قدرتی نظارے بکھرے ہیں چار سو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ظفر خٹک اور ہمارے دوستوں میں المعروف لالا جو کئی محاذوں پر سرگرم عمل ہیں۔ ان کے تعلقات اور معاملات کا دائرہ اتنا وسیع ہے کہ پانچ موبائلز کی چارج بھی انھیں کم پڑ جاتی ہے۔ کھانے پینے اور سونے کا وقت بھی اکثر و بیشتر انہی مصروفیات کی نذر ہوجاتا ہے ۔ فرنٹیر پبلشرز ایسوسی ایشن، ماسٹر خان گل فاؤنڈیشن اور انجمن تاجران پشاور سٹی وہ اس مثلث کے مرکز ہیں اور تینوں کی نمائندگی کا صحیح معنوں میں حق ادا کر رہے ہیں۔ لوگوں کی اکثریت ان کو ایک سرگرم سماجی اور تنظیمی رہنما کے طور پر جانتی ہے البتہ ان کے قریبی دوست ان کا ایک اور روپ بھی دیکھتے ہیں جس پر بے حد پیار آتا ہے اور وہ یہ کہ وہ سیر و تفریح اور نجی محفلوں میں خوبصورت روپ دھار لیتے ہیں جس میں ایک الھڑ پن اور انتہا درجے کی بے تکلفی کے ساتھ محبت و خلوص کے ٹھنڈے و میٹھے چشموں کی شفیق پھوار بھی شامل ہوجاتی ہے۔

ان کی طنز و مزاح کی حس سامنے آتی ہے۔ میرا ان کے ساتھ تعلق دو عشروں پر محیط ہے اس لیے میں ان کی شخصیت کا ہر رنگ اور آہنگ خوب سمجھتا ہوں اور کسی بھی تفریحی دورے کے موقع پر ان کا ساتھ چاہتا ہوں یہی وجہ ہے کہ جب انھوں نے فون پر کہا کہ باچا! ہم انجمن تاجران اگلے ہفتے سوات کا ارادہ رکھتے ہیں کیوں ناں سب دوست بھی چلے جائیں۔ میں نے یہ تجویز پسند کی اور دوستوں نے بھی لبیک کہا۔ پشاور کی ریکارڈ گرمی میں ایسے ٹھنڈے اور صحت افزا مقام کا ذکر اور تصور بھی دلاسا دے رہا تھا۔ گرمی اتنی بڑھ گئی کہ لوگ اٹھتے بیٹھتے ٹمپریچر کے درجوں کو اوپر نیچے کرنے لگے۔ جی آج چھیالیس ڈگری سینٹی گریڈ تھا۔ نہیں آپ کا موبائل صحیح پیمانہ نہیں بتا رہا آج پچاس سینٹی گریڈ کو پھلانگ چکا ہے۔

ہفتے کو صبح نو بجے بمقام موٹر وے ٹول پلازہ پشاور جمع ہو کر قافلے کی صورت میں عازم سفر ہونا تھا۔ وقت نے روایتی انگڑائی لی اور ربڑ بن کر دس سے ساڑھے دس تک پھیل گیا۔ ملک عبد اللہ خان سب سے پہلے پہنچ کر پچھتا رہے تھے اور سلطان سعید ہمارے جگری اسفندیار کی وجہ سے دیر سے پہنچنے پر کڑھ رہے تھے۔ یہ دیر سویر ہم دوستوں کی سالوں سے روایت ہے اور اسفندیار اس روایت کے آمین ہیں۔ یوں پینسٹھ لوگوں کا بائیس گاڑیوں پر مشتمل یہ قافلہ چلتا بنا، منزل ”آرام باغ ریزورٹ باغ ڈھیری“ تھی جو کہ ماسٹر خان گل فاؤنڈیشن کے صدر رسول خان گرگری وال کا ساٹھ کنال پر مشتمل ہوٹل اینڈ ریسٹورنٹ ہے۔

ہماری کار کی ڈرائیونگ سیٹ ہمارے دوست اسسٹنٹ ڈائریکٹر پی ڈی اے فرید اللہ خٹک نے سنبھالی تھی اس کے عقب میں پروفیسر رشید خان براجمان تھے اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے ایم یو سعید اقبال اور میں پیچھے بیٹھے تھے۔ سوات موٹروے کی وجہ سے سوات تا چکدرہ تک کا سفر بہت آسان ہو گیا ہے۔ آگے کی سڑکیں زیادہ کشادہ نہیں لیکن دونوں اطراف درختوں، پھلدار باغات اور خوشگوار موسم کی وجہ سے وہ سفر بہت دلچسپ اور پرلطف ہوتا ہے۔ مخالف سمت میں ٹھاٹھیں مارتا اور بل کھاتا دریا اس سفر میں اپنا بھرپور حصہ ڈالتا ہے۔

زن سے آگے پیچھے ہوتی گاڑیوں میں سیاحوں کے چہروں پر ایسے تاثرات ہوتے ہیں جیسے بچے کو نیا کھلونا ہاتھ لگ جائے۔ سیاح ان نظاروں کو اپنے اندر سمونا چاہتے ہیں۔ ٹھنڈی ہوا سے اڑتے ہوئے گیسو، تازگی، زندہ دلی، اشتیاق، حیرت اس سفر کا خاصہ ہے۔ راستے میں کسی پرفضا مقام پر چائے پینے اور مقررہ وقت پر سفری نماز سے تھکن اتر جاتی ہے۔ ہم عصر سے پہلے آرام باغ ریزورٹ کے وسیع گیٹ سے داخل ہو گئے اور پارکنگ میں اترتے ہی دریا کے شور نے استقبال کیا۔

ہم پہلے پہنچنے والوں میں سے تھے۔ تھوڑی دیر میں وہ کار بھی پہنچ گئی جس کی ڈرائیونگ سیٹ پر فیصل اور اس کے ساتھ سیف اللہ، بشارت اور شاکر بیٹھے ہوئے تھے۔ ظفر لالا مع اپنے دوست اختر علی خان، شاہ محمد، تراب گل، عزیز وردگ و دیگر تاجران اور انیس، قیصر، حکیم زادہ جنید کے پہنچ گئے۔ آرام باغ سے نیچے سیڑھیاں دریا میں اترتی ہیں۔ گاہے بہ گاہے ساتھی پہنچتے رہے البتہ ملک عبداللہ خان راستہ کھو جانے کی وجہ سے سب سے آخر میں پہنچے۔ یہاں شوق غالب کا دور چلا اور دریا میں آم کے چھلکے بہتے چلے گئے۔ کیمرے ہر طرف سے مناظر کو قید کرنے لگے۔ نماز عصر کے بعد تیز بارش اور ژالہ باری نے سردی کا احساس بڑھا دیا مگر ساتھ ہی موسم میں نکھار پیدا ہو گیا درختوں کی تازگی بڑھ گئی۔

دور تک پھیلا ہوا پانی ہی پانی ہر طرف
اب کے بادل نے بہت کی مہربانی ہر طرف

شام کو آرام باغ کے سیمینار ہال میں انجمن تاجران کا سیمینار شروع ہوا جس سے تاجران کے صدر ظفر خٹک سرپرست اعلٰی اور صوبائی صدر ملک عبداللہ خان نے خطاب کیا اور راقم الحروف نے ماسٹر خان گل فاؤنڈیشن کی نمائندگی کی۔ اس مختصر سی تقریب کے بعد ہال میں کھانا لگادیا گیا اس وقت بھوک آداب کے سانچوں سے نکلنے والی تھی کیونکہ برستی بارش اور یخ بستہ ہواؤں نے بھوک کی شدت میں اضافہ کیا تھا۔ سب نے ڈٹ کر کھایا۔ تھوڑی دیر میں سازندوں نے سامعین کو اپنی گرفت میں لیا اور رباب کی آواز بارش کی موسیقی میں مل کر ماحول کو آئیڈیل بنا رہی تھی۔

ٹنگ ٹکور کے بعد قہوے سے تواضع کی گئی اور نیند نے اکثریت پر غلبہ پا لیا اس لیے فطرت کی راہ میں حائل ہونے والی آوازیں مدھم ہوتی گئیں۔ سب کمروں میں چلے گئے اور راقم الحروف خراٹوں سے بچنے کے لیے کار میں گھس گیا۔ کار کی چھت پر گرتی مہین مہین بوندیں اور دریا کے شور نے تھکے ہارے جسم کو لپیٹ میں لیا اور صحیح جنید اقبال نے نماز کے لیے جگایا۔ سبھی دوست بے خوابی کے باوجود ”گبین جبہ“ دیکھنے کے شوق میں نماز کے لیے اٹھ گئے اور ناشتہ کیے بغیر روانہ ہو گئے۔

تاجران کاروبار زندگی کی تھکاوٹ سو کر اتار رہے تھے۔ یہاں سے ہم چودہ ساتھی کوئی گھنٹہ سفر کے بعد وہاں پہنچ گئے۔ جیسے ہی گاڑیوں سے اترے گرم چادر کی ضرورت محسوس ہوئی۔ ہمارے دوست ہم سے پہلے پہاڑ کی طرف لپک کر پہلی چڑھائی پار کر چکے تھے۔ میں اور سلطان سعید پیچھے رہ گئے اور ان کی پیروی کرنے لگے۔ ہمیں اندازہ ہی نہیں تھا کہ یہ راستہ اتنا طویل اور دشوار ہو سکتا ہے۔ مجھے وہ محمد حسین آزاد کا مضمون ”شہرت عام اور بقائے دوام“ کا دربار یاد آ گیا جس میں پہاڑ کی چوٹی پر قبول عام کی شہنائیاں بجتی ہیں۔

اس وقت ہمیں بھی لگ رہا تھا کہ پہاڑ کی چوٹی پر ایک الگ دنیا آباد ہوگی اس لیے گرتے پڑتے چڑھتے ہی گئے۔ ہم جیسے ریتلے علاقے کے لوگوں کے لیے اس قدر دشوار اور فلک بوس پہاڑ پر چڑھنا جوئے شیر لانے سے بھی بڑھ کر ہے بلکہ اس کے لیے ہمالہ سے بھی بلند عزم و حوصلے کی ضرورت ہے۔ تھوڑی دیر میں سانس چڑھ گیا لیکن ہم جیسے تیسے چلتے ہی رہے اور راستے میں ظفر خٹک لالا اور ان کے گروپ کو جا لیا۔ اس سے بہت آگے انیس اور جنید جا رہے تھے اور سب سے آگے ہمارا ایک اور گروپ تھا جو کہ جوش جنوں میں آنکھوں سے اوجھل ہو چکا تھا۔

ظفر خٹک لالا، فریدی اللہ، سعید اقبال اور پروفیسر رشید خان کے حوصلے پست ہوچکے تھے لیکن ہم نے ان کو آگے جانے پر آمادہ کیا۔ یوں ان کے ساتھ ہنسی مذاق کچھوے کی چال چلتے اوپر چڑھتے گئے۔ ایک جگہ ظفر لالا نے شارٹ کٹ کی خاطر رسک لیا۔ میں نے ان سے کہا کہ مجھے آپ کے فرزند قیصر پر غصہ آ رہا تھا جو شاکر کے ہمراہ نیچے پانی کے کنارے رہ گیا، وہ کہیں پھسل کر پانی کا شکار نہ ہو جائے لیکن آپ کی یہ حرکت دیکھ کر میں نے ان کو معاف کر دیا۔

لالا نے ایک فلک شگاف قہقہہ لگایا جو پہاڑ سے ٹکرا کر دیر تک گونجتا رہا۔ ہماری منزل اب قریب تھی لیکن ہونٹ اور گلہ خشک تھا، پانی کی طلب بھی محسوس ہو رہی تھی لیکن ہمارے پاس سوائے چلنے کے اور کوئی چارہ نہ تھا۔ انیس نے میرے قریب آ کر کہا کہ لالا کے گروپ کو موٹیویشن دو۔ میں نے عرض کیا کہ میرے پاس صرف اتنی موٹیویشن رہ گئی ہے کہ جس کے ذریعے میں گرتے پڑتے چوٹی تک پہنچ سکوں۔ سلطان سعید نے ہانپتے ہوئے کہا :آج اگر محمد علی صد پارہ ہمیں دیکھ لیتے تو ہم پر فخر ضرور کرتے۔

تھوڑی دیر بعد ہمیں پہاڑ کی چوٹی سے طبلے اور رباب کی آواز سنائی دی تو جنید اور انیس کے ہاتھ اٹھ گئے اور جھومنے لگے۔ مجھ پر پہلی بار خٹک اور میوزک کے درمیان تعلق کا عملی انکشاف ہوا۔

ھلتہ د غرونو پہ سرونو باندے ڈھول غگیدو
لاندے پہ سیمہ یو خٹک ورتہ گڈا کولہ

اس کے بعد قدم میکانکی انداز میں تیز ہو گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے ہم ٹنگ ٹکور کے گرد یوں گردش کر رہے تھے جیسے بارش کے بعد پتنگے شمع بلکہ بلب کے گرد گردش کرتے ہیں۔ خوبصورت اتڼ (خٹک ڈانس) نے اس جادوئی فضا میں اپنے رنگ بکھیر دیے۔ چوٹی پر پہلے سے موجود سیاح سب کو یوں پانی پیش کر رہے تھے جیسے یہ برسوں سے یہاں مقیم ہوں اور پانی پلانا ان کا فرض ہو۔ مجھے پشتون ثقافت میں مہمان نوازی پر فخر محسوس ہونے لگا۔ گبین جبہ کی چوٹی پر لگائے گئے خیمے بالکل قائی قبیلے کی طرح منظر پیش کر رہے تھے البتہ یہاں قائی پرچم کی جگہ سبز ہلالی پرچم لہرا رہا تھا۔

ہم ناشتہ کیے بغیر یہاں آئے تھے اس لیے وہاں خیمے میں بنے واحد بے نام ہوٹل میں ناشتے کرنے چلے گئے۔ کیا دیکھتے ہیں کہ ہمارے ساتھی سیف اللہ، اسفندیار فیصل پلیٹ پر ہاتھ صاف کرہے ہیں جبکہ حکیم زادہ اور بشارت باقاعدہ گھوڑے بیچ کر سو رہے ہیں۔ ہم نے بھی ناشتے کی استدعا کی۔ ہوٹل کا مالک جس کو وہاں ”ڈاکٹر“ کے نام سے پکارا جا رہا تھا۔ معلوم نہیں کہ واقعی ڈاکٹر تھا اور بے روزگاری سے تنگ آ کر ہوٹل کھولا تھا یا پھر تھکے ہارے لوگوں کو گرماگرم چائے اور کھانے مہیا کرنے کی وجہ سے ڈاکٹر کے لقب سے نوازا گیا تھا۔

اگلی بار ان سے یہ وجہ بھی جانوں گا۔ واقعی گبین جبہ پریوں کا دیس ہے۔ یہاں پرفضا کھلا میدان اور پر ہنگام دنیا سے دور انسانی دل و دماغ کو الگ کیفیت سے شناسائی ملتی ہے۔ آپ جب بھی یہاں آئیں تو چند منٹوں کے لیے دور سے الگ تھلگ ضرور خاموشی سے پہاڑوں، بادلوں اور خلاؤں میں گھورتے رہیں۔ یہاں چند گھنٹے گزارنے کے بعد واپسی کی راہ لی۔ پہلے یہاں آنا مشکل تھا اور اب اترنا دشوار تھا کیونکہ جن کا وزن زیادہ تھا اس کا پیٹ باہر نکلنے کی وجہ سے بریک نہیں لگ رہے تھے اور جن کا وزن راقم الحروف اور سعید اقبال صاحب جیسا مثالی تھا وہ چہل قدمی کی کوشش کرتے لیکن دوڑ بن جاتی۔

بڑی مشکل سے اتر کر مگر خوبصورت احساسات کے ساتھ بحرین کی راہ پکڑی اور وہاں ظفر خٹک لالا کے ایک دوست نے طعام کا بندوبست کیا تھا لہذا بحرین بازار میں دریا سوات کے دو دھاروں کو آپس میں ملنے کے نظارے سے لطف اندوز ہونے کے لیے مختصر سے قیام کے بعد ان کے ہاں پہنچ گئے۔ برلب دریا اچھلتے اور ابلتے دریا کا شور اور یخ بستہ ہواؤں سے جھومتے درختوں کے بیچ پیٹ پوچا کا اہتمام کیا گیا تھا۔ یہاں سے فارغ ہونے کے بعد واپسی کا سفر شروع ہوا لیکن مجھے معلوم ہے کہ یہ واپسی جسم کی واپسی تھی کیونکہ وادئ سوات۔

فلک بوس پہاڑ۔ اس پر دیودار جیسے طرۂ دستار۔ بے لگام اور غرغراتا دریا۔ شفاف چشمے۔ بلندی سے گرتے آبشار۔ فطرت یہاں اپنی بولی اتنے زور و شور سے بول رہی ہے کہ آپ کی بولتی بند ہوجاتی ہے اور احساسات کی دنیا روشن ہو جاتی ہے۔ ایسے لمحات اور اس سے جنم لینے والے داخلی احساسات کو لفظوں میں ڈھالنا مشکل ہوجاتا ہے ”آرام باغ ہوٹل اینڈ ریسٹورنٹ“ نیچے بل کھاتا دریائے سوات۔ دریا کے کنارے شوق غالب (آم) ۔ ٹھنڈی ہوائیں۔ سحاب رواں۔ برستی بارش۔ گھنے پھلدار باغات۔

سیمینار۔ ٹنگ ٹکور۔ گبین جبہ ہائیکنگ، مدین اور بحرین کے حسین نظارے۔ یاران بے تکلف۔ نوک جھونک۔ فلک شگاف قہقہے۔ وقت پر اختیار ہوتا تو وہیں روک لیتے لیکن ”ثبات تغیر کو ہے زمانے میں“ ۔ پرانے ڈگر پر آنا پڑتا ہے سو ہم نے بھی گول دائرے میں حرکت کی۔ لفظوں اور کیمروں میں نہ سہی البتہ یادوں میں قدرت کے ان حسین نظاروں کو محفوظ کر لیا۔

چشموں کا میٹھا پانی جھرنوں کی راگنی
کچھ یوں سرور بخش جیسے جام اور سبو


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments