مجبور عوام دیرپا ترقی کی بنیاد نہیں بن سکتے


مشاہد اللہ خان کے بعد اب عثمان خان کاکڑ بھی چل بسے۔ بھیڑ چال کے اس دور میں یہ وہ لوگ تھے جو ریوڑ کے ساتھ ہانکے جانے سے انکاری تھی، ان کی صدائیں بے شک ایوان بالا کے بالا خانوں سے ٹکرا کر واپس آجاتی تھی مگر جمہوریت کی ساکت گھنٹیوں میں خفیف ہی سہی ایک حرکت ضرور پیدا کرتی تھی۔

سابق سینیٹر کی وفات پر ایک گروہ متحرک ہے، ان کا مطالبہ ہے کہ موت کے اسباب پر تحقیقات کی جائیں، یہ مطالبہ نیا نہیں، یہ گروہ ہر افغان کی پراسرار موت پر تحقیقات کا مطالبہ کرتا ہے، بشرط یہ کہ موت سرحد پار افغان علاقے میں نہ ہوئی ہو! رد عمل دوسری جانب سے بھی حیران کن ہے، تحقیقات کے مطالبے پر وہ حضرات بھی مشتعل ہے جو کچھ دنوں پہلے ہی سپہ سالار کے اس بیان پر بغلیں بجا رہے تھے کہ عسکری اداروں کو آج کے زمانے میں اگر کسی شخص کا ’صفایا‘ کرنا ہو تو اس کو گولی نہیں مارتے بلکہ ایسے سائنسی طریقے سے اس کا صفایا کرتے ہیں کہ قتل کا شبہ بھی نہیں ہوتا۔

بہرحال بجٹ اجلاس کے شور و غل میں یہ قضیہ دب گیا جہاں حکومت نے اپنے چوتھے سال میں فراخ دلانہ بجٹ پیش کیا، جس میں ترقیاتی منصوبوں کے علاوہ صحت کارڈ، احساس پروگرام اور کسان کارڈ ایسے کئی قابل تحسین سماجی بہبود کے منصوبے شامل ہیں۔ حکومت کا دعوی ہے کہ اس نے ملک کو اس بجٹ کے ذریعے ترقی کی راہ پر گامزن کر دیا ہے اور ایک فلاحی ریاست کے خواب کو حقیقت کا رنگ دیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس سال کے بجٹ پر اپوزیشن اور ناقدین کوئی قابل ذکر اعتراض نہیں اٹھا سکے، غیر جانبدار حلقوں کی جانب سے بھی اس بجٹ کو متوازن قرار دیا جا رہا ہے۔

حکومت کے حامی ان اشاریوں کو پیش کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ حکومت تمام تر مشکلات، رکاوٹوں اور مافیاز کی سازشوں کے باوجود کامیابی کے مراحل طے کر رہی ہے اور اگلے انتخابات میں کامیاب ہو کر جو چند ایک مجبوریاں ہیں ان سے آزاد ہو کر ملک کو ترقی کی معراج پر پہنچا دے گی۔ یقیناً یہ ایک خوش آئند بات ہی نہیں ایک سوہا نا خواب بھی ہے مگر اس خواب میں کچھ سرکش آوازیں خلل ڈالتی ہیں جو ملک میں آزادی اظہار، جمہوری اقدار اور اختلاف رائے کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرتی ہیں۔

لیکن کیا فرق پڑتا ہے؟ یہ آزادی اور جمہوریت کا ڈھنڈورا تو مغرب زدہ عیاش طبقہ روز اول سے پیٹتا رہا ہے، پاکستان میں اگر شتر بے مہار میڈیا کو لگام دی جا رہی ہے اور ’کرپٹ‘ عناصر کو جمہوریت کے نام پر لوٹ مار سے روکا جا رہا ہے تو اس کے پیچھے ملک کی خیر خواہی کا ہی جذبہ تو کارفرما ہے۔ ان عناصر کو آزاد چھوڑ دیا جائے تو یہ ملک کی مخلص قیادت پر کیچڑ اچھالتے ہیں، ان کی توجہ بانٹتے ہیں اور ملک میں جو کہ اب ترقی کی راہ پر گامزن ہو گیا ہے اپنے اختلافی آراء سے فساد مچاتے ہیں۔ پاکستان اب اس کھیل کا متحمل کہاں ہو سکتا ہے جبکہ خطے کی صورتحال سنگین ہے، پڑوسی ملک میں انتہا پسند حکومت ہمارے خلاف سازشوں کا جال بچھا رہی ہے اور افغانستان میں خانہ جنگی کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔

ہمیں اچھا لگے یا نہیں، ہمارے ملک میں سیاسی منافرت اور جذباتی عقیدت کے نتیجے میں یہی سوچ عام ہو گئی ہے جو گزشتہ سطور میں بیان کی گئی، ہم یک جہتی کی جانب گامزن ہے، یوں محسوس ہوتا ہے جیسے چین سے قربت نے ہمیں ان کے نظام سے متاثر کر دیا ہے جہاں اختلاف کی گنجائش ہے نہ اعتراض کی، جہاں جناب سرکار نے فرمان جاری کر دیا تو قومی مفاد کے خاطر قصیدہ خوانی لازم ہے، تردد غداری کے مترادف ہے اور سوال اٹھانا بغاوت کے زمرے میں آتا ہے۔

لیکن سوال پھر بھی وہی ہے، کہ جب ہم ترقی کر رہے ہیں، فلاحی منصوبوں کا اعلان ہو رہا ہے تو یک جہتی نظام اور آزادی پر قدغنوں سے فرق کیا پڑتا ہے؟ عام آدمی کو رات گزارنے کے لیے چھت، پیٹ بھرنے کے لیے روٹی، سفر کے لیے سڑک اور دلی اطمینان کے لیے میڈیا پر سرکاری قصیدہ خواں میسر ہوں جو اس کو ’قومی عظمت کے وہم‘ میں پیہم مبتلا رکھیں تو اس کے لیے آزادی، اختلاف، اور سیاسی حقوق کیا معنی رکھتے ہیں؟ چین کی عوام خوشحال ہے، یہی حال خلیجی ممالک کا ہے، وہاں کے شہری جمہوریت نہ ہونے کے باوجود ہم سے زیادہ خوش ہیں۔

یوں تو اس سوال کا جواب دینا مشکل ہے کیونکہ نشے میں مخمور قوم کو کالم کی سطور نہیں تلخ تجربات حقائق سے آشنا کرتے ہیں مگر تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ فرق پڑتا ہے اور بہت زیادہ فرق پڑتا ہے، کیونکہ اگر انسانی امتیاز کے پہلو کو نظر انداز کر بھی دیا جائے جس کے جانوروں سے ممتاز ہونے کی وجہ دو وقت کی روٹی اور پر سکون زندگی نہیں بلکہ اپنے حقوق کو جاننا اور اس کو حاصل کرنا ہے تو یک جہتی نظام جو ایک خاندان، ایک شخصیت، ایک گروہ (regime) کے گرد گھومتا ہو وہ اگر ترقی کر بھی لے تو اس کو دوام حاصل نہیں ہوتا، کیونکہ اس کا انحصار ایک ہی محور پر ہوتا ہے جو کہ بہرحال جلد یا بدیر اپنے لمحہ اجل کو پہنچ جاتا ہے اور اپنے ساتھ اس قوم کو بھی زمین بوس کر دیتا ہے۔

جرمنی ہٹلر کے دور میں دنیا کی عظیم طاقت تھی جس نے ایک وقت پر فرانس کو سرنگوں کر دیا تھا اور برطانیہ پر حاوی ہو گیا تھا، مگر وہ چند دن کی عظمت تھی، کیونکہ ہٹلر کے دور میں جرمنی مضبوط تھا جرمن مظلوم تھا، یہی حال اس وقت کی دیگر طاقتوں کا ہوا۔ اس کے برعکس برطانیہ تمام آدھی دنیا پر حکومت کر کے دوبارہ اپنے خول میں چلا گیا مگر اس کا نظام تباہ نہیں ہوا کیونکہ برطانیہ میں برطانوی شہری کی عزت، اس کی آزادی اور اس کے حقوق کا تحفظ کیا گیا۔ مجبور و مقہور عوام کبھی دیرپا ترقی کی بنیاد نہیں بن سکتے، یہ دنیا کا قاعدہ ہے اور پاکستان اس قاعدہ سے مستثنی نہیں۔

Facebook Comments HS