اسلام آباد ہائی کورٹ میں مریم نواز کی آمد


اسلام آباد کا موسم حبس زدہ ہے۔ جھلسا دینے والی گرم ہوا چلتی ہے۔ دن دس بجے اپنی صحافتی ذمہ داریاں ادا کرنے اسلام آباد ہائی کورٹ جانا ہوا۔

سری نگر ہائی وے سے ”یوٹرن“ لے کر اسلام آباد ہائی کورٹ کی اور جانے والی سڑک پر مڑا تو دیکھا کہ رینجرز کی بھاری تعداد سڑک پر لگے درختوں تلے مخلتف ٹولیوں میں کھڑے ہیں۔ یہ تو معلوم تھا کہ آج اسلام آباد ہائی کورٹ میں مریم نواز کی ایون فیلڈ کیس میں پیشی ہے۔

یہ تو روٹین کی بات ہے روزانہ کی بنیادوں پر کیسسز کی سماعت ہوتی ہیں۔ جیسے ہی ہائی کورٹ کے داخلی دروازے پر پہنچا تو دروازے پر ایستادہ پتلا لمبا اسلام آباد پولیس کا سپاہی آیا۔ کہنے لگا سر آج گاڑی باہر پارک کرنی پڑے گی پوچھا کیوں؟ جواب ملا کہ آج پارکنگ بند ہے۔ مریم نواز کی پیشی ہے۔ اس سے قبل بھی مریم نواز کی پیشی ہوتی ہے آج ایسا کیا معاملہ ہو گیا کہ گاڑی باہر پارک کرنا ہو گی؟ سر نہیں معلوم آج اوپر سے حکم آیا ہے؟ خیر گاڑی باہر پارک کر کے ہائی کورٹ جانا ہوا۔

جیسے ہی داخلی دروازے سے اندر داخل ہوا تو ہائی کورٹ کے اندر باہر رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری تعینات دیکھی۔ سب سے پہلے میڈیا روم جانا ہوا۔ وہاں کوئی صحافی دوست نہیں بیٹھا ہوا تھا۔ بھاگم بھاگ کورٹ روم نمبر ایک پہنچا جہاں زرداری کیس کی سماعت ہو رہی تھی۔ بینچ میں جسٹس عامر فاروق بھی شامل تھے اور مریم نواز کیس کی سماعت جسٹس عامر فاروق پر مشتمل ڈویژن بینچ نے کرنا تھی۔ زرداری کیس ختم ہوا۔ عموماً ساڑھے بارہ بجے مریم نواز کیس کی سماعت شروع ہو جاتی ہے مگر آج معمول سے دیر ہوئی۔ کورٹ روم نمبر دو کے اندر پہنچا تو دیکھا کہ کمرہ عدالت کے اندر محکمہ زراعت و سیاحت کے لوگ بھی موجود ہیں۔ کچھ لوگوں سے شناسائی بھی ہے جو روزانہ کی بنیادوں پر آتے ہیں مگر آج کچھ نئے چہرے بھی دیکھنے کو ملے۔

میری نظر ایک کرسی پر براجمان حال ہی میں قید سے رہائی پانے والے نواز کے لاحقے سے بنی نواز لیگ کے ایم این اے میاں جاوید لطیف پر پڑی۔ صحافی خبر کی تلاش میں ہوتا ہے ان کی اور بڑھا تو روک دیا گیا۔ روکنے والے کو مدعا بیان کیا تو ملاقات کی اجازت ملی۔ میاں جاوید لطیف سے سلام کیا دوران گفتگو کہنے لگے جہاں میں بند تھا وہاں اے سی اور میٹرس لگے ہوئے تھے۔ اس کا مطلب ہوا کہ بڑی سہولیات دی گئی۔ کہنے لگے کہ ایسی سہولیات آپ کو بھی ملیں تو لگ پتہ جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ بے پناہ دباؤ ڈالا گیا کہ نون لیگ کو چھوڑ دوں مگر میرا جواب تھا کہ نواز لیگ کو نہیں چھوڑ سکتا جو ظلم کرنا ہے کر لو۔ اس سے آگے جو انھوں نے بیان کیا شاہد ”ہم سب“ اسے پبلش نہ کر سکے۔

خیر سوا ایک بجے ججز کرسی انصاف پر متمکن ہوئے۔ پکارا لگا۔ کیس کی سماعت شروع ہوئی مریم نواز کے وکیل امجد پرویز نے استدعا کی کہ خرابی صحت پر آج دلائل نہیں دے سکوں گا۔ دو ہفتوں کی مہلت دی جائے۔ سماعت ملتوی ہوئی اور مریم نواز اپنے رفقا کے ساتھ کمرہ عدالت سے باہر آئی میڈیا سے گفتگو کی۔ ان کا کہنا تھا کہ میاں نواز شریف نے مجھے آزاد کشمیر میں ہونے والے انتخابات کی کیمپین کی ذمہ داری دی ہے۔ اگر آزاد کشمیر میں آزادانہ انتخابات ہوں کسی قسم کی مداخلت نہ ہو تو نون لیگ 33 حلقوں میں کامیابی حاصل کرے۔ ہم اپنے ووٹ کی عزت کے لیے آخری حدوں تک جائیں گے

ووٹ کی عزت کے بیانیہ پر سختی سے قائم ہیں اور رہیں گے۔ انھوں نے وزیراعظم عمران خان پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ میں انھیں ہزارہ برادری کے مسائل سے ضرور اگاہی حاصل کرنا چاہیے تھی عوام کے ووٹوں سے بنا وزیراعظم ہی لوگوں کے دکھ درد جان سکتا ہے۔ کمرہ عدالت میں نون لیگ کے ایم این ایز ٹکٹ ہولڈرز اور سینیٹر کی بڑی تعداد تھی جن میں سردار ممتاز، میاں جاوید لطیف، کھیل داس کوہستانی، زیب جعفر، عظمی بخاری، حنیف عباسی، ابرار ملک، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، زیب جعفر، سلیم ضیاء اور دیگر موجود تھے

Comments - User is solely responsible for his/her words