EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

سلامتی کونسل نے سرحدی گزرگاہ کے ذریعے شامی پناہ گزینوں کی امداد جاری رکھنے میں ایک سال کی توسیع کر دی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ترکی کی سرحد کے قریب شامی پناہ گزینوں کے کمیپ۔ فائل فوٹو
ویب ڈیسک — امریکہ اور روس جمعے کے روز ایک اور سال کے لئے ترکی کے توسط سے شام کے شمال مغربی حصے میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پردی جانے والی امداد جاری رکھنے پر متفق ہو گئے ہیں۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے متفقہ طور پر سرحد پار امدادی آپریشن جاری رکھنے سے متعلق قرارداد کے ایک مسودے کی منظوری دے دی ہے۔

امریکہ اور روس نے آئرلینڈ اور ناروے کی حمایت سے پیش کی جانے والی قرارداد پر مشترکہ طور پر اتفاق کیا، جو ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔ شام میں انسانی ہمدردی کی صورت حال سے متعلق یہ قرارداد اقوام متحدہ کی فائل پر تھی اور مہینوں سے اس پر گفت و شنید ہو رہی تھی۔

اس قرارداد میں باب الحوا کی سرحدی گزرگاہ کو مزید چھ مہینوں کے لیے استعمال کرنے کا اختیار دیا گیا ہے، جو ہفتے کے روز ختم ہو رہا ہے۔ جس کے بعد اگلے چھ مہینوں کے لیے اس اختیار میں خود بخود تجدید ہو جائے گی اور پھر وہ 2022 جولائی تک جاری رہے گی۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے بھی جنوری میں شام سے متعلق انسانی ہمدردی کی سرگرمیوں کے بارے میں کونسل کو رپورٹ کرنے کے لیے کہا تھا۔

ترکی کی سرحد کے ساتھ شامی پناہ گزینوں کا ایک بڑا کیمپ۔ فائل فوٹو
ترکی کی سرحد کے ساتھ شامی پناہ گزینوں کا ایک بڑا کیمپ۔ فائل فوٹو

امریکی سفیر لینڈا تھامس گرین فیلڈ نے کونسل کو بتایا کہ اس قرارداد کی بدولت لاکھوں شامی یہ جان کر آج رات سکھ کا سانس لے سکتے ہیں کہ کل کے بعد انسانی ہمدردی کی اشد ضروری امداد باب الحوا کی سرحدی گزرگاہ کے ذریعے ادلب پہنچنے کا سلسلہ جاری رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ والدین آج رات یہ جان کر سو سکتے ہیں کہ اگلے 12 ماہ تک ان کے بچوں کو خوراک ملتی رہے گی اور انسانی ہمدردی کے جس معاہدے تک ہم پہنچے ہیں وہ فی الواقع زندگیاں بچائے گا۔

34 لاکھ سے زیادہ افراد حکومت کے کنٹرول کے علاقے سے باہر رہ رہے ہیں جنہیں باب الحوا کی بارڈر کراسنگ کے راستے ہر ماہ ایک ہزار ٹرکوں میں امدادی سامان پہنچایا جاتا ہے۔

مغربی ملک بھی عراق سے شام تک کی یعروبیہ کراسنگ کو دوبارہ کھولنے کی کوشش کر چکے ہیں۔ یہی وہی راہداری ہے، جسے شمال مشرق میں 14 لاکھ لوگوں کو طبی رسد پہنچانے کے لئے استعمال کیا جاتا رہا تھا، لیکن اسے کھولنے کے بارے میں بات چیت آگے نہیں بڑھ سکی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 2591 posts and counting.See all posts by voa

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے