تیس ڈویژنوں کو صوبے بنانے کی تجویز قسط نمبر 2

میں نے اپنے گزشتہ مضمون میں پاکستان کے چاروں صوبوں کی جگہ ملک کے تیس ڈویژنوں کو صوبے کا درجہ دینے کی تجویز کا آغاز کیا تھا اور ان کے چیدہ چیدہ چار فوائد تحریر کیے تھے۔ اس مضمون کا باقی حصہ ذیل میں تحریر ہے۔ اس حصے میں رقبے کے اعتبار سے بڑے بڑے چار صوبوں کی جگہ تیس ڈویژنوں کو صوبے بنانے کے چیدہ چیدہ بقیہ آٹھ فوائد زیربحث لائے گئے ہیں۔ ( 5 صوبائی ہائی کورٹ تک پہنچنے کے لیے عوام کو بہت دوردراز سے آنا پڑتا ہے جس سے غریب عوام کے مسائل میں بے پناہ اضافہ ہو جاتا ہے نیز موجودہ صوبوں کا رقبہ بڑا ہونے اور آبادی کے زیادہ دباؤ کی وجہ سے صوبائی ہائی کورٹس پر مقدمات کا بہت زیادہ بوجھ بھی ہے۔

ڈویژن کی سطح پر نئے صوبے قائم ہونے سے عوام کو اپنے گھر کے قریب ہی صوبائی ہائی کورٹ تک رسائل مل جائے گی کیونکہ ہر صوبے کا رقبہ چھوٹا ہو جائے گا۔ اس طرح موجودہ صوبائی ہائی کورٹس پر بڑے صوبے اور بڑی آبادی کے مقدمات کا بوجھ بھی ختم ہو جائے گا اور اپنے اپنے صوبوں کی ہائی کورٹس میں مقدمات تقسیم ہو جائیں گے جن سے انصاف کے حصول میں نہ صرف آسانی ہوگی بلکہ میرٹ کو بھی مزید یقینی بنایا جاسکے گا۔ ( 6 موجودہ چار صوبوں میں چار وزرائے اعلیٰ اور صوبائی افسران موجود ہیں۔

یہاں یہ اعتراض کیا جاسکتا ہے کہ نئے صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کے دفاتر، ان کے سٹاف اور اعلیٰ افسران کے اخراجات کا اضافی بوجھ بہت زیادہ ہوگا۔ اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ موجودہ ڈویژنوں کے کمشنروں کی آسامیاں ختم کر کے ان کے سٹاف کو نئے صوبائی وزرائے اعلیٰ کے سٹاف میں تبدیل کر دیا جائے تو اخراجات میں زیادہ فرق نہیں ہوگا لیکن ملک کو ملنے والے فائدے بے حساب ہوں گے۔ ( 7 ملک میں آبادی کی شفٹنگ کا تیزی سے بڑھتا ہوا رجحان صوبائی دارالخلافوں اور بڑے شہروں کی طرف ہے۔

اس کی واضح وجہ صوبائی دارالخلافوں اور ترقی یافتہ شہروں میں جدید سہولتوں کا میسر ہونا ہے۔ اگر ڈویژن کی سطح پر نئے صوبے قائم کر دیے جائیں تو آبادی کا چند شہروں کی طرف شفٹنگ کا تیزی سے بڑھتا رجحان رک جائے گا اور پورے ملک میں یکساں ترقی کے مواقع ظاہر ہونے کے باعث آبادی اپنے اپنے صوبوں کے اندر ہی رہ کر روزگار، کاروبار، صحت، تعلیم اور انصاف وغیرہ کی بہتر سہولتیں حاصل کرسکے گی۔ ( 8 ملک کی آبادی کی بڑی تعداد کے صوبائی دارالخلافوں اور چند ترقی یافتہ شہروں کی طرف شفٹ ہونے سے ہاؤسنگ، جرائم اور سوک وغیرہ سمیت دیگر ملکی مسائل میں بے پناہ اضافہ ہو گیا ہے جو کہ تقریباً کنٹرول سے باہر ہوتے جا رہے ہیں۔

ڈویژن کی سطح پر نئے صوبے بنانے سے پورے ملک کے چند شہروں پر ہاؤسنگ، جرائم اور سوک وغیرہ کا بوجھ پڑنے کی بجائے پورے ملک میں تقریباً یکساں طور پر تقسیم ہو جائے گا اور کم وسائل کے ذریعے بھی ہاؤسنگ، جرائم اور سوک وغیرہ کے مسائل پر قابو پایا جاسکے گا۔ ( 9 پولیس اور لاء اینڈ آرڈر کی ذمہ داری صوبائی حکومتوں پر ہوتی ہے۔ چونکہ یہ صوبائی حکومتیں بہت بڑے رقبے کے ساتھ اپنے صوبے میں ہر جگہ یکساں طریقے سے قانون نافذ نہیں کر پاتیں جس سے جرائم وغیرہ میں اضافہ ہوتا ہے نیز صوبائی دارالخلافوں اور متعلقہ صوبے کے چند بڑے شہروں میں گنجان آبادی کے باعث جرائم پر کنٹرول پانا مشکل ہو گیا ہے۔

ڈویژن کی سطح پر نئے صوبوں کے قیام کے ذریعے صوبائی پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چھوٹے رقبے پر نگرانی کرنی ہوگی جس سے جرائم کو کنٹرول کرنے، قانون نافذ کرنے اور جرائم کی تفتیش وغیرہ کے مسائل میں بہت آسانی ہوگی۔ ( 10 بجلی اور گیس کی ترسیل، ترسیلی نظام کا انتظام، ترسیلی نظام کی دیکھ بھال اور حفاظت اور بلوں کی وصولی مذکورہ چھوٹے صوبوں کے ذمے ہو جانے سے بہت بہتری ہو سکتی ہے۔ چونکہ ڈویژن کی سطح پر قائم ہونے والے صوبوں کا رقبہ کم ہوگا اس لیے وفاق کی طرف سے انہیں بجلی اور گیس کی جو مقدار ملے گی اسے بہتر اور مکمل استعمال میں لایا جاسکے گا۔

صوبے کے رقبے چھوٹے ہونے کے باعث بجلی اور گیس کے ترسیلی نظام، ترسیلی نظام کے انتظام اور ترسیلی نظام کی دیکھ بھال اور حفاظت بھرپور انداز سے ہوگی۔ صوبوں کا رقبہ کم ہونے کے باعث صارفین سے بجلی اور گیس کے بلوں کی وصولی بھی آسان اور مکمل ہوگی۔ اس طرح وفاق کی طرف سے صوبوں کے ذمے بجلی اور گیس کے بلوں کے بقایا جات بھی نہیں رہیں گے۔ یوں بجلی اور گیس کی چوری کا بڑا مسئلہ بھی حل ہو جائے گا۔ ( 11 چونکہ یہ صوبے ڈویژن کی سطح پر ڈویژن کے نام سے ہی قائم ہوں گے اس لیے ان صوبوں کے ذریعے علاقائی یا لسانی تعصب کی گنجائش نہیں ہوگی۔

البتہ موجودہ صوبائی ناموں بلوچستان، پنجاب، خیبرپختونخوا اور سندھ کو غیررسمی طور پر (ان فارمل) ریجن کا نام دیا جاسکتا ہے۔ مثلاً بلوچستان، سندھ اور خیبرپختونخوا ریجن میں سات سات صوبے ہیں جبکہ پنجاب ریجن میں نو صوبے ہوں گے۔ ( 12 موجودہ چاروں صوبوں میں وفاق کا نمائندہ گورنر بھی موجود ہے۔ نئے ڈویژن کی سطح پر قائم ہونے والے ہر صوبے میں گورنر کی تعیناتی کی بجائے صرف چار ریجنل گورنر ہی برقرار رکھے جائیں یعنی بلوچستان ریجن کا گورنر، پنجاب ریجن کا گورنر، خیبرپختونخوا ریجن کا گورنر اور سندھ ریجن کا گورنر۔

اس طرح متعلقہ صوبوں کے متعلقہ ریجنوں میں ایک ایک ہی گورنر ہوگا اور ڈویژن کی سطح پر نئے صوبوں کے قیام کے بعد بھی چار ہی گورنر رہیں گے۔ اس طرح گورنر آفس کے اخراجات میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔ اگر سیاسی جماعتیں، سیاست دان یا حکام یا ادارے میری مذکورہ تجاویز پر مختلف اداروں سے سٹڈی کروائیں تو امید ہے کہ مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔ (ختم شد)

Comments - User is solely responsible for his/her words