حوطو پکورا دریائی کٹاؤ کے زد میں

وزیر زراعت گلگت بلتستان جناب محمد کاظم میثم نے گزشتہ روز سماجی رابطے کے سائٹ پر براہ راست آ کر بجٹ 2021 میں حلقہ دو کے لیے رکھے گئے منصوبہ جات پر تفصیلی بریفنگ دی اس دوران انہوں نے حالیہ اے ڈی پی کو جامع اے ڈی پی قرار دیا وہی وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب سمیت وزیر اعلی و گورنر گلگت بلتستان کا شکریہ بھی ادا کیا۔ جناب وزیر زراعت محمد کاظم میثم نے اس بریفنگ کے دوران حلقہ دو کے گزشتہ ادوار میں محروم رہ جانے والے علاقوں کی بحالی و ترقی کے اقدامات کے حوالے سے گفتگو کی جو کے قابل تعریف ہے اور ان محروم علاقوں کی ترقی و خوشحالی کے بغیر خوشحال گلگت بلتستان کا خواب شرمندہ تعبیر ہونا ممکن نہیں یہ انتہائی ضروری ہے کہ ان علاقوں میں ترجیحی بنیادوں پر کام کیے جائے جن کو ماضی میں نظر انداز کیا جاتا رہا ہے خوشحال پاکستان و خوشحال گلگت بلتستان کے لیے انتہائی اہم ہے کہ پسماندہ و غیر ترقی یافتہ علاقوں کی بحالی کا کام ہنگامی بنیادوں پر کیے جائے تاکہ ترقی کے سفر میں سب کو یکساں مواقع دستیاب ہو وزیر اعظم جناب عمران خان صاحب بھی بارہا اپنے تقریروں میں اس سلسلے میں گفتگو کرتے رہیں ہے اور کئی بار چین کی مثال بھی دیتے رہیں ہے کہ جس منظم طریقے سے چین نے اپنے پسماندہ رہ جانے والے علاقوں کی محرومیوں کو دور کر کہ کروڑوں افراد کو غربت اور پسماندگی سے نجات دی ہے یہ ہم سب کے لیے رول ماڈل ہے چین نے یہ بے مثال کام کر کے ثابت کیا ہے کہ اجتماعی ترقی کے بغیر ملک میں خوشحالی کا آنا ممکن نہیں چین کے مقابلے میں پاکستان کی آبادی انتہائی قلیل ہے پاکستان بھی بہتر پالیسیاں اپنا کر بہت جلد ترقی کا سفر شروع کر سکتا ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ ماضی میں جن علاقوں کی تعمیر و ترقی پر کام نہیں کیا گیا ہے ان علاقوں کی ترقی کے لیے جلد اقدامات کیے جائے۔
جناب وزیر زراعت نے خاص طور پر شغرتھنگ و بشو کی محرمیوں کا ذکر کیا اور حالیہ بجٹ میں ان علاقوں کے لیے رکھے گئے ترقیاتی منصوبوں کا بھی ذکر کیا اس لائیو بریفنگ کے دوران جناب وزیر زراعت نے بارہا کہا کہ یہ بجٹ ان کی حکومت کا پہلا بجٹ ہے نہ کہ آخری آئندہ آنے والے بجٹ میں دیگر اضلاع میں بھی ترقیاتی کام وقت کے ساتھ ساتھ شروع کیے جائے گے۔ اس بریفنگ کے دوران جناب وزیر زراعت کا مزید کہنا تھا کہ حلقہ دو کے لیے دیگر کئی منصوبے رکھے ہے جن کی تفصیل نہیں بتائی۔
اہالیان حوطو پکورا سکردو پرامید ہے وزیر زراعت اپنے حلقے میں موجود آفت زدہ علاقے کو نہیں بھولے ہوں گے اور کئی سالوں سے جاری دریائی کٹاوٴ کے مستقل روک تھام کے لیے عملی اقدامات کریں گے۔ حوطو میں جاری دریائی کٹاوٴ کے باعث پھل دار و غیر پھل دار درخت و کئی کنال زمین دریا کے نظر ہو گئی ہے جس کی وجہ سے اہالیان علاقہ مستقل ذہنی و مالی نقصانات کا سامنا کرنے پر مجبور ہے۔ اگر دریا کے کٹاو کو جلد روکا نہ جائے تو رہائشی مکانات تک دریا کے پہنچنے کا خطرہ موجود ہے۔
عمائدین حوطو اس سلسلے میں ارباب اختیار سے بارہا ملاقاتیں کر چکی ہے مگر مستقل حل کے لیے اقدامات تاحال نہ ہو سکے اہالیان حوطو گزشتہ دس برسوں سے زائد عرصے سے دریا کے رحم و کرم پر جی رہیں ہے مقامی افراد اپنی مدد اب کے تحت دریا کے کٹاوٴ کو روکنے کے لیے کوشش کرتے رہیں ہے مگر وسائل کی شدید کمی کے باعث منہ زور دریا پر قابو پانے پر ناکام ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ جلد از جلد دریا کے کٹاوٴ کے روک تھام کے لیے عملی اقدامات کیے جائے تاکہ اہالیان حوطو پکورا مستقل ذہنی پریشانی سے نجات حاصل کر سکے۔
اہالیان علاقہ ارباب اختیار کی طرف سے زبانی جمع خرچی سے تنگ آچکے ہے اور اس اہم اور سنگین مسئلے کے حل کے لیے بروقت اقدامات کی منتظر ہے کھڑی فصلوں او پھلدار درختوں کے زیر آب آنے کی وجہ مقامی افراد کو مالی مشکلات کا بھی سامنا ہے جو مزید تکالیف و رنج کا باعث بن رہا ہے۔ جناب آپ اس بات سے باخوبی آگاہ ہے کہ پھل دار درخت اور ذرخیز زمین کی مقامی افراد کی زندگی میں کتنا عمل دخل ہے پھلدار درخت و زرخیز زمین کا دریا کے نظر ہونے کی وجہ سے مقامی افراد کے معاشی نظام پر بدترین منفی اثر ہوا ہے جس کی وجہ سے مقامی افراد شدید پریشانی کا شکار ہے باپ دادوٴں کے دور سے موجود زمینوں کو نظروں کے سامنے ختم ہوتے دیکھنا نہایت ہی کرب ناک عمل ہے۔
جناب وزیر زراعت محمد میثم کاظم سے گزارش ہے کہ جس طرح لائیو بریفنگ دیں کر انہوں نے ایک بہتر روایت کی بنیاد ڈالی ہے وہی ذاتی دلچسپی لیتے ہوئے حوطو پکورا جو کہ آفت زدہ علاقہ ہے اس کی محرمیوں کا ازالہ کریں اور دریا کے کٹاو کو روکنے کے لیے ہر مکمن کوشش کریں اور حوطو کو آفت زدہ قرار دیں اور ہر فورم پر اس مسئلے کے حل کے لیے آواز بلند کریں اور جناب وزیر اعلی صاحب کو بھی یہاں کے باشندوں کے تکالیف و پریشانی سے آگاہ کریں تاکہ جلد از جلد دریا کے کٹاو کو روکا جاسکے۔

