EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

آزاد کشمیر اور بھان متی کا کنبہ!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مرشد سید طلعت حسین کی تلملاہٹ عروج پر تھی کہ جنہوں نے مقتدرہ اور خان سے ٹکر لینا تھی وہ آزاد کشمیر میں آپس میں گتھم گتھا ہو رہے ہیں۔ چلئے مان لیتے ہیں کہ مرشد سول بالادستی کی جنگ لڑ رہے ہیں مگر ان کے یہ نام نہاد ہراول دستے اور میسرے میمنے پورس کے ہاتھی ثابت ہوئے ہیں۔ ہراول کے کمانڈر مولانا تو عرصہ دراز سے مقتدرہ کے چہیتے ہیں اور باقی دونوں کی جڑوں میں مقتدرہ کا پانی ہے۔

جو سب کچھ ہار چکا ہے وہ تو باہر بیٹھ کر آنکھیں دکھا رہا ہے کیونکہ اسے جان چھڑانے (نااہلی سے بیماری تک) کے لئے کیا کیا پاپڑ بیلنے پڑے اور اس میں حصہ بقدر جثہ سب نے (مقتدرہ، عدلیہ، حکومت وقت) ڈالا۔ لیکن اس تمام قصے میں حاصل حصول کیا ہوا یہ ایک بہت بڑا سوال ہے۔ اس کے علاوہ قانونی طور پر اس کا عمل دخل رہا کوئی نہیں اس لئے کوئی جئے یا مرے اس کی بلا سے۔

بھان متی کا کنبہ (پی۔ ڈی۔ ایم) کا تو ایسا شیرازہ بکھرا ہے کہ سارا گٹھڑ چوک میں ہی کھل گیا ہے اور گندے کپڑے سرعام چھوا چھو دھوئے جا رہے ہیں۔ نون لیگ اور پیپلز پارٹی والے جو مرضی کر لیں لیکن اندرون خانہ والی چوٹیں بھولتی نہیں۔ کبھی یہ میثاق جمہوریت کرتے ہیں تو کبھی ضیاء لیگ اور ایوب لیگ بن کر ایک دوسرے سے قریب ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن من ہی من میں ایک دوسرے کو کوستے ہیں۔

تحریک کا نقطہ اختتام کیا خوب رہا، ملاحظہ فرمائیں :
پیپلز پارٹی، تحریک عدم اعتماد لائیں۔
ن لیگ: استعفے دیں
مولانا: جو دل کردا جے کرو، مینوں کوئی سیٹ دلواؤ

پیپلز پارٹی کو مریم نواز سوٹ کرتی ہیں کیونکہ وہ اپنے قائد جمہوریت ابا جی کے موجودہ نقش قدم (ہم نہیں تو کوئی نہیں ) پر چلتی ہے۔ شہباز شریف مفاہمت پرست ہے۔ اس لئے جب تک وہ پابند سلاسل رہے دونوں پارٹیوں کی گاڑھی چھنتی رہی۔ دوسری بات مقتدرہ کی محبت، زرداری اور شہباز شریف کا بڑا سخت مقابلہ ہے لیکن فی الحال مقتدرہ جمہوریت پرست ہے اس لئے خان صاحب سکون میں ہیں۔

آزاد کشمیر میں جو کچھ کہا جا رہا ہے وہ حکومت وقت کے لئے بہت اچھا ہے کہ یہ دونوں آپس میں ہی لڑ لڑ کر اپنی چونچ اور دم غائب کر لیں۔ دوسرا تین سال کی اندھا دھند دوڑ دھوپ کے بعد کچھ اشاریے مثبت ہوئے ہیں جو کہ حکومت کے لئے تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہوئے۔ بجٹ، کووڈ کنٹرول، کچھ ابھرتے منصوبے، سی پیک کی رفتار وغیرہ نے حکومت کی خیر خواہی میں کافی اضافہ کیا ہے، اگر بجلی و گیس کی لوڈ شیڈنگ پر جلد قابو پا لیا گیا تو یہ ایک بہت بڑا پلس ہو گا۔

میرا ذاتی خیال تھا کہ پی ڈی ایم کا اخیر اچھا نہیں ہو گا اور وہی ہوا۔ یہ اپوزیشن حکومت کے لئے ایک نعمت ہے۔ جن کو ہمیشہ اپنی اپنی پڑی رہتی ہے کسی پرائے کا انہوں نے کیا کر لینا ہے اور جو اس کشتی میں نہیں سوار ہوئے وہ ولی نکلے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
سید تصور عباس، باکو - آذربائیجان کی دیگر تحریریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے