آدم، شجر اور بون چیلنج

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سٹاف روم میں ہائے گرمی کا شور مچا ہوا تھا اسی دوران ایک لیپ ٹاپ پہ ایک اور ای میل کا پوپ اپ آ گیا، ہیڈ آفس کی جانب سے اساتذہ کے لئے سولر پینلز کی خریداری کے حوالے سے کسی ڈسکاؤنٹ کی مشہوری تھی، سال میں دو تین مرتبہ ایسی کئی آفرز موصول ہوتی ہیں۔ اب سٹاف روم میں چھڑی بحث کا رخ سولر پینلز اور بجلی کے بلوں کے موازنے کی طرف مڑ گیا کہ کیسے حق حلال کی کمائی گرمی میں واپڈا والے کھا جاتے ہیں اور ایسی قہر آلود گرمی میں بنا اے سی کے گزارہ بھی ممکن نہیں اور ایسے میں یہ سولر پینلز پہ ڈسکاؤنٹ آفر کسی نعمت سے کم نہیں۔

یہ سارا گرما گرم مباحثہ ایک یخ بستہ کمرے میں جاری ہے۔ اس دوران میری اگلی کلاس کا وقت ہوا تو کتابیں سمیٹتے ہوئے ایک دم خیال نو کی شجرکاری مہم یاد آ گئی جہاں وہ فروری، مارچ، جون جولائی اور مون سون کے مہینوں میں شجرکاری کو فروغ دینے کے لئے پودے اور درخت لوگوں کو عطیہ کرتے ہیں تاکہ ہمارا ماحولیاتی توازن قائم رہے اور لوگوں میں اپنے اردگرد کے ماحول کے حوالے سے شعور اور احساس بیدار ہو۔ کلاس میں پہنچی تو وہاں بھی ہیٹ ویو کا تذکرہ چل رہا تھا۔

مس اگر گرمی اسی طرح بڑھتی چلی گئی تو یہی سیارہ مستقبل میں جہنم بن جائے گا۔ دوسری آواز گلوبل وارمنگ کی وجہ سے سردیوں کا موسم نہایت مختصر ہو گیا ہے، تیسری آواز اور نہایت عجیب دلیل مس پتہ ہے انٹرنیٹ پہ آپ ایڈم اینڈ ایو (آدم اور حوا) لکھیں تو آپ کو صرف دو انسان نہیں پس منظر میں درخت بھی دکھائی دیتے ہیں۔ آپ کو اس موضوع پہ کوئی ایسی تصویر نظر نہیں آئے گی جس میں درخت نہ ہوں، مس ہم اس تصویر میں موجود ایک آدمی اور عورت کو دیکھ کر انسانی زندگی کا آغاز تصور کرتے ہیں لیکن ہمیشہ پس منظر میں نظر آنے والے درخت نظر انداز کر دیتے ہیں۔

انسان کی افزائش نسل کے لئے چاہے اس کی جوڑی مکمل ہونا بہت ضروری ہے لیکن اس نسل کی بقا کے لئے درختوں اور سبزے کا ہونا بھی پارٹنر جتنا ضروری ہے۔ اب بچے کی دلیل اور انداز دل کو اتنا بھایا کہ اسی موضوع پہ بات آگے بڑھانے کا سوچا، شاید موسم کی شدت کا اثر تھا کہ بچے اس موضوع پہ نہایت سنجیدگی سے بات کر رہے تھے۔ چوتھی آواز لیکن دیکھو یار حکومت نے بلین ٹری سونامی بھی تو شروع کیا ہوا ہے جلد ہی ہمارے اردگرد درخت ہی درخت ہوں گے ۔

وہی تیسری آواز ایک بار پھر گویا ہوئی، ہاں جانتا ہوں یہ بلین ٹری سونامی حکومت کے بون چیلنج معاہدے کا حصہ ہے۔ میں نے مسکرا کر اب قطع کلامی کی اور سلیمان کو اپنی جگہ بلا کر کہا چلو آج ہمیں سمجھاؤ بون چیلنج کیا ہے؟ یہ ایک عالمی معاہدہ ہے جس کے تحت دنیا کے درجنوں ممالک نے 2020 تک 150 ایکڑ اور 2030 تک 350 ملین ایکڑ تک جنگلات کا اضافہ کرنا ہے اور اس کے لئے ترقی پذیر ممالک کو فنڈز بھی ملتے ہیں۔ ایک ماحولیاتی رپورٹ کے مطابق افغانستان کے بعد کم ترین جنگلات والا ملک ہے، پاکستان کا صرف 4 فیصد حصہ جنگلات پر مشتمل ہے جبکہ اس کو عالمی معیار اور ماحولیاتی تبدیلیوں سے نپٹنے کے لئے 23 سے 25 فیصد تک ہونا چاہیے۔

یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں گرمیاں نہایت شدید ہوتی جا رہی ہیں، سردیوں میں سموگ جیسا زہریلا مسئلہ پیدا ہو رہا ہے اور زیر زمین پانی کے ذخائر بھی تیزی سے ختم ہوتے جا رہے ہیں اور یہ نہایت الارمنگ صورتحال ہے۔ اتنے میں احمد چوہدری نے ہاتھ اٹھا کر کہا مس زیر زمین پانی کے ذخائر بچانے کے لئے یہ بہت ضروری ہے کہ ہم دیکھیں کہ کس درخت کو اگنے کے لئے کس قدر پانی کی ضرورت ہے، بعض اوقات ہم اپنی کم علمی کی وجہ سے ایسے درخت بھی لگا دیتے ہیں جو دریاؤں کے کنارے لگائیں جائیں تو اسے دنوں میں خشک کردیں، میرے بابا کہتے ہیں کہ سنبل اور سفیدے کے درخت ایک دن میں کئی لیٹر تک پانی زمین سے جذب کرلیتے ہیں اس لئے ہمیں کسی ماہر کے مشورے کے بغیر درخت نہیں لگانے چاہیں۔

سلیمان پھر بولا مس ایک درخت کم از کم 18 افراد کی آکسیجن کی ضروریات پوری کرتا ہے، درخت نہ صرف ہوا کو صاف رکھتے ہیں بلکہ قدرتی اے سی کا کام بھی کرتے ہیں۔ اب میں سلیمان کی معلومات پہ کچھ حیران ہو رہی تھی پوچھا کہ بیٹا یہ ان تمام باتوں کے پس منظر میں کوئی تحقیق بھی ہے اور مجھے نہیں معلوم تھا کہ درختوں سے آپ اس قدر پیار کرتے ہیں۔ جواب آیا مس یہ اندازہ تو مجھے بھی نہیں تھا لیکن پچھلے دنوں کوویڈ کی تیسری لہر میں سوشل میڈیا پہ آکسیجن ٹینکس کے حوالے سے جتنی پریشان کن ویڈیوز دیکھیں تب سے اس بارے میں سوچنا شروع کیا کہ خدانخواستہ اگر ہم درخت اسی طرح کاٹتے رہے تو کیا ہمیں مستقبل میں زندہ رہنے کے لئے آکسیجن ٹینک خریدنے پڑیں گے۔

؟ جیسے ہم آج پانی خرید کر پینا شروع ہو گئے ہیں۔ اتنے میں تیمور کی آواز آئی مس صبح کیمپس کی پارکنگ میں سارے ڈرائیورز کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ گاڑی درخت کے نیچے لگا لین لیکن مس کوئی بھی اپنی گاڑی کے لئے درخت نہیں لگاتا، اس فقرے پہ کلاس میں مسکراہٹیں پھیلیں اور ساتھ ہی علی نے کہا صرف شوق شوق میں شجر کاری کرنا اہم نہیں ان درختوں کا مستقل خیال رکھنا بھی بہت ضروری ہوتا ہے درخت کٹنے میں اتنا کم ٹائم لگتا ہے پر ایک درخت کو اگنے میں کثیر وقت درکار ہوتا ہے۔

اچھا تو پھر جب آپ سب تمام مسائل کی نشاندہی کر چکے ہین تو اس کا حل بھی بتائیے؟ سکندر مس گلوبل وارمنگ اور آلودگی اور باقی سب چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لئے درخت لگانے بہت ضروری ہیں اور ان کا خیال رکھنا بھی۔ ہم سب اپنے اپنے گھروں میں اور باہر بھی جہاں ممکن ہوا درخت لگاتے ہیں تاکہ ہمارے بعد آنے والے لوگوں کو اس طرح کی گرمی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ سلیمان۔ مس درخت لگانے کے وعدے کے ساتھ ایک چھوٹا سا شعر سناؤں؟ جی بالکل۔ اس راستے میں جب کوئی سایہ نہ پائے گا، یہ آخری درخت بہت یاد آئے گا

کلاس تو اس کے ساتھ ہی ختم ہو گئی لیکن روشن پیشانیوں والے مستقبل کے خواب دیکھتے ان بچوں کی طرف سے دل احساس ندامت سے بھر گیا کہ ہم ان کو ایک اچھا اور صاف ماحول دینے میں بھی ناکام ثابت ہوئے ہیں، ہم سولر پینل پہ سستا اے سی چلا کر وقتی آسائش کی طرف تو جا رہے ہیں لیکن درخت لگا کر اپنے ماحول کے لئے ایک مستقل حل کی طرف نہیں بڑھتے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments