شاہ زین بگٹی کے پاس مذاکرات اور فیصلہ سازی کے اختیارات ہوں گے؟

ریاض سہیل - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

حکومت پاکستان عسکریت پسند بلوچ رہنماؤں سے مذاکرات کا ارداہ رکھتی ہے، گزشتہ 15 برسوں میں یہ چوتھی حکومت ہے جس نے اس خواہش کا اظہار کیا ہے اور اس بار یہ ذمہ داری شاہ زین بگٹی کو دی گئی ہے، جو بلوچ رہنما نواب اکبر بگٹی کے پوتے ہیں۔

بلوچستان میں امن و امان کی بحالی کے لیے گزشتہ ہفتے کابینہ نے ناراض بلوچ قیادت سے مذاکرات کا فیصلہ کیا۔

وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کابینہ کے اجلاس کے بعد صحافیوں کو بتایا تھا کہ بلوچستان میں ناراض عناصر سے بات چیت پر کام جاری ہے تاہم ان عناصر سے بات چیت ہو گی جو انڈیا سے رابطے میں نہیں ہیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر فواد چوہدری لکھتے ہیں کہ انڈیا کا دہشت گردی کا نیٹ ورک کافی حد تک توڑ دیا ہے اب قوم پرستوں کے ساتھ بات چیت کا ایجنڈا طے کیا جائے گا۔

انھوں نے مزید لکھا ’بلوچستان میں وفاقی حکومت 731 ارب کے 131 منصوبے مکمل کرے گی، صوبائی حکومت کا ترقیاتی پروگرام صرف اس سال 180 ارب کا ہے، بلوچستان عمران خان کے دل کے قریب ہے۔‘

اس فیصلے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے عوامی جمہوری وطن پارٹی کے رہنما شاہ زین بگٹی کو بلوچستان میں مفاہمت اور ہم آہنگی کے لیے اپنا معاون مقرر کیا ہے۔

بلوچ عسکریت پسند

Getty Images

شاہزین بگٹی کون ہیں؟

شاہ زین بگٹی طلال بگٹی کے بیٹے ہیں۔ نواب اکبر بگٹی نے اپنی زندگی میں کسی بات پر ناراض ہو کر اپنے بیٹے طلال بگٹی سے قطع تعلق کر دیا تھا جس کے بعد وہ ڈیرہ بگٹی انتہائی کم جاتے تھے۔

شاہ زین اپنے دادا کی جمہوری وطن پارٹی کے اپنے دھڑے کے رہنما ہیں۔ وہ اس وقت میڈیا میں سامنے آئے جب فروری سنہ 2014 میں انھوں نے اعلان کیا کہ وہ بیدخل بگٹی قبائل کے لوگوں کو لیکر ڈیرہ بگٹی جائیں گے، جس کے بعد سندھ اور بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں کیمپوں میں مقیم کئی ہزار لوگ کشمور پہنچ گئے جہاں سے صرف چند سو ہی جا سکے اور اس طرح ان کا ڈیرہ بگٹی میں داخلہ ہوا۔

ڈیرہ بگٹی میں سنہ 2006 میں فوجی آپریشن اور نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بعد یہ بگٹی قبائل نقل مکانی کر گئے تھے۔ شاہ زین قومی اسمبلی میں ان بگٹی مہاجرین کی واپسی کے لیے آواز بھی اٹھاتے رہے ہیں۔

سنہ 2018 کے انتخابات میں برسوں بعد نواب اکبر بگٹی کے خاندان نے شرکت کی اور شاہ زین بگٹی رکن قومی اسمبلی اور ان کے بھائی گھرام رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے اور یوں اس علاقے سے سابق صوبائی وزیر سرفراز بگٹی کا سیاسی تسلط ختم ہوا۔

براہمداغ بگٹی

BBC
براہمداغ بگٹی اس وقت سوئٹزرلینڈ میں مقیم ہیں

منقسم بگٹی خاندان

نواب اکبر بگٹی کا خاندان اس وقت پاکستان اور بیرون ملک مقیم ہے۔ روزنامہ انتخاب بلوچستان کے ایڈیٹر اور تجزیہ نگار انور ساجدی کا کہنا ہے کہ بگٹی خاندان اس وقت تین حصوں میں تقیسم ہے۔

’بگٹی قبیلے پر جو اثر و رسوخ رکھتا ہے وہ براہمداغ ہیں جو اس وقت سوئٹزرلینڈ میں ہیں۔ اس کے بعد بگٹی قبیلے نے اپنا ایک سردار بھی بنایا ہوا ہے اور وہ میر عالی بگٹی ہیں۔ چونکہ وہاں ڈیرہ بگٹی میں دونوں کی موجودگی نہیں تو شاہ زین اور ان کے بھائی گہرام بیٹھے ہوئے ہیں، شاید ان کو اسٹیبلشمنٹ کا آشیرواد بھی ہے۔ ان کا اپنے علاقے میں اثر رسوخ ہے لیکن یہ اس لیے کہ وہاں اور کوئی نہیں۔‘

جمہوری وطن پارٹی کے سینئیر رہنما اور کئی سال قید و بند میں رہنے والے نواب اکبر بگٹی کے قریبی ساتھی رفیق کھوسو کا کہنا ہے کہ نواب کے آخری دنوں میں عام طور پر شاہ زین بگٹی کا آنا جانا نہیں تھا اور ان کے والد طلال بگٹی بھی صرف شادی اور غمی میں ہی آ جا سکتے تھے۔

’شاہ زین کا وہ سیاسی وزن اور قد نہیں کہ جو باہر بیٹھی ہوئی قیادت ہے اس سے مذاکرات کر سکے، وہ نواب بگٹی کے پوتے ہیں لیکن وہ ان پر بھروسہ نہیں کریں گے۔‘

جب تک عسکری قیادت فیصلہ نہیں کرتی سیاسی قیادت کچھ نہیں کرسکتی

سابق فوجی صدر پرویز مشرف نے شاہ زین بگٹی کے دادا نواب اکبر بگٹی سے مذاکرات کیے تھے جو ناکام ہوئے اور ایک فوجی آپریشن میں ان کی ہلاکت ہوئی۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں آصف علی زرداری نے ’آغاز حقوق بلوچستان‘ کے نام سے پیکیج دیا اور مذاکرات کی کوشش کی۔ اس کے بعد نواز شریف حکومت میں بھی ایک کوشش کی گئی، اس وقت بلوچستان کے وزیراعلیٰ نیشنل پارٹی کے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ تھے۔

ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کا خیال ہے کہ حکومت مذاکرات میں سنجیدہ نہیں۔

’میرے خیال میں جتنی خواری ہم نے کی، آل پارٹیز کانفرنس نے ہمیں بھیجا، اس کے بعد ملٹری اور سیاسی قیادت دونوں کی رضامندی شامل تھی، وہاں گئے، مذاکرات کیے اس کے بعد پیش رفت نہیں ہوئی۔‘

ڈاکٹر مالک بلوچ کے مطابق پہلے مرحلے میں وہ نوابزادہ براہمداغ بگٹی اور خان آف قلات کے پاس گئے تھے۔

’مذاکرات میں جو مطالبات سامنے آئے وہ کوئی اتنے مشکل نہیں تھے، وہ ایسے تھے کہ اگر بطور صوبائی حکومت اس کو حل کرنا چاہتا تو حل ہو جاتے۔‘

تاہم سابق وزیر اعلیٰ نے ان مطالبات کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا اور کہا کہ عام ضروریات، وہ بھی علاقے کی ضروریات کے مطابق مطالبات تھے، کوئی ذاتی مطالبہ نہیں تھا۔

انھوں نے کہا ’بس یہ سمجھ لیں جب تک عسکری قیادت فیصلہ نہیں کرتی سیاسی قیادت کچھ نہیں کر سکتی۔‘

یہ بھی پڑھیے

’بگٹی کے بعد روایتی سیاست دفن ہو گئی‘

بلوچ عسکریت پسندوں کو ہنر مند بنانے کا فیصلہ

’علیحدگی پسند قومی سلامتی کے لیے خطرہ نہیں رہے‘

نواب اکبر بگٹی

Getty Images
سابق فوجی صدر پرویز مشرف نے شاہ زین بگٹی کے دادا نواب اکبر بگٹی سے مذاکرات کیے تھے جو ناکام ہوئے اور ایک فوجی آپریشن میں ان کی ہلاکت ہوئی

پہاڑوں پر موجود افراد سے مذاکرات تک حالات ٹھیک نہیں ہوں گے

روزنامہ انتخاب بلوچستان کے ایڈیٹر اور تجزیہ نگار انور ساجدی کا کہنا ہے کہ اس وقت دو طرح کے لوگ ہیں جو مزاحمت میں مصروف ہیں جن میں سے کچھ پہاڑوں پر ہیں اور کچھ وہ ہیں جو جلاوطنی میں ہیں، ان میں سے جو متعلقہ لوگ ہیں وہ وہی ہیں جو پہاڑوں پر ہیں۔ ان کے مطابق جب تک ان سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے یا صلح کا کوئی امکان نہیں ہو گا حالات ٹھیک نہیں ہوں گے۔

’شاہ زین اپنے کزن براہمداغ سے تو بات کر سکتے ہیں لیکن اس وقت جو مزاحمت ہو رہی ہے ان میں یہ اہلیت نہیں کہ ان لوگوں سے رابطہ کریں اور ملاقات کا کوئی بندوست ہو، یہ بہت ہی دشوار ہے۔ شاہ زین کا اگر سیاسی اثر رسوخ ہے تو وہ ان کے اپنے ضلع تک محدود ہے، اس سے پہلے ان کی سیاسی بلوغت کہیں نظر نہیں آئی۔ ہو سکتا ہے کہ اب ان کی گرومِنگ ہو گئی ہو۔‘

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل کہتے ہیں کہ شاہ زین نواب کے پوتے ہیں اور ساتھ میں رشتے داریاں بھی ہیں لیکن ’حقیقت یہ ہے کہ کیا انھیں فیصلہ کرنے کا اختیار دیا گیا ہے کیونکہ شخصیات تو نواز شریف اور آصف علی زرداری بڑی تھیں لیکن فوجی اداروں نے اختیارات اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں۔‘

سردار اختر مینگل کے مطابق ’یہ صرف ایک میسینجر ہوں گے جو جا کر پیغام دیں گے حالانکہ اب پیغام رسائی کے وہ زمانے نہیں کہ کبوتر کے پنجوں میں آپ نے پرچی باندھ دی اور اس نے جا کر پیغام دے دیا۔ اب پیغام رسائی کا جدید زمانہ ہے، انٹرنیٹ یا سوشل میڈیا کا بھی استعمال کرتے ہیں۔‘

پہلے راہ ہموار تو کی جائے

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیر اعلیٰ اختر مینگل گزشتہ تین ادوار کی حکومتوں سے رابطے اور مذاکرات کا حصہ رہے ہیں۔ انھوں نے تحریک انصاف کی موجودہ حکومت کی وفاق میں حمایت کی تھی تاہم جبری لاپتہ افراد کی واپسی سمیت دیگر مطالبات تسلیم نہ ہونے پر راہیں علیحدہ کر لیں۔

اختر مینگل کا کہنا ہے کہ بلوچستان گزشتہ 20، 25 برسوں میں اتنا پچیدہ ہو گیا ہے کہ انھوں نے اعتماد سازی کے لیے چھ نکات دیے تھے۔

’مذاکرات پر جانے سے پہلے یہاں گراؤنڈ تو ہموار کرنا چاہیے، وہ مسائل حل کرنے تک کا بھی اختیار ان کے پاس نہیں تھا۔ جب وزیر اعظم سے ملاقات کرتے تو کہتے کہ جا کر آرمی چیف سے ملیں، اتنے بے اختیار وزیراعظم مذاکرات کے لیے کسی کو اپنا مشیر بناتے ہیں۔‘

اختر مینگل کا کہنا تھا کہ ’جو بیرون ملک بیٹھے ہیں آزادی پسند، ان کے مطالبات تو بہت سخت ہیں۔ جو سیاسی لوگ ہیں پاکستان کے آئین کے دائرے کار میں سیاست کر رہے ہیں پہلے ان کی تو سنیں۔‘

’جبری گمشدگیوں کے مسئلے پر تو باہر جانے کی ضرورت نہیں، یہ تو آپ کے اداروں کے پاس لوگ ہیں۔ وہ مسئلہ آپ سے حل نہیں ہو سکتا، جو ڈیتھ سکواڈ بنائے ہوئے ہیں ان کا خاتمہ نہیں کرسکتے، ان ہی ڈیتھ سکواڈوں کو فنڈنگ ہو رہی ہے، کیا انھیں افغانستان میں جنگ کے لیے تیار کیا جا رہا ہے یا کمشیر بھیجا جائے گا‘۔

سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان کا کہنا ہے کہ لوگوں کو غلط فہمی میں مبتلا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ ’لوگ اتنے باشعور ہیں اور تو کچھ نہیں سمجھ سکتے لیکن آپ کی نیتوں کا تو اندازہ کر سکتے ہیں‘۔

وزیراعظم عمران خان کے نامزد معاون شاہ زین بگٹی سے ٹیلی فون پر رابطے کی متعدد کوششیں کی گئیں، انھیں میسیج بھی کیے گے لیکن ان سے رابطہ نہیں ہو سکا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words