گھریلو تشدد کا قانون ہی ہماری بربادی کا باعث بھی بنے گا

انڈیا اور امریکہ تو برباد ہوئے اس گھریلو تشدد کی روک تھام کے قانون کے ہاتھوں۔ مجھے سو فیصد یقین ہے کہ بل گیٹس اور ملنڈا اور عامر خان اور کرن راؤ کی طلاقیں صرف اس وجہ سے ہوئی ہیں۔ ان دونوں طلاقوں کا سوال ہی نہیں پیدا ہونا تھا اگر انڈیا اور امریکہ میں گھریلو تشدد کی روک تھام کے قوانین نہ ہوتے۔ دیکھو ان دونوں خواتین، ملنڈا اور کرن راؤ، کے پاس کس چیز کی کمی تھی کہ اس عمر میں اپنے منہ پر طلاق کی کالک مل کے بیٹھ گئی ہیں اور اپنے اپنے ملکوں کو بھی کسی کو منہ دکھانے کے لائق نہیں چھوڑا ہے۔ لوگ سو سو باتیں بنا رہے ہیں۔ لوگ سچ کہتے ہیں کہ کھانا، پینا، بنگلے، کاریں، اور اچھے سے اچھے ڈیزائنر کے کپڑے جوتے اور میک اپ اور اوپر سے اتنے امیر اور خوب صورت شوہر۔ کیا ضرورت تھی انہیں طلاق لینے کی۔ اگر زندگی میں ’خوشی‘ کی کمی تھی بھی تو کیا ہوا اور عورتوں کا کام نہیں کہ محض ’خوشی‘ کی خاطر لوگوں کو باتیں بنانے کا موقع دیں۔ اندر جو بھی ہو رہا ہو، ہمیں چاہیے کہ لوگوں کے سامنے تو ایسے لگیں کہ بس لگے کہ پیا ہے اس جوڑی میں۔ شادی کی اصل کامیابی تو اس کے کامیاب دکھنے میں ہے۔

اگر گھریلو تشدد کا قانون نہ ہوتا تو یہ خوش رہنے کی عادت پڑنی ہی نہیں تھی۔ گھر میں روزانہ کی بنیاد پر تشدد کی سہولت موجود ہونی چاہیے۔ یہ جو گھریلو تشدد کی آزادی ہے، اس کے بہت فائدے ہیں۔ سب سے بڑا فائدہ تو یہ ہے کہ گھر ٹوٹنے کا کوئی ڈر نہیں ہوتا۔ چوبیس گھنٹے کی لعن طعن ایک روٹین بن جاتی ہے اور انسان زندگی کو گھسیٹنے سے بڑھ کر کچھ سوچنے کی قابل ہی نہیں رہتا۔

ایک روٹین ہوتی ہے کہ بس صبح اٹھے اور طبیعت میں تھوڑی بیزاری موجود پائی۔ طبیعت کی اس بیزاری کو روزانہ کی بنیاد پر نکال دینا ہی اس کا حل ہے۔ ناشتے کے ساتھ ہی کوئی نہ کوئی بہانہ ہاتھ لگ جاتا ہے اور پھر میاں بیوی ایک دوسرے کی خوبیاں گنوا دیتے ہیں۔ یہ عام طور پر وہی ہوتی ہیں جو کل بھی گنوائی تھیں لیکن پھر بھی انہیں نئے سرے سے تازہ کر دینے کا مزا ہر روز ہی آتا ہے۔ صرف زبانی خوبیاں گنوانے سے اگر بات نہ بنے، میرا مطلب ہے کہ صرف زبان سے نشہ اگر پورا نہ ہو تو ہاتھ، جوتا یا ڈنڈا بھی حسب توفیق چلایا جا سکتا ہے۔ اس سے آپ نے بیزاری کی وہ کیفیت جو صبح جاگتے ہی محسوس کی تھی اسے بھول جاتے ہیں۔ ایک دوسرے سے بیزاری کی اس کیفیت کو دور کرنے کی یہ سہولت صرف تبھی میسر آ سکتی ہے جب گھریلو تشدد کا قانون موجود نہ ہو۔

زیادہ دور کی بات نہیں ہے کہ ہر ملک میں ہی یہ سہولت موجود تھی۔ گھریلو تشدد کا قانون کسی بھی ملک میں نہیں ہوتا تھا اور اکثر شادیاں اوپر بیان کی گئی روٹین کے تحت کامیاب چل رہی ہوتی تھیں۔ طلاق کا سوچنے والوں کی تعداد بہت کم تھی۔ بیوی کے پاس تعلیم، روزگار، آمدنی اور پراپرٹی جیسی بیکار چیزیں نہیں ہوتی تھیں۔ شادی سے باہر اسے زندہ رہنے کی کوئی امید نظر نہ آئے تو شادی کامیاب ہو جاتی ہے۔ شادی کی کامیابی کی یہ بیسٹ ڈیفینیشن ہے۔ بہت سے ملکوں میں یہ صورت حال کافی حد تک بدل چکی ہے اور پھر گھریلو تشدد جیسے قوانین بھی بن گئے ہیں۔ اس لیے شادیاں کامیاب نہیں ہو پاتیں۔ حالات اتنے خراب ہو گئے ہیں کہ بیوی تشدد برداشت کرنے کو تیار ہی نہیں ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر تعلیم، روزگار، انکم اور پراپرٹی جیسی چیزیں عورت کے حوالے کر دی جائیں گی تو فتنہ تو پیدا ہو گا۔ اب ہمارے فیملی سٹرکچر کو قائم رکھنے کے لیے جو قربانی درکار ہے وہ صرف عورت ہی دے سکتی ہے کیونکہ ہم مردوں کی پریکٹس ہی نہیں۔ اور اگر عورت اپنی عزت نفس، مال اور جسم کی قربانی نہیں دے سکتی یعنی گھریلو تشدد کو اپنا نصیب اور جائز نہیں سمجھتی تو یہ بربادی کی نوید ہے۔

امریکہ اور یورپ کے ملکوں میں بھی جب عورتوں کو برابری کا انسان سمجھنے کی لغو باتیں ہو رہی تھیں اور کچھ لوگ ماڈرن بننے کے شوق میں ایسی تحریکوں کی حمایت کر رہے تھے تو ان معاشروں میں ایسے دوراندیش لوگ بھی تھے جنہوں نے ایسی غلط باتوں کی بھرپور مخالفت کی تھی۔ یہ زیادہ تر اپنے اپنے سچے مذہب کے پیروکار تھے اور معاشرے میں امن، سکون اور برابری کے چاہتے تھے اور انہیں علم تھا کہ یہ سب کچھ مرد کی حاکمیت میں ہی ممکن تھا۔ انہیں علم تھا کہ عورت کو اگر ماں، بہن، بیوی اور بیٹی جیسی ذمہ داریوں سے آگے کا یعنی انسان کا درجہ دے دیا گیا تو معاشرہ تباہ ہو جائے گا۔

لیکن بدقسمتی سے نیکی اور عقل کی ان طاقتوں کو ہر جگہ ہی شکست ہوئی اور عورت آپے سے باہر ہوتی گئی۔ ناعاقبت اندیش مردوں نے بھی مدد کی اور اب ان معاشروں میں عورت نے سوچنے جیسا خطرناک کام بھی شروع کر دیا ہے۔ اسی وجہ سے اگر خوش نہ ہو تو طلاق کا بھی سوچنا شروع کر دیتی ہے۔ اور مرد طلاق کی بات کرے تو بھی زیادہ برا نہیں مناتی۔ ان معاشروں میں خاندانی نظام تباہ و برباد ہو چکا ہے۔ مرد کے پاس اپنا بوجھ ہلکا کرنے کا کوئی طریقہ نہیں بچا۔ حتی کہ آپ اپنے بیوی بچوں کی پٹائی بھی نہیں کر سکتے۔

عورتیں اور کافی مرد بھی کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہتے جس میں وہ خوش نہ ہوں۔ انسانی خوشی، سکھ اور سکون کو اتنا پھیلا دیا ہے کہ عورتیں بھی یہی ڈیمانڈ کرنے لگی ہیں۔ حالانکہ پہلے یہ ان کا ڈومین نہیں تھا۔

یہ میرا جسم میری مرضی ہی کا تسلسل ہے۔ ہمارا خاندانی نظام تباہ ہونے والا ہے۔ آپ اپنے ہی گھر میں بیوی بچوں کی تربیت اور بھلائی کے لیے ان کی پٹائی نہیں کر سکیں گے۔ اس گھریلو تشدد کو روکیں اور ہماری مشرقی روایات کو تباہ ہونے سے بچائیں، ورنہ یورپ کی طرح ہم بھی تباہ ہو جائیں گے۔

چاہے خوشی کی انڈیکس میں یورپی ممالک دنیا میں اول درجے کے ممالک مانے جاتے ہوں، لیکن ہمارا دل تو جانتا ہے کہ وہ بہت غمگین اور تباہ حال ہیں۔ ہمارے لوگ وہاں جانے کی صرف اسی وجہ سے کوشش کرتے ہیں کہ انہیں بتا سکیں کہ خوش ہونا ہے تو پاکستان جیسے ہو جاؤ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words