EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

کووڈ 19 کی ابتدا کا پتا نہ لگا پائے ’تو ایسا دوبارہ بھی ہو سکتا ہے‘

وکٹوریا گل - سائنسی نامہ نگار، بی بی سی نیوز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


کووڈ 19

Reuters

کووڈ 19 کی عالمی وبا اب تک 40 لاکھ لوگوں کی جانیں لے چکی ہے اور اس وبا کے آغاز کے بارے میں سائنسی تحقیقات خود متنازع ہوتی جا رہی ہیں۔

حالانکہ یہ وبا اب ہر جگہ موجود ہے لیکن اس کے باوجود یہ مرض صرف 18 ماہ پرانا ہے۔ اور اس کی ابتدا کے بارے میں تحقیقات عالمی ادارہ صحت کی ٹیم نے سنہ 2020 میں شروع کی تھیں۔

تحقیقات کے نتائج پر موجود سوالات ایک شدید سیاسی بحث میں بدل چکے ہیں۔

اس وبا کے آغاز پر تحقیق کرنے والے کچھ سائنسدانوں پر سازش اور حقائق چھپانے کا الزام لگایا گیا ہے تاہم ابھی تک اس حوالے سے ثبوت مہیا نہیں کیے گئے ہیں۔

تاہم اب 21 محققین اس حوالے سے حقائق کی درستی کرتے ہوئے یہ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ چمگادڑوں سے شروع ہونے والا یہ وائرس انسانوں میں کیسے منتقل ہوا۔

گلاسگو یونیورسٹی کے وائرولوجسٹ پروفیسر ڈیوڈ رابرٹسن کا کہنا ہے کہ ‘یہ کہنا سچ نہیں ہوگا کہ ہمیں نہیں معلوم یہ وائرس کہاں سے آیا ہے۔ ہمیں بس یہ معلوم نہیں ہے کہ یہ انسانوں میں کیسے منتقل ہوا۔’

یہ بات وسیع پیمانے پر قبول کی جاتی ہے کہ یہ وائرس جنگلی چمگادڑوں میں بے ضرر انداز میں پھرتے رہنے کے بعد انسانوں میں منتقل ہوا مگر یہ جاننا بہت اہم ہے کہ کیسے، کہاں اور کب ایسا ہوا تاکہ مستقبل میں ایسی وباؤں کو روکا جا سکے۔

اس حوالے سے کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں ہیں۔ کوئی کووڈ پازیٹیو چمگادڑ نہیں پایا گیا ہے اور نہ ہی کوئی ‘پہلا’ انسان ہمارے علم میں ہے جو اس مرض سے متاثر ہوا ہو۔

کووڈ 19

Science Photo Library

ایسا شاید کبھی نہ ہو مگر اس رپورٹ کے مصنف سائنسدان دستیاب ثبوتوں کی وضاحت کرنا اور اس کے مطالب پر روشنی ڈالنا چاہتے ہیں۔

اُنھوں نے اپنی تحقیق کا اولین مسودہ شائع کر دیا ہے جس کا ابھی تک دیگر ماہرین نے جائزہ نہیں لیا ہے۔ اور پروفیسر رابرٹسن کے مطابق اس کا اہم نتیجہ یہ ہے کہ اس وائرس کی حیاتیاتی خصوصیات چمگادڑوں میں موجود دیگر وائرسز سے ملتی جلتی ہیں۔

اُنھوں نے کہا یہ کہ عالمی وبا سنہ 2003 میں پہلی سارس وبا جیسی ہی لگتی ہے۔

اس موقع پر وائرس کو عام فروخت ہونے والے جانور پام سیویٹ میں پایا گیا تھا۔ اگلے چند برس میں سائنسدانوں نے چمگادڑوں میں اس سے بہت قریبی ملتے جلتے وائرسز دریافت کیے اور سنہ 2017 میں سارس وبا کا ایک جد ہارس شو چمگادڑوں میں پایا گیا تھا۔

اس وبا کو بالآخر اسی جانور سے منسلک کر لیا گیا جہاں سے آئی تھی۔ مگر پروفیسر رابرٹسن کے مطابق کوڈ کے بارے میں فرق یہ ہے کہ ہمیں بیچ کی نوع اب تک نہیں ملی ہے۔

‘مگر چمگادڑ وائرس کی کڑی اور زندہ جانور فروخت کرنے والی مارکیٹ سے تعلق، دونوں ہی موجود ہیں۔’

کئی سائنسدانوں کا اتفاق ہے کہ پرہجوم اور صفائی کے ناقص انتظامات والے ایسے بازار جہاں زندہ جانور فروخت کیے جاتے ہیں، جانوروں سے انسانوں میں بیماریوں کے لیے زبردست ماحول فراہم کرتے ہیں۔ اور وبا کے آغاز سے پہلے کے 18 مہینوں میں ایک تحقیق کے مطابق ووہان کے بازاروں میں 38 مختلف انواع سے تعلق رکھنے والے 50 ہزار کے قریب جانور فروخت کیے گئے تھے۔

محققین کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر اس حیوانی تجارت سے منسلک ایک قدرتی منتقلی ہی وائرس کی ابتدا کی سب سے معقول تصویر ہے۔

ووہان کا دورہ کرنے والی عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی ٹیم بھی کوئی ایک سال قبل اسی نتیجے پر پہنچی تھی۔ مگر اس ٹیم کی جانب سے وائرس کے حادثاتی طور پر لیبارٹری سے لیک ہونے کے امکان کو رد کیے جانے پر کچھ سائنسدانوں نے اعتراض اٹھایا تھا۔

الزام ووہان انسٹیٹیوٹ آف وائرولوجی پر لگایا جا رہا ہے جہاں ایک دہائی سے بھی زیادہ عرصے سے چمگادڑوں میں کورونا وائرسز کی موجودگی پر تحقیق ہو رہی ہے۔

کووڈ 19

Reuters

نئی رپورٹ کے محققین اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ان میں سے کوئی بھی کووڈ 19 نہ ہی بنا اور نہ ہی اسے بنایا جا سکتا تھا۔ مگر کچھ سائنسدان کُلی طور پر اس نتیجے کو تسلیم نہیں کرتے۔

ان سائنسدانوں میں امریکہ کی سٹینفرڈ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈیوڈ ریلمین بھی ہیں۔

اُنھوں نے بی بی سی نیوز کو بتایا: ‘میں اس نئی رپورٹ کو ایک ایسی دانستہ کوشش کے طور پر دیکھتا ہوں جس کا مقصد تمام ممکنہ معلومات کو ایک نہایت زبردست مفروضے کے حق میں موڑ دینا ہے، یعنی قدرتی طور پر وائرس کی منتقلی۔ مگر یہ رپورٹ متوازن اور معروضی نہیں ہے۔’

یہ بھی پڑھیے

وہ موقع جب پاکستانیوں نے واقعی دل سے انڈیا کا ساتھ دیا اور دعائیں کیں

کووڈ 19 کی مختلف قسمیں کس حد تک خطرناک ہو سکتی ہیں؟

کووڈ 19 کی ویکسین سے متعلق خدشات میں کتنا سچ کتنا جھوٹ؟

پروفیسر ریلمن مشہور سائنسی جریدے سائنس کو لکھے گئے خط کے لکھاریوں میں سے ہیں جس میں سینیئر سائنسدانوں نے عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے نتائج پر سوالات اٹھاتے ہوئے لیب لیک تھیوری پر مزید تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔

سائنسدان اکثر ایک دوسرے سے عدم اتفاق کرتے ہیں اور یہ سائنسی مرحلے کا ایک حصہ ہے۔ اور ثبوتوں پر مبنی آراء کی سائنسی جریدوں میں اشاعت ہی ثبوتوں پر مبنی اختلافِ رائے کا ایک مؤثر پلیٹ فارم ہے۔

مگر جانوروں سے انسان میں منتقلی یا پھر لیب سے لیک ہونے کی بحث اب سائنسی اختلافِ رائے سے آگے بڑھ چکی ہے۔

فروری 2020 میں عالمی ادارہ صحت کی ٹیم کی سربراہی کرنے والے پیٹر ڈیسزک پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ لیبارٹری سے لیک ہونے کے متعلق بحث کو خاموش کروانے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ اُنھوں نے 26 دیگر لکھاریوں کے ساتھ مل کر لینسیٹ میڈیکل جرنل میں ایک بیان شائع کروایا تھا جس میں کہا گیا: ‘ہم متحد ہو کر ان سازشی مفروضوں کی مذمت کرتے ہیں جن کے مطابق کووڈ 19 کا آغاز قدرتی طور پر نہیں ہوا۔’

اور کئی سائنسدانوں نے اُن معلومات پر بھروسہ نہیں کیا جو چینی حکام نے عالمی ادارہ صحت کی تحقیقاتی ٹیم کو فراہم کی تھیں۔

اس کے ایک سال بعد امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنی انٹیلیجنس ایجنسی کو حکم دیا کہ وہ کووڈ 19 کے آغاز کے متعلق تحقیقات کو ‘دوگنا’ تیز کر دیں بشمول اس نظریے کے کہ یہ لیبارٹری سے لیک ہوا ہے۔

کووڈ 19

EPA

اسی دوران کچھ سائنسدان جنھوں نے عوامی سطح پر لیبارٹری سے لیک ہونے کے مفروضے کو رد کیا تھا، وہ تنقید کی زد میں آنے لگے، بالخصوص سوشل میڈیا پر۔

ایک سائنسدان جنھوں نے وبا کے آغاز سے اب تک اس وائرس کے ارتقائی مراحل پر کام کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ ثبوت قدرتی طور پر جانوروں سے انسانوں میں منتقلی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ اُنھیں اس قدر نفرت کا نشانہ بنایا گیا کہ اُنھوں نے ریسرچ کا شعبہ چھوڑ دینے تک پر بھی غور کیا تھا۔

وہ محقق نام نہیں بتانا چاہتے کیونکہ اُنھیں خدشہ ہے کہ اُنھیں مزید ہراساں کیا جائے گا۔ اُنھوں نے کہا: ‘میرے ای میل ہیک کیے گئے، مجھے پھنسانے کی کوششیں کرنے کے لیے ای میلز بھیجی گئیں، یہ دعوے کیے گئے کہ میں نے ڈیٹا اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے اور یہ کہ میں سازش پر منظم انداز میں پردہ ڈالنے کا حصہ ہوں۔ کچھ لوگوں کو اس سے بھی کہیں زیادہ نفرت ملی ہے۔ اس سب کا آپ پر اثر ہوتا ہے اور آپ اپنی قدر پر سوالات اٹھانے لگتے ہیں۔’

ویسے تو اس بحث نے گذشتہ ایک سال میں شدت اختیار کی ہے تاہم لیبارٹری سے لیک ہونے کے مفروضے کے حق میں کوئی نئے ثبوت سامنے نہیں آئے ہیں۔

اور اہم بات یہ ہے کہ تقریباً تمام سائنسدانوں کا اتفاق ہے کہ اس وائرس کی ابتدا کے بارے میں تیز تر تحقیق بہت اہمیت رکھتی ہے۔

پروفیسر ریلمن کہتے ہیں: ‘جس چیز کی ہمیں ابھی ضرورت نہیں، وہ یہ کہ سائنسدان نئے، ٹھوس ڈیٹا کی عدم موجودگی میں اپنی پسندیدہ توجیہہ پر اصرار کریں۔’

‘سارس کوو 2 کسی جانور میں نہیں پایا گیا ہے۔ اس لیے اس مسئلے کو ٹھنڈا کریں اور مناسب تحقیق کا مطالبہ کریں۔’

کنگز کالج لندن کے پروفیسر سٹورٹ نیل اس نئی رپورٹ کے شریک مصنف ہیں۔ وہ نشاندہی کرتے ہیں کہ ان مطالبوں سے لازم نہیں کہ ایسا نتیجہ نکلے جس کی سب کو تلاش ہے۔

‘ہمیں چینی حکام کے تعاون کی ضرورت ہوگی۔ اور اُنھیں اس حوالے سے کہیں زیادہ صاف گو ہونا پڑے گا کہ وہ 2019 کے اختتامی دور میں ووہان میں وبا کے آغاز کے بارے میں کیا جانتے ہیں۔’

‘صرف اسی سے یہ واضح ہو پائے گا کہ وائرس ووہان میں کیسے پہنچا اور اس سے پہلے یہ کہاں تھا۔ یہ 20 برس میں چین میں چمگادڑوں سے انسانوں میں پہنچنے والا دوسرا بڑا کورونا وائرس ہے اور اگر ہم اس مسئلے کو سلجھا نہیں پائے تو ایسا دوبارہ ہو سکتا ہے۔’

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 19976 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp