دلیپ کمار کی اکڑ، کشور کی تساہلی اور دم توڑتی مدھوبالا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 146
  •  

ویلنٹائن ڈے، جسے مذہب عشق کے پرہیزگار مومنوں نے انتہائی خشوع و خضوع سے اپنے اپنے مسلک کے مطابق منایا۔ اپنے چاہنے والوں /والیوں سے جنم جنمانتر تک ساتھ نبھانے اور سکھ دکھ میں ہر دم ساتھ دینے کے نہ جانے کتنے عہد و پیمان باندھے۔ عین اسی دن گوگل نے مدھو بالا کا ڈوڈل بنا کر اُس خوبصورت چہرے کو خراج عقیدت پیش کیا جس کی دل میں اتر جانے والی مسکراہٹ اور چمکتی آنکھوں کا کوئی جواب اس کے بعد نہ مل سکا۔ وہی مدھوبالا جس کے بارے میں شمی کپور نے کہا تھا کہ جب وہ سامنے ہوتیں تو میں ڈائیلاگ بھول جاتا کرتا تھا۔

ہاں وہی مدھوبالا جس کا یوم پیدائش 14 فروری کو پڑتا ہے۔ وہی دن جو عاشقوں کی عید کہلاتا ہے، محبتوں کا بسنت اور چاہتوں کا نوروز مانا جاتا ہے۔ وقت کی ستم ظریفی یہ کہ ویلنٹائن ڈے کی مناسبت سے جس دن دو پیار کرنے والے اپنی محبت کی تکمیل کی قسمیں کھاتے ہیں اور سات جنموں تک ساتھ رہنے کا وعدہ کرتے ہیں اسی دن جنمی اِس ہر دل عزیز اداکارہ کی محبت ہی ادھوری رہ گئی۔

نہ جانے کتنوں نے مدھوبالا جیسی محبوبہ پانے کے خواب دیکھے ہوں گے لیکن مدھوبالا حقیقی زندگی میں جس کی محبوبہ رہیں انہیں نے ان کی قدر نہ کی۔ کروڑوں دلوں پر راج کرنے والی مدھو بالا اپنی محبت حاصل کرنے کی جستجو میں ہی خالی ہاتھ اس دنیا سے سدھار گئیں۔

جستجو جس کی تھی اس کو تو نہ پایا ہم نے
اس بہانے سے مگر دیکھ لی دنیا ہم نے

محض 36 سال کی عمر میں ہی اس ملکہ حسن نے زندگی کے تمام نشیب فراز دیکھ لئے تھے۔ بھارتی سنیما کی تاریخ کا جب جب ذکر ہوگا تب تب فلموں میں نام آئے گا مغل اعظم کا، اداکاروں میں قصہ چھڑے گا دلیپ کمار کا اور اداکاراؤں میں تذکرہ آئے گا مدھو بالا کا۔ بات نکلے گی تو پھر دور تلک جائے گی۔ یہ ممکن نہیں کہ دلیپ کمار اور مدھوبالا کا نام آئے اور اِن دونوں کی محبت اور اس محبت کے دردناک انجام کی بات نہ ہو۔

یوں تو دلیپ کمار نے کئی اداکاراؤں کے ساتھ کام کیا لیکن ان کی جوڑی مدھوبالا کے ساتھ سب سے زیادہ مقبول رہی۔ شاید اس کامیابی کی وجہ اِن دونوں کی بے پناہ محبت رہی ہو۔ ہندی سنیما کی یہ شہرہ آفاق جوڑی فلمی پردے سے حقیقت میں بدل سکتی تھی، اس کا اختتام بھی حسین ہو سکتا تھا اور یہ رشتہ صدی کا سب سے خوبصورت رشتہ ثابت ہوسکتا تھا اگر اس رشتے کے درمیان انا اور ضد نہ آئی ہوتی۔

1951 میں ریلیز ہوئی فلم ترانہ کے سیٹ سے پروان چڑھی مدھو بالا اور دلیپ کمار کی محبت نے فلم نیا دور میں آکر کروٹ لی۔ اس فلم میں پہلے مدھوبالا کو بطور ہیروئن سائن کیا گیا تھا اور ان کے ہیرو دلیپ کمار تھے لیکن شروع سے ہی اس رشتے کے مخالف رہے مدھوبالا کے والد عطا اللہ فلم کی آؤٹ ڈور شوٹنگ پر اڑ گئے، وہ نہیں چاہتے تھے کی مدھوبالا اور دلیپ کمار مزید نزدیک آئیں۔ یہاں تک کہ انہوں نے مدھوبالا سے اس فلم کو چھوڑنے تک کو کہہ دیا۔

ادھر ڈائریکٹر چاہتا تھا کہ یہ فلم مدھوبالا ہی کریں۔ یہ معاملہ اتنا سنگین ہوا کی عدالت تک جا پہنچا۔ عدالت میں محض فلم کا قضیہ ہی نہیں اٹھا بلکہ مدھوبالا، ان کے والد عطا اللہ اور دلیپ کمار کے رشتے کی پیچیدگیاں بھی عام ہو گئیں۔ ایک مرد نے دوسرے مرد کو نیچا دکھانے کے لئے عورت کا ساتھ چھوڑ دیا۔ اس مقدمہ میں دلیپ کمار نے ڈائریکٹر بی آر چوپڑا کے حق میں گواہی دی۔ اس ایک گواہی نے ہی سب کچھ تباہ کرکے رکھ دیا۔ اس واقعہ نے ان دونوں کے رشتے میں ایسی دراڑ ڈال دی جو پھر کبھی نہ بھر سکی۔

اس مقدمے بازی کے بعد تو جیسے مدھو بالا کے والد عطا اللہ اور دلیپ کمار میں پوری طرح ٹھن گئی۔ دو پٹھان اپنی اپنی مردانہ انا کے آگے جھکنے کو تیار نہیں تھے۔ دلیپ کمار نے مدھو بالا کے سامنے شادی کا ارادہ اس شرط پر ظاہر کیا کہ وہ اپنے والد سے ہمیشہ کے لئے قطع تعلق کر لیں۔ وہیں مدھوبالا چاہتی تھیں کہ دلیپ بس ایک بار ان کے والد سے گلے لگ کر معافی مانگ لیں۔ دونوں میں سے کسی نے بھی دوسرے کی تجویز پر اتفاق نہیں کیا اور اپنی اپنی ضد پر ڈٹے رہے۔ حالانکہ دلیپ کمار نے بھری عدالت میں یہ قبول کیا کہ وہ مدھوبالا سے پیار کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے لیکن یہ دلیل ان کی انا کے آگے چھوٹی پڑ گئی۔

ایسا نہیں ہے کہ قسمت نے انہیں تلخیاں مٹانے کا کوئی موقع نہیں دیا۔ قسمت دیکھئے کہ مغل اعظم کی شوٹنگ پھر سے شروع ہوئی جس نے دلیپ کمار اور مدھوبالا کو ایک بار پھر آمنے سامنے کر دیا۔ یہ کرشمہ کہئے کہ اس فلم کے ڈائریکٹر کے آصف نے یوں تو اس فلم کو بنانے کا ارادہ 1944 میں ہی کر لیا تھا جس میں وہ اداکار چندر موہن اور اداکارہ نرگس کو لینے کا ارادہ کر چکے تھے لیکن اس کے فائنینسر شہزاد علی تقسیم کے بعد پاکستان چلے گئے اور چندر موہن کا دل کے دورے سے انتقال ہو گیا۔ نرگس نے بھی یہ فلم کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ سنجوگ نہیں تو اور کیا ہے کہ دلپ کمار اور مدھو بالا کی محبت کو آخر اس فلم سے ہی امر ہونا تھا۔

فلم بندی کے دوران تو دونوں کی محبت اپنے عروج پر تھی لیکن وسط تک آتے آتے حالات اس حد تک پہنچ گئے کہ دونوں کی بات چیت مکمل طور پر بند ہو گئی تھی۔ اس کے باوجود اس فلم نے دونوں کے جذبات کے کچھ ایسے رنگ بکھیرے کہ یہ بھارتی سنیما کی تاریخ کی مثال بن گئی۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 146
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

صائمہ خان، اینکر پرسن دور درشن، دہلی

صائمہ خان دہلی سے ہیں،کئی نشریاتی اداروں میں بطور صحافی کام کر چکی ہیں، فی الحال بھارت کے قومی ٹی وی چینل ڈی ڈی نیوز کی اینکر پرسن ہیں

saima-skhan has 8 posts and counting.See all posts by saima-skhan