے کا موقع ملا۔ اس سلسلے میں دو ایک بار مری سے پندرہ بیس میل کی مسافت پر گلیات بھی جانا ہوا۔ موضوع ایسا تھا جس نے میری ذات کی گہرائیوں میں ارتعاش پیدا کر دیا اور مجھے اپنے بچپن کے ساتھ جوڑ دیا۔ میں ابھی تیسری چوتھی کلاس میں ہوں گا کہ مجھے اردو ڈائجسٹ میں شکاریات کو پڑھنے کی لت لگ گئی تھی۔

اس میں خاص طور پر جم کاربٹ کی شکار بیتی کے تراجم چھپا کرتے تھے۔ میں اگلا شمارہ آنے تک ایک ہی کہانی بار بار پڑھا کرتا تھا اور جم کاربٹ کے ہمراہ انیسویں صدی کے ہندوستان میں جنگل جنگل گھوما کرتا تھا۔ یوں میرے زرخیز تخیل نے اس عمر میں ہی اپنے اندر ایک جنگل آباد کر دیا تھا جس کی ہر ہر جھاڑی کے پیچھے ایک عدد آدم خور لیپرڈ چھپا ہوا تھا۔ تو جب میں اس ڈاکو مینٹری کے دوران اس ماحول کا حصہ بنا تو میرے بچپن کا جنگل خود بخود ایک نئے روپ سے میرے سامنے آ گیا۔

مجھے یقین ہے کہ اگر میں نے بچپن میں جم کاربٹ کو نہ پڑھا ہوتا تو شاید کبھی ”مشک پوری کی ملکہ“ نہ لکھ پاتا۔ اگر لکھتا بھی تو اس کے بیان میں وہ گہرائی اور شدت نہ ہوتی جس کا تذکرہ اس ناول کے ہر تبصرہ نگار نے کیا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ میں نے اس علاقے، ماحول، آبادی اور شکار کی جو جزویات بیان کی ہیں اس کے پیش نظر میرے ہر قاری نے یہی سمجھا کہ ہو نہ ہو میرا اس علاقے سے گہرا تعلق رہا ہوگا۔ مثال کے طور پر مستنصر حسین تارڑ کا خیال تھا کہ میں نے ضرور ان جنگلات میں ایک عمر کی گزاری ہے اور شاید میں وہاں فارسٹ ڈیپارٹمنٹ میں نوکری کرتا رہا ہوں۔ آصف فرخی ملے تو انہوں نے بھی چھوٹتے ہی مجھ سے پوچھا کہ کیا آپ گلیات کے رہنے والے ہیں؟ سید محمد اشرف نے بھی یہ گمان کیا کہ میں ان جنگلات کے چپے چپے سے واقف ہوں جبکہ حقیقت یہ ہے جس کی طرف سید صاحب نے اشارہ بھی کیا تھا کہ میں نے کسی خارجی جنگل کو نہیں بلکہ اپنے اندر کے جنگل کو زبان دی ہے۔

سوال: کیا شکاریات میں آپ کی ذاتی دلچسپی ہے؟

مصنف:مجھے شکار یا شکاریات سے ہرگز کوئی دلچسپی نہیں البتہ جنگل مجھے ہمیشہ ہانٹ کرتا ہے کیونکہ جنگل میں اسرار کا ایک لامتناہی خزانہ پوشیدہ ہوتا ہے اور یہ اسرار کی سرگوشیاں ہی ہیں جو مجھے لاشعوری طور پر جنگل کے ساتھ جوڑے رکھتی ہیں۔ میری شدید خواہش ہے کہ میں جنگل کے بارے میں کچھ اور بھی لکھوں۔ خاص طور پر عہد عتیق میں جاکر انسان اور جنگل کے درمیان رشتے کی کھوج لگاؤں۔ اگر زندگی نے مہلت دی تو شاید میں عہد شکار کے انسان کی زندگی کے گرد فکشن کا تانا بانا بننا چاہوں گا۔ خود اس ناول میں بھی ایک مقام پر ملکہ اور نور محمد جبلی سطح پر اسی عہد کی نمائندگی کرتے ہیں۔

سوال: ”مشک پوری کی ملکہ“ کو جس طرح پذیرائی ملی اس پر آپ سرشار تو ہوئے ہوں گے؟

مصنف: ہرگز نہیں۔ میرے لیے کامیابی اور ناکامی بہت غیر اہم معاملات ہیں۔ میرے لیے اہم ہے تو یہ کہ آپ نے تخلیق کا حق ادا کیا ہے یا نہیں۔ اور آپ جانتے ہیں کہ فنکار کچھ بھی کر گزرے ہمیشہ تشنگی کا شکار رہتا ہے سو میں نے اب تک جو بھی لکھا وہ مجھے سرشاری نہیں دے سکا کہ میں عام معنوں میں خود کو ”کامیاب“ سمجھنے لگوں۔ البتہ مجھے اس حوالے سے ایک بے پایاں خوشی ضرور ملی تھی جب سب سے پہلے انڈیا سے سید محمد اشرف صاحب نے کہیں سے میرا ای میل حاصل کر کے مجھے میل کی تھی جس میں مجھے اور مشک پوری کی ملکہ کو خوب سراہا گیا تھا۔

میں سراہا تو خیر بہت گیا ہوں لیکن اس میں ایک خاص بات تھی۔ وہ یہ کہ کسی کو نہیں معلوم کہ میں اپنے بھیتر میں کامن لیپرڈ جیسا ہوں ؛ شرمیلا اور چھپ چھپ کر رہنے والا۔ بس کبھی کبھار اپنی جھلک دکھا کر اپنے اندر کے جنگل میں چھپ جانے والا۔ انسانی دنیا کے ساتھ میرا رابطہ کچھ ایسے ہے جیسے کسی چاندنی رات میں کوئی لیپرڈ دبے پاؤں انسانی بستی میں نکل آئے اور گھوم پھر کر واپس چلا جائے۔ ایک طرح سے کہا جاسکتا ہے کہ مشک پوری کی آدم خور ملکہ ایک سطح پر میری ہی داخلی ذات کی نمائندگی کرتی ہے۔ تو جب میں نے یہ ناول لکھا تو میں بالکل ہی گمنام تھا۔ ایک شدید گمنام شخص کو اگر سید محمد اشرف جیسے جید ادیب کی محبت بھرا سندیس مل جائے تو اس کی حیرت اور خوشی کا آپ تصور بھی نہیں کر سکتے۔ اس بے پایاں خوشی کے لیے میں سید صاحب کا آج بھی مقروض ہوں۔

سوال: کیا ”مشک پوری کی ملکہ“ نے آپ کو وہ طمانیت بخشی جو ایک فکشن نگار کے لیے بہرحال ضروری ہوتی ہے؟

مصنف: بہت مشکل سوال پوچھ لیا آپ نے۔ خیر، ایک تو وہ پذیرائی ہے جس کا آپ پچھلے سوال میں تذکرہ کرچکی ہیں۔ اس پر تو میں محض اپنے قاری کا شکریہ ہی ادا کر سکتا ہوں لیکن جہاں تک تخلیقی سطح پر طمانیت کی بات ہے تو اس کا جواب نفی میں ہے۔ آپ کو محسوس ہوا ہوگا کہ ناول میں میری تمام تر ہمدردیاں آدم خور کے ساتھ ہیں۔ مجھے آج بھی اس بات کا قلق ہے کہ میں نے آخر میں اس قدر شاندار کردار کو کیوں موت کے گھاٹ اتار دیا۔ جب ملکہ اور نور محمد رزم گاہ میں اپنے آخری معرکے کے لیے اترتے ہیں تو وہ حقیقی کرداروں کی بجائے علامتی وجود بن کر کسی اور زمان اور کسی اور مقام کے منطقے میں داخل ہوچکے ہوتے ہیں۔

میری بے وقوفی کہ میں اس معرکے کا احوال لکھتے ہوئے بھول گیا کہ علامتیں کبھی نہیں مرتی ہیں۔ سو وہ جو آپ نے طمانیت کا لفظ استعمال کیا تو اس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس کی بجائے ایک خلش ضرور ہے کہ میں نے فکشن نگار کے کردار سے betray کرتے ہوئے ایک علامت کے ساتھ مل کر دوسری علامت کو مار دیا تاکہ میرا روایت پرست قاری اطمینان کی سانس لے سکے۔

( ”مشک پوری کی ملکہ“ کے بارے میں ایک انٹرویو سے اقتباس)

Facebook Comments HS