EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

علما کی حفاظت کا معقول بندوبست ناگزیر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ا

کراچی کے علاقے گلستان جوہر کے رہائشی 35 سالہ عاصم لئیق نامی شخص نے 8 جولائی 2021 بروز جمعرات فجر کی نماز کے بعد مفتی تقی عثمانی صاحب سے تنہائی میں ملاقات کی اجازت چاہی، اس شخص نے کہا کہ وہ گھریلو جھگڑوں سے پریشان ہو کر دعا کرانے آیا ہے، مفتی تقی عثمانی صاحب کے آڈیو پیغام کے مطابق ابھی وہ اٹھے ہی تھے اس شخص سے بات کرنے کے لیے، جیسے ہی قریب ہوئے، اتنے میں اس شخص نے اپنے جیب سے چاقو نکالا، لیکن پاس موجود ساتھیوں نے اسے پکڑ لیا۔

ایک روایت جس کی نسبت دارالعلوم کراچی کے استاذ مولانا اعجاز احمد صمدانی صاحب کی طرف کی گئی ہے، ان کے مطابق واقعہ کچھ اس طرح سے پیش آیا: ”فجر کی نماز کے بعد حضرت شیخ الاسلام مفتی تقی صاحب مسجد میں تشریف رکھتے تھے اور میں بھی وہیں موجود تھا تو ایک آدمی جس کے ہاتھ میں ایک شاپنگ بیگ تھا وہ آیا اور حضرت سے سرگوشی کرنے لگا، جس میں وہ حضرت سے الگ ملاقات کے لئے وقت کا مطالبہ کر رہا تھا، جس کے جواب میں حضرت نے فرمایا کہ اگر آپ نے ملاقات کرنی ہے تو ظہر کے بعد تشریف لے آئیں، جواباً اس شخص نے اصرار کرتے ہوئے کہا کہ میں بہت دور سے آیا ہوں، ابھی وقت دے دیجیے، جس پر حضرت نے فرمایا کہ بھئی ملاقات کے لئے آنے سے پہلے اطلاع اور وقت تو طے کیا جاتا ہے، ایسے کیسے ملاقات کر لی جائے، جس کے بعد وہ شخص پیچھے ہٹا تو سیکورٹی گارڈ نے اس کے ہاتھ میں موجود کھلے چاقو کو بند ہوتے ہوئے دیکھ لیا اور اسے گرفتار کر لیا گیا، حضرت فوراً گھر تشریف لے گئے جبکہ اس مشتبہ شخص کو دارالعلوم سے باہر چھوڑ آنے کا فرمایا، لیکن سیکورٹی نے فوراً پولیس کے حوالے کر دیا، جہاں تفتیش جاری ہے کہ اس شخص کا آخر کیا مقصد تھا، کہ وہ چاقو کھول کر شیخ الاسلام صاحب سے علیحدگی میں ملنے پر اصرار کرتا رہا، باقی باقاعدہ کوئی حملہ نہیں کیا گیا، جس طرح سوشل میڈیا پر تاثر دیا جا رہا ہے“

جبکہ عاصم لئیق نامی شخص نے اپنے بیان میں کہا کہ جب مفتی صاحب نے ملاقات کرنے سے معذرت کر لی تو جاتے ہوئے میرے ذہن میں آیا کی مفتی صاحب کو چاکلیٹ گفٹ کر دوں، یہ میں اپنی بیوی کے لیے لایا تھا، لیکن مفتی صاحب نے انکار کر دیا، اس کے بعد میں نے سوچا کہ اپنا چاقو مفتی صاحب کو گفٹ کر دوں، جیسے ہی میں نے جیب سے نکالا تو وہ غلطی سے کھل گیا، جس پر سکیورٹی گارڈ نے فوراً وہ چاقو لے کر مجھے حراست میں لے لیا۔

ایک روایت یہ بھی ملی کہ یہ شخص ذہنی مریض ہے، لیکن جن لوگوں کو زندگی کے کسی موڑ پر دارالعلوم کراچی کی مسجد میں نماز فجر ادا کرنے کا موقع ملا ہو وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہاں گاؤں کی مسجد کی طرح دو چار بندے نہیں، بلکہ نمازیوں کا ایک پر کشش ہجوم ہوتا ہے، مجھے حیرت ہے کہ اس قدر ہجوم میں اس ذہنی مریض نے کسی دوسرے انسان کے بجائے عالم اسلام کی ایک عظیم ہستی مفتی تقی عثمانی صاحب ہی کا انتخاب کیسے کر لیا؟

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا یہ حملہ کی کوئی منصوبہ بندی تھی یا نہیں؟ شفاف تفتیش سے قبل اس بارے کوئی حتمی رائے قائم نہیں کی جا سکتی اس کا نتیجہ شفاف تفتیش کی صورت میں ہی سامنے آ سکتا ہے۔ لیکن اگر بالفرض یہ مفتی تقی صاحب پر حملہ کی ایک منظم کوشش تھی تو یاد رہے یہ پہلا حملہ نہیں، بلکہ اس سے قبل بھی 22 مارچ 2019 بروز جمعہ مفتی تقی عثمانی صاحب پر قاتلانہ حملہ کیا گیا تھا، جس میں دو افراد زخمی اور ان کے سکیورٹی گارڈ اور ڈرائیور کی شہادت ہوئی۔

اس واقعہ میں بھی اسلام دشمن عناصر کچھ قیمتی جانیں لینے میں کامیاب ہو گئے، لیکن جو ان کا اصلی ٹارگٹ تھا خدا نے ان کو اپنی حفاظت میں رکھا۔ یوں دن بیت گئے اور 8 جولائی 2021 بروز جمعرات بعد از نماز فجر ایک دفعہ پھر ایسی ہی خبریں سننے کو ملی۔ یہ بھی یاد رہے کہ اس سے قبل 10 اکتوبر 2020 کو کراچی میں جامعہ فاروقیہ کے مہتمم و شیخ الحدیث مولانا ڈاکٹر عادل خان کو قاتلانہ حملے میں شہید کر دیا گیا تھا۔

مفتی تقی عثمانی صاحب معروف و مشہور شخصیت ہیں، جامعہ دارالعلوم کراچی کے نائب صدر ہیں، سابق چیف جسٹس، ایک امن پسند شخصیت ہیں، علم کا سمندر، تقوی کا پیکر، اسلام دشمن عناصر کی آنکھوں میں اٹکنے والے، ایک دلیر اور پارسا انسان ہیں، اسلام اور پاکستان کا دفاع کرنے والے ہیں، ان جیسی پر امن شخصیت پر قاتلانہ حملہ سوائے اسلام مخالف اور امن دشمن عناصر کے علاوہ کون کر سکتا ہے؟

المیہ یہ ہے کہ ہر ایسے واقعہ کے بعد وقتی طور پر تفتیشی مشینری متحرک ہو جاتی ہے، ملکی سیاسی و انتظامی شخصیات رسمی حال احوال و مذمت کرتے دکھائی دیتے ہیں، اور اس کے بعد کسی اگلے سانحہ تک طویل سناٹا چھا جاتا ہے، لیکن اب حکومت پاکستان سے التماس ہے کہ کہ خدارا جو لوگ ان چراغوں کو بجھانے کے در پے ہیں ان کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے، جید علماء کرام، نا صرف اسلام بلکہ پاکستان کا بھی عظیم اثاثہ ہیں، ان عظیم معماروں کی جان، مال عزت آبرو کی حفاظت کا معقول بندو بست اب ناگزیر ہے، ان کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہے۔ اسی تناظر میں عاصم لئیق نامی اس شخص کے متعلق شفاف تفتیش کی جائے، تاکہ حقیقت کھل کر سامنے آ سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے