بری عورت کی کتھا (خط نمبر 5)
محترم ڈاکٹر خالد سہیل!
میں آپ کا جواب پڑھ کر بہت متاثر ہوئی ہوں کہ کس طرح چند الفاظ میں آپ نے زندگی اور کامیابی کے تعلق کو نہ صرف بخوبی سمیٹا بلکہ مختلف طرز کے لوگوں میں اس تعلق کی بدلتی صورتوں کی بھی نشاندہی فرمائی۔
سر۔ آپ نے مجھ سے پاکستان میں مقیم خواتین بالخصوص غیر روایتی خواتین کو درپیش آنے والے مسائل کے متعلق دریافت کیا ہے۔ آپ بھی اس بات سے واقف ہوں گے کہ پاکستان عالمی جینڈر گیپ انڈیکس کے مطابق دنیا بھر کے ان ممالک میں نمایاں ہے جہاں جینڈر کی بنا پر استحصال بلندیوں پر ہے۔
سر۔ میں نے حال ہی میں ایک کتاب پڑھی جس کا عنوان ’بری عورت کی کتھا‘ ہے۔ یہ کشور ناہید کی کتاب ہے جو انھوں نے 1990 ’s میں اپنی زندگی اور کوششوں پر لکھی۔ اس کتاب میں پاکستان بننے سے چند سال پہلے کا منظر بھی کھینچا گیا ہے جب کشور صاحبہ ایک سات سالہ بچی تھیں۔ اس دوران خواتین سخت پردے کا اہتمام کرتی تھیں یہاں تک کہ ڈولیوں میں سفر کرتیں تو ساتھ کوئی پتھر رکھ دیا جاتا کہ ڈولی اٹھانے والا خاتون کے اصل وزن کا اندازہ نہ کر سکے۔
پاکستان جیسے جیسے بننے کے قریب آتا گیا اور یہاں تک کہ پاکستان بننے کے بعد بھی ابتدائی کچھ سالوں تک خواتین کی تحریکوں کو فروغ دیا گیا اور ان پر سے بہت سی ثقافتی و سماجی پابندیاں اٹھا لی گئیں اور جب مقاصد پورے ہوتے دکھائی دینے لگے آہستہ آہستہ سے خواتین کو پھر سے چار دیواری کی راہ دکھا کر یہ بتلایا گیا کہ تمہاری جگہ بس یہی ہے۔
کشور ناہید صاحبہ نے بہت احسن انداز میں بیان کیا ہے کہ کس طرح خواتین اور ان کے حقوق کو ایک ایسے اوزار کے طور پر استعمال کیا گیا ہے جو صرف کسی خاص صورت میں درکار ہو اور استعمال کے بعد پھینک دیا جائے۔
آپ بھی اس بات سے واقف ہوں گے کہ صدیوں سے ہر معاشرے میں خواتین نے پدرشاہی نظام میں استحصال سہا ہے۔ کچھ معاشرے خود کو ان زنجیروں سے رہا کروانے میں کافی حد تک کامیاب دکھائی دیتے ہیں جبکہ بہت سے ہمارے جیسے معاشرے یہ جنگ لڑنے کے لیے تیار ہی نہیں۔ اپنی تمام تر اخلاقیات کا بوجھ چونکہ عورت کی کمر پر ڈالا ہوا ہے سو انھیں لگتا ہے کہ اگر عورت سر اٹھا کر چلنے لگی تو ہمارے بوجھ کون اٹھائے گا؟ یہاں حیا اور وفا جیسی اقدار صرف عورت کے لئے ہیں اور مرد ان دونوں اقدار کی جب بھی دھجیاں بکھیر دے اس کو اس جملے سے بھاری ڈسکاؤنٹ ملتا ہے کہ
”مرد ایسا ہی ہوتا ہے“ ،
بے وفا اور بے حیا کیونکہ یہ حیا اور وفا تو صرف عورت کے گہنے ہیں اور مرد پر زیور حرام ہے۔
پاکستان میں میٹرک، انٹرمیڈیٹ اور یہاں تک کہ اعلیٰ تعلیم میں بھی بہت جگہوں پر لڑکیاں سبقت لے جاتی دکھائی دیتی ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ بہت ہی مثبت تبدیلیاں آ گئی ہیں مگر وہیں پروفیشنل زندگی کے دروازے ایک عورت پر بند ہیں۔ بہت کم ہونہار خواتین پورے جذبے کے ساتھ اپنا کریئر بنا پاتی ہیں۔ شادی یہاں پر عورت کی زندگی کا واحد مقصد ہے اور اس کے جیون ساتھی کو اس کے گھر والے اپنی مرضی سے ذات پات اور مذہب و فرقہ وغیرہ دیکھ کر چنتے ہیں اور پھر شادی کے کارڈ پر لکھوا بھیجتے ہیں کہ جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں۔
بہت سی لڑکیوں کی پڑھائی ہی اس وجہ سے کروائی جاتی ہے کہ رشتے کی مارکیٹ میں ریٹ اچھا لگ جائے۔ ایسے میں لڑکیوں کی شادی ہو جانے پر انھیں احساس دلایا جاتا ہے کہ شادی جو کہ تمہاری زندگی کا واحد مقصد ہے پورا ہو گیا سو اب ایک اچھی بیوی اور بچوں کی ماں بن کر خود کو پیچھے رکھ کر جینا ہی اصل جینا ہے۔ یہی تمہاری زندگی ہے۔
ہاں! اگر کام کرنا بھی چاہتی ہو اور گھر کے اخراجات بانٹ بھی رہی ہو تو پھر بھی ہر ایک کی خدمت تمہارا اولین فرض ہونا چاہیے ورنہ مجازی خدا کی ناراضگی خدا کی ناراضگی ہے۔ یوں بہت سی لڑکیاں جو بڑے خواب دیکھتی ہوں ان کے خواب دم توڑنے لگتے ہیں اور جو اپنے خوابوں کو کچھ آگے لے بھی جائیں تو کئی لوگوں کی خدمت جو ان کا فرض بنا دی گئی ہے وہ ہمیشہ ان کے لیے مختلف مسائل پیدا کرتی ہے۔ عورت مرد کی طرح اگر معاشی ذمہ داری اٹھا بھی رہی ہو تب بھی وہ کم تر ہی سمجھی جاتی ہے۔ ایسے سماج میں لڑکیوں کا خوابوں سے تعلق دکھائی نہیں دیتا وہ کٹھ پتلیاں ہوتی ہیں جنہیں قسمت بنانا سکھایا ہی نہیں جاتا بلکہ ان کو نصیب کے آسرے پر رہنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔
کشور ناہید جیسی فرسودہ نظام سے لڑنے والی عورت جو مشکل سوال کرتی ہو، بڑے خواب دیکھتی ہو اور اپنے قلم سے ہر سو شعور بیدار کرنے کی کوشش کرتی ہو تو وہ ’بری عورت‘ ہی کہلائی جاتی ہے۔ شاید اسی وجہ سے کشور ناہید نے اپنی زندگی پر لکھی ہوئی کتاب میں خود کو بری عورت کہا کیونکہ ہمارے معاشرے میں ایسے خصائل ایک عورت کو زیب نہیں دیتے۔ حیرت مجھے اس بات کی ہے کہ یہ کتھا کچھ دہائیاں پہلے کی ہے مگر آج بھی پاکستان میں خواتین کے حالات اچھے نہیں۔ آج بھی آواز اٹھانے والی عورتیں بری عورتیں ہی ہیں!


