پرانی گاڑی نئے سوار
پرانی گاڑی خواہ اپنی ہو یا سرکاری بڑی عجیب چیز کا نام ہے آپ کو بنا فرمائش کے کمال کی دھنیں سناتی ہے، بس اس کو کسی نا کسی طرح سٹارٹ کر لیں یہ کوئی نا کوئی راگ الاپنا شروع کر دے گی، گیئر بدلتے جاؤ راگ بدلتا جائے گا، بعض اوقات تو ہر پرزہ کسی ننھے قوال کا روپ دھار لیتا ہے اور موج مستی میں آ کر اپنی لے میں کچھ بڑبڑاتا نظر آتا ہے
پولیس سٹیشن میں موجود یہ سرکاری گاڑی بھی کچھ ایسی ہی تھی، بڑھاپے میں بھی جوانی کی ادا رکھتی تھی، کبھی کبھی ایسے اٹھلا کے چلتی تھی کہ سواریوں کے دل ہچکولے کھانے لگتے تھے۔ ڈرائیور حضرات عموماً اسے ایک خاص رفتار سے زیادہ تیز نہیں چلاتے تھے مبادا ہوا میں تحلیل ہو جائے،
ڈرائیور کے ساتھ والی سیٹ جس پر مجھے بیٹھنا تھا، اندر کو دھنسی ہوئی تھی جس کو ایک پرانا تکیہ پھنسا کر ہموار کرنے کی شاندار کوشش کی گئی تھی، مگر تکیہ بار بار اپنی جگہ سے سرک جاتا تھا جسے کھینچ کھانچ کے دوبارہ اپنی جگہ پہ لایا جاتا تھا۔
دروازے کا شیشہ اوپر تلے کرنے والا ہینڈل جو عام طور پر گاڑی کے دروازے کے ساتھ لگا ہوتا ہے اسے اتار کر ڈرائیور کو دے دیا گیا تھا وہ بوقت ضرورت ساتھ بیٹھے افسر کو دیتا تھا اور جیسے ہی شیشہ مطلوبہ مقام تک آ جاتا تھا وہ ہینڈل اتار کر دوبارہ ڈرائیور کو تھما دیا جاتا تھا
جیسے محکمے میں ہونے والے دیگر معاملات میں ہم نے کبھی زبان نہیں کھولی، ایسے ہی اس ہینڈل کو فکس نہ کروانے میں کیا حکمت پوشیدہ تھی، ہم نے تو کبھی نہیں پوچھا، بس چپ چاپ شیشہ اوپر تلے کیا اور ہینڈل اسے تھما دیا،
گاڑی کی ایک لائٹ تو عاجزی و انکساری میں اپنی مثال آپ تھی، اس کی نگاہ سڑک میں کچھ اس طرح سے گڑی رہتی تھی کہ روشنی چند فٹ سے آگے نہیں جاتی تھی اور دوسری لائٹ کا رخ آسمان کی طرف تھا، گویا اس زمین کو روشن کرنے کے بعد خلا میں موجود کسی اور سیارے کو روشن کرنے کی خواہاں ہو،
ایسی ہی ایک گاڑی پر علاقہ تھانہ میں گشت کرنے کے لیے میرے ہمراہ ایک ڈرائیور اور دو سپاہی تھے، ہمیں ویران سڑکوں پہ ساری رات گشت کرنا تھا اور جرائم پیشہ لوگوں پر نگاہ رکھنے کے ساتھ اپنی نیند سے بھی لڑنا تھا، جرائم پیشہ لوگوں سے نبرد آزما ہونے سے زیادہ ہمیں نیند سے لڑنے کا تجربہ تھا، اکثر یوں ہوتا تھا کہ ہم نیند کے ساتھ بے جگری سے لڑتے ہوئے آخر کار جام استراحت نوش کر جاتے تھے، کبھی کبھی تو یہ جام ہم معرکے کے پہلے دور میں ہی اپنے حلق میں انڈیل لیتے تھے،
ویسے رات کا کھانا کھانے کے بعد مجھے کچھ دیر کے لیے واک کرنے کی بھی عادت تھی، میں نے ڈرائیور سے کہا میاں گاڑی کسی مناسب جگہ پہ ٹھہراؤ مجھے کچھ دیر واک کرنا ہے، ڈرائیور نے گاڑی ایک وسیع و عریض پٹرول پمپ پر کھڑی کردی، میں گاڑی سے اتر کر پٹرول پمپ کے احاطے میں واک کرنے لگا۔
مارچ کے مہینے میں رات کی ٹھنڈی ہوا بہت بھلی لگتی ہے، ہلکی ہلکی ہوا پتوں سے چھیڑ خانی کرتی تو پتے فرط جذبات سے جھومنے لگتے تھے۔ یہ ماحول اور زیادہ رومانوی محسوس ہوتا ہے جب آپ شہر کے شور و شغب سے دور کسی پر سکون جگہ پر موجود ہوں،
سرکاری گاڑی کا ڈرائیور اور دونوں سپاہی آہنی کرسیوں پہ براجمان ہو کر سرسراتی ہوا کے سحر میں گرفتار ہو چکے تھے، پٹرول پمپ کے لیمپ کی پیلی روشنی میں ان کی مندی ہوئی آنکھیں صاف دکھائی دے رہی تھیں، چیک دار تہمد اور بد رنگی کرتے میں ملبوس ادھیڑ عمر کا ایک ملازم پمپ پر رات کی ڈیوٹی پہ مامور تھا،
کچھ دیر کے بعد ایک موٹر سائیکل پر دو نوجوان تیل ڈلوانے کے لیے پمپ پر آئے، میں بدستور اپنی واک میں مصروف تھا کہ ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا ”یار یہ پولیس والا تیز تیز پیدل کیوں چل رہا ہے“ ، ”او بھئی سیدھی سی بات ہے کہیں سے کھانا کھا کے آیا ہوگا اسے ہضم کرے گا تو کسی اور سے جا کے کھائے گا ناں“ دوسرے نے برجستگی سے جواب دیا۔


