EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

انڈیا میں ‘حقیقی انڈین ہونے کے لیے ہندو ہونا لازمی ہے‘

سوتک بسواس - بی بی سی نیوز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


India religion

AFP
Hindus make up 80% of India’s population

انڈیا میں 64 فیصد ہندوؤں کا ماننا ہے کہ ایک حقیقی انڈین ہونے کے لیے ہندو ہونا لازمی ہے۔ یہ نتائج امریکی ادارے پیو ریسرچ سنٹر کے ایک تازہ ترین سروے میں انڈیا میں مذہب اور قومیت کے حوالے سے کی گئی تحقیق میں سامنے آئے ہیں۔

اسی سروے میں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ دو تہائی ہندو بین المذاہب شادیاں روکنا چاہتے ہیں۔ انڈیا میں مسلمانوں میں یہ تناسب اور بھی زیادہ ہے۔ تاہم اس سروے کی شاید سب سے زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ کم از کم 36 فیصد ہندو نہیں چاہتے کہ ان کا ہمسایہ مسلمان ہو۔

پیو ریسرچ سنٹر کی اس تحقیق میں 30000 شہریوں سے بات کی گئی جس میں 17 زبانوں کی مدد سے سروے کیا گیا۔

انڈیا کی آبادی میں 80 فیصد ہندو ہیں، جبکہ 14 فیصد مسلمان ہیں۔ اس تحقیق میں 84 فیصد لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ دوسرے مذاہب کے لیے احترام بھی انڈین شناخت کا اہم حصہ ہے۔

تاہم بہت سے انڈین شہری مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے کے باوجود بہت سے خیالات میں مماثلت رکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر 81 فیصد ہندوؤں کا ماننا ہے کہ دریائے گنگا میں انسان کو پاک کر دینے کے صلاحیت ہے۔ مگر 66 فیصد جین بھی یہی مانتے ہیں۔

اس کے علاوہ مسیحی برادری کا ایک تہائی اور مسلمانوں کا ایک چوتھائی بھی اس سے اتفاق کرتے ہیں۔ اسی طرح کارمہ یعنی یہ یقین کہ آپ کے اعمال کے نتائج ہوتے ہیں، اس میں 77 فیصد ہندو اور 77 فیصد مسلمان یقین رکھتے ہیں۔ 54 فیصد مسیحی لوگ بھی اس سے متفق ہیں۔

کئی برسوں سے معاشروں کو ملٹنگ پوٹ یعنی جس دیگچی میں سب گھل مل گیا ہو، یا پھر سلاد جس میں اجزا تو بہت سے ہوتے ہیں مگر ہر جز علیحدہ پڑا ہوتا ہے، ان دونوں کی مدد سے تشبیہ دی جاتی ہے۔

ملٹنگ پوٹ ان معاشروں کو کہا جاتا ہے جہاں آنے والے لوگوں کو رائج ثقافت قبول کرنا پڑتی ہے۔ سلاد ان معاشروں کو کہا جاتا ہے جہاں آنے والے نئے مہاجرین اپنی شناخت خود قائم رکھ پاتے ہیں۔ تاہم اس تحقیق نے انڈیا میں معاشرے کو نہ تو ملٹنگ پاٹ نہ سلاد کا پیالہ ہی قرار دیا ہے۔

اس تحقیق میں انڈیا میں ہر مذہب کے شہری مذہبی رواداری اور مذہبی بنیادوں پر امتیاز، دونوں ہی کے حامی ہیں۔ اس تحقیق کی ایک محقق نیہا سیگل کہتی ہیں کہ ‘یہ انڈیا میں معاشرے کی ایک نایاب سمجھ کی جانب اشارہ کرتی ہے۔ اسے آپ انڈین تھالی تصور کریں۔‘


Holi festival of Hindus

Getty Images

بہت سے لوگوں کا ماننا ہے کہ انڈیا کے بانیوں کی کوشش تھی کہ ملک ایک سلاد کی پلیٹ کی طرح ہو جہاں قومی شناخت کئی اقسام کی شناخت کو تسلیم کرے اور اسے قائم رہنے دے۔

تو کیا ان کا یہ خواب پورا نہیں ہوا اور انڈیا ایک پیچیدہ ریاست نکلی ہے جہاں کئی مذاہب اور ثقافتوں کے لوگ اکھٹے مگر علیحدہ رہتے ہیں؟

اسی تحقیق کے ایک اور محقق جوناتھن ایونز کہتے ہیں کہ ’عوامی رائے میں یہ ممکن ہے کہ لوگوں کے آپس میں متضاد خالات ہوں۔ مثال کے طور پر 2019 میں پیو کی ایک تحقیق میں مغربی یورپ کے ممالک میں جو لوگ مسیحی تھے، چاہے وہ چرچ جاتے تھے یا نہیں، ان کے اقلیتوں سے نفرت کرنے کے امکانات زیادہ تھے۔

یہ بات مسیحی تعلیمات جیسے اپنے ہمسائے سے پیار کرو کے بالکل خلاف ہے۔ اس چیز کو یورپیوں کی مشرقِ وسطیٰ سے آنے والے تارکینِ وطن کو قبول نہ کرنے کی پالیسی کی جھلک بھی کہا گیا۔

Indian idols

AFP
India is a deeply religious country

مگر انڈیا میں کچھ باتیں انتہائی غیر عمومی تھیں۔ صرف 58 فیصد لوگوں نے کہا کہ وہ ایک مسلمان ہمسائے کو قبول کریں گے۔

اگرچہ دیگر ممالک میں بھی مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک ہوتا ہے مگر وہاں بہت زیادہ لوگ مسلمان ہمسائے قبول کرنے کو تیار ہوتے ہیں۔ اٹلی میں 65 فیصد، برطانیہ میں 78 فیصد، فرانس میں 85 فیصد اور امریکہ میں 89 فیصد۔ مغربی یورپ میں لوگ اس بات پر بھی منقسم تھے کہ اسلام ان کے ملک کی ثقافت اور اقدار کے منافی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کیا انڈیا صرف ہندوؤں کا ہے؟

’لنچنگ ملک اور ہندو سماج کو بدنام کرنے کی سازش‘

انڈیا میں ’محبت کے اصول‘ توڑنے والوں کے لیے نیا قانون باعثِ خطرہ

یہ بات حیران کن بالکل نہیں ہے کہ جن لوگوں نے وزیراعظم مودی کو ووٹ دیا تھا ان میں یہ امکان زیادہ ہے کہ وہ اس بات پر یقین رکھتے ہوں کہ ایک سچا انڈین ہونے کے لیے آپ کو ہندی زبان بولنا اور ہندو ہونا اہم ہے۔ مگر کیا ان خیالات کی وجہ سے اقلیتوں کے ساتھ برا سلوک ہوتا ہے؟

Delhi riots 2020

AFP
More than 40 people died when clashes broke out between Hindus and Muslims in Delhi in 2019

سروے کے مطابق کسی بھی دین سے تعلق رکھنے والے ایک چوتھائی لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔ ہر پانچ میں سے ایک مسلمان کا کہنا ہے کہ انھیں مذہبی امتیاز کا بھی سامنا رہا ہے۔

اور ہر مذہب کے 65 فیصد افراد نے کہا کہ مذہبی فسادات ایک بڑا مسئلہ ہے۔ صرف کرپشن اور خواتین کے خلاف تشدد اس سے زیادہ تصور کیے جاتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 19934 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp