EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

گوادر میں پانی اور بجلی کا بحران شدید ہو گیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

1958 سے گوادر سلطنت آف عمان کے دور سے ہی پینے کے صاف پانی اور بجلی کے بحران سے گزر رہا ہے۔ پاکستان میں شامل ہونے پر لوگوں کو نئی مملکت سے کافی امیدیں وابستہ تھیں

اگرچہ زمانہ قدیم سے گوادر ایک قدرتی اور محفوظ بندرگاہ کے طور پر مشہور تھا۔ افریقہ، خلیج کے ممالک، مشرق وسطی اور ہندوستان سے مال بردار کشتیوں اور بعد میں بحری جہازوں سے گوادر تجارت کا اہم مرکز رہا۔ چھوٹی آبادی کو پینے کا پانی کوہ باتیل کے چھوٹے ڈیم اور اس کے دامن سے کنواں کھود کر میٹھا پانی حاصل ہو جاتا تھا۔

گوادر کا ڈیم آنکاڑہ گوادر سے صرف 25 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع بے 1993 کو بے نظیر بھٹو کے دور حکومت میں تعمیر کی گئی اس وقت گوادر شہر کی آبادی بمشکل 50 ہزار تھی۔ اور ان دنوں بارشیں بھی زیادہ ہوا کرتی تھیں۔

غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گوادر کی موجودہ آبادی اب تقریباً ڈھائی لاکھ سے زائد ہے ایک طرف گوادر ڈیپ سی پورٹ اور فیش ہاربر ہے تو دوسری جانب دنیا کے بڑے ائر پورٹوں کی طرح کا ایک جدید ائر پورٹ زیر تعمیر ہے۔ اور تیسری جانب گوادر سی پیک کی 19 کلو میٹر ایکسپریس وے روڈ گوادر ایسٹ بے میں زیر تکمیل ہے ان تمام منصوبوں کو زیادہ سے زیادہ پانی اور بجلی کی ضرورت ہے۔

نومبر 2020 کو کچھ بارش ہوئی آنکاڑہ ڈیم میں پانی کا ذخیرہ ہو گیا لیکن گزشتہ دو سالوں سے خشک سالی کی وجہ سے گوادر کو پانی گوادر سے 160 کلو میٹر دور ضلع کیچ کے میرانی ڈیم سے ٹینکروں کے ذریعے پہنچایا جاتا رہا، جس پر کروڑوں روپے خرچ ہوئے۔ پاک نیوی نے بھی ان ایام میں کراچی سے بحری جہازوں سے اپنی اور عوام کی ضرورت کی کمی کو پورا کرنے میں کافی تعاون کی۔

گوادر کی اہمیت کے پیش نظر مختلف زیر تعمیر منصوبوں کے لئے وافر مقدار میں پانی اور بجلی کی ضرورت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔

گوادر کلانچ کا سوڈ ڈیم 65 کلومیٹر پائپ لائن پر اب تک تین ارب اسی کروڑ کی لاگت آئی ہے جبکہ سوڈ ڈیم پر 75 کروڑ کیو بک پانی کی گنجائش ہے 37 ہزار ایکڑ فٹ ہے، اس کی اونچائی 16 میٹر کھینچ منٹ ایریا 850 کلومیٹر ہے پانی فراہم کرنے کی صلاحیت یومیہ پچاس لاکھ گیلن ہے۔ لیکن اب تک یہ مکمل گوادر شہر اور اس کے مضافاتی علاقوں کو پانی سپلائی کرنے کے لئے کنکٹ نہیں ہے۔ اور کہا جا رہا ہے کہ اس ڈیم کی مٹی تیزی سے پانی کو چوس رہا ہے۔ اگر جلد بارشیں نہ ہوئیں تو یہ سوکھ جائے گا۔

اربوں روپے سے ایک ڈیزلیشن پلانٹ پر خرچ ہوئے لیکن وہ منصوبہ اپنی افادیت سے قبل ناکام ہوا ہے۔ اس کی وجہ ناقص نگرانی اور بجلی کی کمی قرار دی جاتی ہے۔

گوادر تحصیل جیوانی شہر اور کلانچ کے علاقے حالیہ دنوں اور گزشتہ ادوار کی طرح پانی کے بحران سے کافی مشکلات کا شکار ہے۔ اس سلسلے میں احتجاج بھی کیا گیا اور اسی طرح سر بندن کا علاقہ بھی پانی اور بجلی سے متاثر ہے۔

گوادر میں پانی کی ضرورت کے پیش نظر موجودہ حکومت شادی کورڈیم کو بھی زیر تعمیر کر رہی ہے پائپ لائن 360 کروڑ کی لاگت سے بن رہا ہے شادی کور ڈیم کے پانی کا مجموعی ذخیرہ کرنے کی گنجائش 47 ہزار ایکڑ فیٹ ہے جبکہ آغاز میں یومیہ دس لاکھ گیلن پانی پسنی اور پچیس لاکھ گیلن پانی گوادر کو فراہم کیا جائے گا پائپ لائن پچاس لاکھ گیلن کی ہے۔

اب گوادر کے اکثر و بیشتر علاقوں میں گندا اور مضر صحت پانی پبلک ہیلتھ انجنئیر ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے گوادر کے کئی علاقوں میں پیلے رنگت کا گندا اور بد بو دار پانی سپلائی کیا جا رہا ہے، جو پینے کے قابل نہیں مجبوراً غریب عوام اس کو پی رہے ہیں۔ اور ساتھ احتجاج بھی کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس پیلے رنگت کے پانی کے بوتل سوشل میڈیا کے توسط سے احکام بالا کو دکھائے بھی ہیں۔ تا کہ انتظامیہ اس جانب متوجہ ہو۔

جس سے گوادر میں مختلف وبائی امراض پھیل رہے ہیں جن میں ملیریا، ڈینگی وائرس ٹائیفائیڈ، گردوں کے مختلف امراض اور ہیضہ اور دیگر مہلک بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ جہاں پہلے سے ہی مقامی اسپتالوں میں علاج معالجہ کی خاص سہولت موجود نہیں۔ اور ایران سے اب پورے مکران ڈویژن کے ہر ضلع کو صرف 8 میگا واٹ بجلی مل رہی، اس سے 16 اور 18، گھنٹے لوڈشیڈنگ کے عذاب سے عوام گزر رہے ہیں۔

اگر جلد ان مسائل پر قابو نہ پایا گیا تو گوادر میں ایکبار پھر میرانی ڈیم سے ٹینکر مافیا کے وارے نیارے ہونے کے قوی امکانات نظر آ رہے ہیں۔ گوادر کے عوام کا مطالبہ ہے کہ 10 میگا واٹ بجلی چائنہ گورنمنٹ کے توسط سے گوادر پورٹ اگر فراہم کرے تو کسی حد تک بجلی بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ اگر وفاقی و صوبائی حکومت نے جلد اس مسئلے کو حل نہ کیا تو امن و امان کے حالات بے قابو ہو سکتے ہیں۔

جبکہ گوادر کی تمام سیاسی پارٹیاں اور سول سوسائٹی سراپا احتجاج ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
سلیمان ہاشم کی دیگر تحریریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے