EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

امریکہ افغانستان میں نوے کی دہائی والی غلطی دہرا رہا ہے: پاکستان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مشیر قومی سلامتی معید یوسف نے کہا ہے کہ امریکی فوج کا افغانستان سے انخلا کا عمل خطے اور افغانوں کے لیے بڑا المیہ ہے۔

پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان کے مشیر برائے قومی سلامتی معید یوسف نے کہا ہے کہ امریکہ دو دہائیوں کی محنت اور کاوشوں کے بعد افغانستان کو عدم استحکام کی حالت میں چھوڑ کر کیوں جا رہا ہے یہ بات سمجھ سے بالا ہے۔ واشنگٹن کے انخلا کا عمل خطے اور افغانوں کے لیے بڑا المیہ ہے۔

وائس آف امریکہ کے نمائندے علی فرقان کو دیے گئے خصوصی انٹرویو کے دوران معید یوسف نے کہا کہ امریکہ کا افغانستان سے انخلا ذمہ دارانہ نہیں بلکہ نوے کی دہائی جیسی غلطی ہے جس سے خطے میں عدم استحکام پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بارہا یہ کہا ہے کہ امریکی و اتحادی افواج کا انخلا ذمہ دارانہ ہونا چاہیے لیکن امریکہ کا افغانوں کے درمیان کسی سمجھوتے کے بغیر جانا غیر ذمہ دارانہ عمل ہے۔

قومی سلامتی کے مشیر نے کہا کہ امریکہ افغانستان کو اس حال میں چھوڑ کر جا رہا ہے کہ چاہے افغان آپس میں لڑتے رہیں یا خطے میں بدامنی پھیلتی ہے تو پھیلے۔ یہی وہ غلطی تھی جو ان کے بقول نوے کی دہائی میں دنیا نے کی تھی اور کہا تھا کہ دوبارہ نہیں دہرائیں گے۔

معید یوسف کے مطابق افغانستان میں امریکہ نے بڑی سرمایہ کاری کی ہے اور وہ ایسا کیوں چاہے گا کہ وہاں معاملات تباہی کی طرف جائیں لیکن یہ بدقسمتی ہے کہ تاریخ خود کو دہرا رہی ہے۔

پاکستان کی جانب سے افغانستان کے مسئلے کے حل کے سوال پر معید یوسف کہتے ہیں کہ افغان دھڑوں میں مفاہمت کے لیے پاکستان آخر وقت تک کوشش کرے گا۔ سیاسی مفاہمت پیدا کرنے کے لیے پاکستان جو کوششیں کر سکتا تھا وہ بروئے کار لائیں گے تاہم فیصلہ افغان قیادت اور امریکہ کو کرنا ہے جو براہِ راست افغان مسئلے کے فریق ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم یہ کوششیں اس لیے بھی کر رہے ہیں کیوں کہ ہم افغانستان میں خانہ جنگی نہیں چاہتے، اس کے سب سے زیادہ اثرات پاکستان پر مرتب ہوں گے۔

معید یوسف کہتے ہیں کہ افغانستان دنیا کا مسئلہ ہے اور عالمی طاقتیں اسے حل کرنے میں ناکام ہو گئی ہیں لیکن پاکستان اس کے حل کو تلاش کرے گا کیوں کہ ہمیں اس خطے میں رہنا ہے۔

طالبان کو مذاکرات کے لیے قائل کرنے اور پاکستان کے کردار سے متعلق سوال پر معید یوسف نے کہا کہ افغانستان میں دیرپا امن اور خطے میں استحکام کے لیے پاکستان نے طالبان کو امریکہ کے ساتھ مذاکرات پر قائل کیا جس کی بدولت دوحہ امن معاہدہ طے ہوا۔ تاہم دوسرے مرحلے میں بین الافغان سمجھوتے کے لیے کابل انتظامیہ پر کسی قسم کا دباؤ دکھائی نہیں دیا۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کے معاملے پر پاکستان نے ہر ممکن حد تک مدد و تعاون کیا ہے اور اس سے زیادہ کچھ کرنا ممکن نہیں۔ ان کے بقول طالبان پاکستان کے تابع نہیں البتہ اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے ہم انہیں مذاکرات کی میز پر ضرور لے کر آئے تھے۔

مشیر قومی سلامتی کا کہنا تھا کہ افغان تنازع کے حل کے لیے پاکستان صرف سہولت کار کا کردار ادا کرسکتا ہے جو ہم کر رہے ہیں اور امریکہ بھی کئی بار کہہ چکا ہے کہ افغانستان میں امن کے لیے پاکستان ایک تعمیری شراکت دار ہے۔

معید یوسف نے کہا کہ جب افغانستان سے متعلق پاکستان مشورہ دیتا تھا تو یہ کہا جاتا تھا کہ مداخلت ہو رہی ہے اور جب پاکستان مشورہ نہیں دیتا تو کہا جاتا ہے کہ پاکستان کچھ کر نہیں رہا۔ لیکن جب افغان مسئلے کی ناکامی کا ملبہ ڈالنے کی بات آئی تو توپوں کا رخ پاکستان کی طرف ہو گیا، ان کے بقول یہ بات بہت غیر مناسب ہے۔

افغانستان کی موجودہ صورتِ حال پر پاکستان کے تحفظات پر بات کرتے ہوئے قومی سلامتی کے مشیر کا کہنا تھا کہ پاکستان 20 سال سے کہہ رہا ہے کہ افغان تاریخ اور خطے کے حالات کے تناظر میں جنگ کی صورت میں کامیابی ممکن نہیں لہذا سیاسی مفاہمت کے ذریعے ہی مسئلے کا حل نکالا جائے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی قیادت نے افغانستان پر بہت وقت اور توانائیاں صرف کی ہیں لیکن اس قدر محنت کے باوجود ’ڈو مور‘ سننا بہت زیادتی ہے۔ ان کے بقول "ڈو مور کیا، اگر پالیسی ہی غلط ہو تو آپ آسمان بھی توڑ لائیں تو نتیجہ نہیں نکلے گا۔”

افغانستان میں استحکام کے لیے پاکستان کے مجوزہ حل پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں مفاہمت کے لیے خطے کے ممالک کے ساتھ مل کر مشترکہ حکمتِ عملی اپنانے پر کام کر رہا ہے تاہم ماضی میں بگاڑ پیدا کرنے والے ممالک ایسا نہیں چاہیں گے۔

ان کا کہنا تھا پاکستان اس بات کا ہر گز خواہش مند نہیں کہ افغانستان میں حکومت کون کرے گا، کون نائب ہو گا یا گورنر کون ہو گا۔ ان کے بقول یہ فیصلے افغان عوام کو کرنا ہیں اور پاکستان بارہا یہ کہہ چکا ہے۔

طالبان کی جانب سے بذور طاقت اقتدار پر قبضہ کرنے کی صورت میں انہیں تسلیم کرنے کے سوال پر معید یوسف نے کہا کہ اس حوالے سے جب وقت آئے گا تو بتائیں گے۔

‘پاکستان سے متعلق امریکی نظریے میں تبدیلی آئی ہے’

معید یوسف نے کہا کہ پاکستان آج بھی امریکہ کے ساتھ بہتر تعلقات اور ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہش مند ہے۔ لیکن وسیع تر تعلقات کی خواہش کے ساتھ یہ واضح کر دیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ مشترکہ مفادات پر کام کریں گے۔

اگر پاکستان اپنے مفاد اور نظریے پر کھڑا ہوتا ہے اور اس بنیاد پر امریکہ ناراض ہوتا ہے تو یہ مناسب عمل نہیں ہو گا کیوں کہ واشنگٹن بھی اپنے مفادات کے خلاف نہیں جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان سے متعلق امریکی نظریے میں تبدیلی آئی ہے۔ امریکہ سے اپنے تعلقات بہتر کرنا چاہتے ہیں تاکہ افغانستان میں مشترکہ مفادات کو مل کر چلایا جاسکے اور داعش و تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) جیسے مشترکہ خطرات سے نمٹا جائے۔

معید یوسف نے بتایا کہ ان کی امریکی ہم منصب سے جنیوا میں ہونے والی حالیہ ملاقات مثبت رہی تھی جس کی روشنی میں پیش رفت بھی ہو رہی ہے تاہم ان کے بقول اس کی رفتار قابلِ اطمینان نہیں۔

قومی سلامتی کے مشیر نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ فضائی اڈوں کا معاملہ اب زیرِ بحث نہیں ہے۔

پاکستان کا جھکاؤ چین کی طرف ہوگا یا امریکہ کی طرف؟

معید یوسف کہتے ہیں کہ پاکستان بلاک کی سیاست کا حصہ نہیں بنے گا لیکن اگر اسلام آباد پر دباؤ ڈالا گیا تو دنیا کو معلوم ہے ہمارا فیصلہ کیا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی دوسرے ممالک کے ساتھ تعلقات کی بنیاد اب جیو اکنامکس پر ہو گی اور پاکستان اپنی جیو اکنامکس پالیسی کے مطابق چین سمیت تمام ملکوں سے اچھے تعلقات چاہتا ہے لہذا یہ سوال نہیں ہونا چاہیے کہ اسلام آباد کا جھکاؤ واشنگٹن کی طرف ہوگا یا بیجنگ کی طرف۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان امریکہ اور چین دونوں سے بہتر تعلقات چاہتا ہے لیکن فرق یہ ہے کہ ایک طرف سے سرمایہ کاری اور راہداری کے منصوبے ہیں جب کہ دوسری طرف سے دیرینہ تعلقات ہونے کے باوجود وہ رویہ نہیں ہے جس کی اسلام آباد توقع رکھتا ہے۔

کیا پاکستان افغان مہاجرین کی میزبانی کے لیے تیار ہے؟

افغانستان میں خانہ جنگی کی صورت میں پناہ گزینوں سے متعلق سوال پر معید یوسف کہتے ہیں اگر افغانستان میں حالات خراب ہوئے تو پاکستان مہاجرین کو قبول کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ اس کا بندوست بین الاقوامی قوتوں اور اقوامِ متحدہ کو افغانستان کے اندر ہی کرنا ہوگا۔

اگر مہاجرین پاکستان کی سرحد پر آجاتے ہیں تو کیا پاکستان سرحد بند رکھے گا؟ اس سوال پر قومی سلامتی کے مشیر نے کہا کہ ابھی وقت ہے کہ افغانستان کا معاملہ پالیسی سے حل ہو جائے اور عالمی طاقتیں اور بین الاقوامی ادارے کوشش کریں کہ ایسی صورت پیدا نہ ہو۔

یاد رہے کہ رواں ہفتے ہی پاکستان کی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کو بتایا گیا تھا کہ افغانستان سے غیر ملکی افواج کے مکمل انخلا کے بعد خانہ جنگی کی صورتِ حال پیدا ہونے کا اندیشہ ہے جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں پناہ گزین پاکستان آ سکتے ہیں۔

پاکستان میں پہلے سے 30 لاکھ افغان پناہ گزین آباد ہیں جن میں سے زیادہ تر 1980 میں سویت یونین کے افغانستان پر حملے کے بعد آئے تھے۔

پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے گزشتہ ماہ ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ اگر افغانستان میں خانہ جنگی میں اضافہ ہوا تو پاکستان اپنی سرحد مہاجرین کے لیے نہیں کھولے گا۔

معید یوسف کہتے ہیں اگر مہاجرین کو پاکستان میں داخلے کی اجازت دی گئی تو ایسے عناصر بھی آسکتے ہیں جو پاکستان نہیں چاہتا کہ وہ آئیں اور عدم استحکام پیدا کریں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پہلے سے کہتا آرہا ہے کہ بھارت افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے استعمال کرتا ہے۔

یاد رہے کہ بھارت پاکستان کی جانب سے افغان سرزمین کو کسی کے خلاف استعمال کرنے کے بیانات کی تردید کرتا آیا ہے۔

بھارت کے طالبان کے ساتھ روابط کی خبروں پر تبصرہ کرتے ہوئے پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر کہتے ہیں کہ نئی دہلی جن کے خلاف کئی دہائیوں تک سازشیں اور منصوبے بناتا رہا آج ان سے کس حیثیت میں مذاکرات کر رہا ہے۔

کیا پاک بھارت مذاکرات کے لیے رابطے ہوئے ہیں؟

بھارت کے ساتھ درپردہ مذاکرات کے سوال پر پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر کہتے ہیں کہ نئی دہلی کے ساتھ بیک ڈور مذاکرات کا آغاز نہیں ہوا البتہ ابتدائی رابطے ہوئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت نے پاکستان سے کہا ہے کہ کشمیر پر معاملات کو حل کرنا چاہتے ہیں تو ہم نے خوش آمدید کہا اور باضابط مذاکرات کے لیے مطالبات کی فہرست دے دی جس کے بعد جواب نہیں آیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ بات چیت اور بہتر تعلقات کا دار و مدار کشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی سے منسلک ہے اگر بھارت وہ کرنے کو تیار نہیں تو معاملات آگے نہیں بڑھ سکتے۔

بھارت سے مذاکرات کے معاملے پر پاکستان کی سیاسی و فوجی قیادت کے بیانات میں تضاد کے سوال پر معید یوسف کہتے ہیں کہ ملک کی سیاسی و عسکری قیادت ایک صفحے پر ہے۔ ان کے بقول جب فوج یہ کہتی ہے کہ آرٹیکل 370 سے ہمارا تعلق نہیں اور وزیر اعظم کہتے ہیں آرٹیکل 370 کی بحالی تک بھارت سے مذاکرات نہیں ہوسکتے تو یہ دونوں کا ایک ہی مطلب ہے۔

انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 370 کشمیر کے بھارت سے الحاق کا آلہ ہے جسے ہم تسلیم نہیں کرتے اور وزیرِ اعظم کے آرٹیکل 370 کی بحالی سے مراد کشمیر کی آئینی حیثیت کی بحالی ہے۔

‘پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا فیصلہ سیاسی ہے’

قومی سلامتی کے مشیر کہتے ہیں کہ پاکستان کو ایکشن پلان پر عمل درآمد کے بعد فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) سے انصاف کی امید تھی تاہم گزشتہ ماہ جائزہ اجلاس میں پاکستان کو گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا فیصلہ سیاسی دکھائی دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف کے اپنے قوائد کہتے ہیں کہ اگر آپ تمام نکات یا زیادہ تر ایکشن پلان پر عمل کرلیں تو کوئی جواز نہیں رہتا کہ اس ملک کو نگرانی کی فہرست میں رکھا جائے۔

معید یوسف کے مطابق عالمی تنظیم خود تسلیم کررہی ہے کہ پاکستان نے 27 میں سے 26 نکات پر عمل کرلیا اور 27ویں پر پیش رفت جاری ہے تو ہم اسے سیاسی فورم نہ کہیں تو اور کیا کہیں۔

پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر کہتے ہیں جب ہم نے کئی اور ممالک سے خود کا تقابل کیا تو بہت سے ملک ہم سے پانچ گنا پیچھے دیکھائی دیئے لیکن وہ کسی پابندی یا نگرانی کی فہرست میں نہیں ہیں۔

عالمی اداروں کا پاکستان کے ساتھ یہ رویہ کیوں ہے؟ اس سوال پر معید یوسف نے بھارت پر الزام عائد کیا کہ وہ پاکستان کے خلاف لابنگ کرتا ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان 2018 سے ایف اے ٹی ایف کی نگرانی کی فہرست میں برقرار ہے اور جون میں ہونے والے پلینرری اجلاس میں پاکستان کو گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 2594 posts and counting.See all posts by voa

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے