22 لوگ، سجاد پرویز اور اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور

یہ کتاب اچانک شروع ہو جاتی ہے۔ آپ نے جلد اٹھائی تو اک ملائم سیاہ خالی ورق ہے۔ اس کو پلٹیے تو رضا علی عابدی کا مضمون سامنے رکھا ہے۔ نہ اِنر ٹائٹل، نہ ضابطہ، انتساب اور نہ ہی فہرست۔

 یہ سب کچھ آپ کو چودہ ورق الٹنے کے بعد ملے گا۔ ان چودہ اوراق یا اٹھائیس صفحات میں رضا علی عابدی، وجاہت مسعود، عقیل عباس جعفری، عرفان جاوید، آمنہ مفتی اور چند دیگر احباب کی تاثراتی تحریریں ہیں اور صاحبِ کتاب سجاد پرویز کا پیش لفظ، پھر اندرونی سرورق ہے۔ انتساب ہے، ضابطہ اور فہرست۔

بڑی تقطیع کے تین سو اڑتیس صفحات پر مشتمل یہ کتاب میز پر رکھ کے ہی پڑھی جا سکتی ہے۔ بھاری اور گداز آرٹ پیپر پر چھپائی اس پر سیاہ ڈسٹ کور والی ٹھوس مضبوط سیاہ جلد جسے دیکھ کر بابا یحییٰ کی کتابیں یاد آتی ہیں۔ ان سب سے وزن اس قدر بڑھ گیا کہ مجھ ایسا ناتواں تو میز پر رکھ کر ہی پڑھ سکتا ہے۔

تاہم اپنے مندرجات کے حوالے سے یہ ایسی اعلیٰ کتاب ہے کہ یہ سب تام جھام نہ بھی ہوتا تو کتاب کے "وزن” میں کوئی کمی نہ آتی۔ ایک دو سے صَرفِ نظر کیجیے باقی اپنے اپنے عہد کی نابغہ شخصیات کے انٹرویوز اس کتاب میں شامل ہیں۔

 گزشتہ دنوں اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اطہر محبوب ملتان آئے تو پروفیسر نسیم شاہد نے ادیبوں اور کالم نگاروں کے ساتھ اُن کی ملاقات کا اہتمام ایک عشائیہ پر کیا۔ یہ کتاب "22 لوگ” وہیں ڈاکٹر اطہر محبوب نے مرحمت فرمائی۔

 اس کتاب میں وہ بائیس انٹرویو شامل ہیں جو جناب سجاد پرویز نے ریڈیو بہاولپور پر کئے۔ تاہم جیسا کہ سرکاری نشریاتی اداروں میں، بےجان اور پھسپھسے سوالات ترتیب دے کر ڈنگ ٹپانے کی روایت ہے، ایسا کچھ نظر نہیں آتا۔ سجاد پرویز نے جس کا بھی انٹرویو کیا ہے پوری تیاری کے ساتھ کیا ہے اور بڑے جاندار سوال ترتیب دیے ہیں۔ کمال یہ ہے کہ وجاہت مسعود صاحب جیسی بے دھڑک شخصیت کو بھی سرکاری ریڈیو پر بڑی خوش اسلوبی سے انٹرویو کیا ہے۔

حروف تہجی کے اعتبار سے ترتیب دی گئی فہرست میں بڑے بڑے نام موجود ہیں۔ اس فہرست میں اپنی دو پسندیدہ ترین شخصیات کو چودہ اور بائیس نمبر پر پایا۔ چنانچہ پہلی نشست میں چودہ نمبر پر جناب شکیل عادل زادہ اور بائیس نمبر پر جناب وجاہت مسعود کے انٹرویوز پڑھ ڈالے۔ کتاب کے مندرجات بارے آپ کو جو دو چار سطریں اس تحریر میں دکھائی دیں گی، وہ انہی دو انٹرویوز کی بنا پر ہیں کیونکہ فی الحال باقی میں نے نہیں پڑھے۔

ان دو انٹرویوز کے اسلوب سے پتہ چلتا ہے کہ ریکارڈڈ گفتگو جوں کی توں ٹرانسکرائب کردی گئی ہے۔ بولے ہوئے جملے اور لکھے ہوئے میں فرق ہوتا ہے۔ گو کہ جناب شکیل عادل زادہ اور جناب وجاہت مسعود دونوں ہی باربط گفتگو کرتے ہیں اور ان کے بولے ہوئے جملے بھی خوب تراشیدہ ہوتے ہیں پھر بھی مائیک پر ان تقاضوں کا بعض اوقات لحاظ نہیں رہتا جو تحریر کا حُسن ہوتے ہیں۔ چنانچہ پڑھنے والا جہاں ایک طرح کی بے ساختگی پا کرخوشگوار محسوس کرتا ہے وہیں بعض جگہ ذوقِ جمال پر گرانی بھی محسوس ہوتی ہے۔ مثلاً اگر بولتے ہوئے ایک جملے میں دو تین دفعہ "تو” کہا گیا ہے تو اسے ویسے کا ویسا ہی کاغذ پر اتار دیا گیا۔ ہلکی پھلکی ایڈیٹنگ ہوجاتی تو مزید لطف رہتا۔

تاہم ہر انٹرویو سے قبل کہیں ایک، کہیں ڈیڑھ اور کہیں آدھ صفحہ کا تعارف بہت باکمال ہے، جامع اور پُر اثر۔

بحیثیت مجموعی طباعت و پیش کش سے لے کے نفسِ کتاب تک سبھی کچھ بہت اعلیٰ ہے۔ مجھے فخر ہے کہ ایک بہت اچھی کتاب ہمارے سرائیکی خطے سے سامنے آئی ہے جس کے لیے جناب سجاد پرویز مبارک باد کے سزاوار ہیں اور ڈاکتر اطہر محبوب شکریہ کے کہ انہوں نے جامعہ اسلامیہ بہاولپور کے پلیٹ فارم سے ایسی پرشِکُوہ کتاب شائع کی۔

 کاش! ذکریا یونیورسٹی ملتان والے بھی ایسا کچھ کر سکیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words