کیا پاکستان کابل پر طالبان کی حکومت چاہتا ہے؟

افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے ساتھ ہی طالبان نے مختلف علاقوں پر قبضہ کرنے کی سرگرمیاں تیز کردی تھیں۔ گزشتہ روز افغان طالبان کے ایک ترجمان نے دعویٰ کیا تھا کہ ملک کے 85 فیصد رقبے پر اب ان کا قبضہ ہے۔ تاہم پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل افتخار بابر نے ایک ٹی وی انٹرویو میں اس دعوے کو مبالغہ آمیز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ شاید پنتالیس سے پچاس فیصد علاقہ طالبان کے زیر کنٹرول ہے۔

انہوں نے واضح کیا افغان نیشنل آرمی ایک طاقت ور فورس ہے جس کے پاس فضائیہ بھی ہے۔ دیکھنا ہوگا کہ افغان فوج طالبان کی عسکری پیش رفت پر کیا حکمت عملی اختیار کرتی ہے۔ آئی ایس پی آر کے سربراہ کے اس محتاط تبصرہ کے باوجود ان قیاس آرائیوں کو نظر انداز نہیں کیاجاسکتا کہ طالبان امریکی و اتحادی افواج کا انخلا مکمل ہونے کے بعد کابل کی طرف چڑھائی کریں گے اور طاقت کے زور پر دارالحکومت پر قبضہ کرکے اپنی حکومت کے قیام کا اعلان کریں گے۔ پاکستان کے وزیر اعظم کے علاوہ فوج کے ترجمان نے بھی طاقت کے زور پر قائم ہونے والی کسی حکومت کے خیال کو مسترد کیا ہے۔ پاکستانی لیڈروں کا کہنا ہے کہ افغانستان میں امن کے لئے ضروری ہے کہ وہاں باہمی افہام تفہیم سے مستقبل کے حکومتی ڈھانچے کا انتظام کیا جائے۔ ان بیانات کے باوجود پاکستانی حکام کی طرف سے ایسے اشارے بھی دیے گئے ہیں جن سے طالبان کی ہمدردی و حمایت کا تاثر قوی ہوتا ہے۔ پاکستان کی وزارت خارجہ مذاکرات میں تعطل کی ذمہ داری سب فریقین پر ڈالنے کی بجائے بین الافغان مکالمہ میں سست پیش رفت کا ذمہ دار افغان حکومت اور افغانستان میں امن تباہ کرنے والے عناصر پر عائد کرتی ہے۔ ان عناصر میں پاکستان خاص طور سے بھارت کی طرف اشارہ کرتا ہے جو اسلام آباد کے خیال میں افغانستان میں امن کا خواہاں نہیں ہے۔

اس بات کا کوئی دوٹوک جواب تو موجود نہیں کہ بھارت آخر کیوں افغانستان میں امن کا خواہا ں نہیں البتہ یہ دیکھا جاسکتا ہے کہ بھارت کا جھکاؤ کابل میں اشرف غنی کی حکومت کی طرف ہے اور طالبان کے ساتھ اس کے تعلقات غیر واضح ہیں۔ حال ہی میں بھارتی وزیر خارجہ جے شنکرنے دوحہ میں طالبان لیڈروں سے ملاقات کی ہے۔ پاکستان کے مشیر برائے قومی سلامتی معید یوسف نے اس ملاقات پر شدید نکتہ چینی کی تھی اور کہا تھا کہ جس گروہ کے خلاف بھارت دوسرے عسکری گروہ تیار کرتا رہا ہے اب اس سے روابط بڑھانے کی کوشش شرمناک ہے۔ معید یوسف کا یہ بھی قیاس تھا کہ یہ ملاقات کامیاب نہیں ہوئی اور بھارتی وزیر خارجہ کو دوحہ سے خالی ہاتھ لوٹنا پڑا ہے۔ پاکستان کے اہم ترین عہدیدار کے اس بیان سے اگر بھارت اور طالبان کے تعلقات کی اصل نوعیت کا اندازہ نہ بھی کیا جاسکے پھر بھی یہ تو جانا جاسکتا ہے کہ پاکستان کو ایسے رابطوں پر شدید بے چینی ہے۔ حالانکہ پاکستان اس بات کا کریڈٹ لیتا ہے کہ اس نے ہمیشہ افغانستان میں مفاہمانہ حکمت عملی کی بات کی تھی جس کی وجہ سے امریکہ کو بالآخر طالبان کے ساتھ مذاکرات پر آمادہ ہونا پڑا اور اب غیر ملکی افواج 20 برس بعد افغانستان سے نکل رہی ہیں۔ اس صورت میں اگر امریکہ اور دیگر طاقتوں کا طالبان کو افغانستان کی اہم قوت سمجھتے ہوئے ان کے ساتھ رابطے استوار کرنا اہم ہے تو بھارت کی طرف سے ایسی ہی پیش رفت پر پاکستان کو کیوں پریشانی ہے؟ اس سوال کا واضح جواب تو دستیاب نہیں ہے لیکن اسے طالبان کے ساتھ پاکستانی عسکری حلقوں کے طویل اور پر اسرار تعلقات کے پس منظر میں سمجھنے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔

گزشتہ روز ایک پاکستانی ٹیلی ویژن چینل کو دیے گئے انٹرویو میں پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل بابر افتخار نے اس حوالے سے دو دلچسپ اشارے دیے ہیں۔ ایک تو انہوں نے کہا کہ افغانستان میں ’بھارت کی سرمایہ کاری ڈوب رہی ہے‘۔ اس پر بھارت کی پریشانی سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے بدنیتی سے یہ سرمایہ کاری کی تھی تاکہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کیا جاسکے۔ میجر جنرل بابر افتخار کا یہ اشارہ غالباً مغربی افغانستان میں بھارتی سرمایے سے تعمیر کئے گئے سلما ڈیم پر طالبان کے قبضہ کی روشنی میں دیا گیا تھا۔ اس ڈیم پر 300 ملین ڈالر لاگت آئی تھی جسے بھارت نے فراہم کیاتھا۔ اس ڈیم کو افغان انڈیا دوستی منصوبہ کانام دیا گیا تھا۔ اس ڈیم سے ہرات کے علاقے میں کئی لاکھ ایکڑ اراضی کو سیراب کرنے کے لئے پانی دستیاب ہوتا ہے اس کے علاوہ اس علاقے کی وسیع آبادی کو پینے کا پانی بھی فراہم کیا جاتا ہے۔ افغان عوام کے لئے سہولتیں فراہم کرنے والے ایک منصوبہ کو آخر پاکستان کیوں اپنے خلاف بھارتی سازش یا بدنیتی سمجھتا ہے؟ اس کی واحد دلیل شاید یہی ہوسکتی ہے کہ پاکستان نے گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران بھارت کے مقابلہ میں افغانستان کو ’تزویراتی گہرائی‘ قرار دیتے ہوئے وہاں تعلقات استوار کئے ہیں۔ بھارتی سرمایہ کاری اس پاکستانی خواہش کی راہ میں رکاوٹ بنی ہے۔ اب طالبان بھارتی منصوبوں پر قبضہ کررہے ہیں تو پاکستان بھارتی سرمایہ کاری ڈوبنے پر مسرت کا اظہارکررہا ہے۔

میجر جنرل بابر افتخار کے انٹرویو میں دوسرا اشارہ طالبان کی عسکری فتح اور طاقت کےزور پر حکومت قائم کرنے کے حوالے سے تھا۔ انہوں نے اگرچہ افغان فوج کی صلاحیت اور موجودگی کا اعتراف کیا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا ہے کہ اگر طالبان طاقت کے زور پر کابل پر قبضہ کرتے ہیں تو یہ افغان عوام کی تائید و حمایت کی صورت میں ہی ممکن ہوگا۔ اس بیان سے یہ تو ثابت نہیں ہوتا کہ کسی عسکری قوت کی کامیابی سے اس کی عوامی قبولیت کا اندازہ کیسے کیا جاسکتا ہے لیکن اس سے یہ نتیجہ ضرور اخذ کیا جاسکتا ہے کہ پاکستان کو ایسی کسی پیش رفت پر کوئی پریشانی نہیں ہوگی بلکہ وہ اسے شاید افغان امن اور عوام کے لئے خوش آئیند پیش قدمی سمجھے گا۔ پاک فوج کے ترجمان کے اس تبصرہ کو دو روز قبل وائس آف امریکہ کو قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف کے بیان کی روشنی میں بھی پرکھا جاسکتا ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر طالبان طاقت کے زور پر کابل پر قابض ہوگئے تو پاکستان کا رد عمل کیا ہوگا؟ اس پر معید یوسف کا کہنا تھا کہ وہ اس کا فوری جواب نہیں دے سکتے۔ وقت آنے پر اس کا جواب دیا جائے گا۔ یعنی پاکستان اس خیال کو مسترد نہیں کرتا کہ طالبان عسکری قوت کی بنیاد پر کابل پر قبضہ کرکے اپنی حکومت قائم کرسکتے ہیں لیکن وہ کھل کر اس خیال کی حمایت کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔

پاکستان کو افغانستان میں بھارت کے اثر و رسوخ سے سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ وہ افغانستان کی سرزمین پر بلوچستان کے علیحدگی پسندوں کو توانائی فراہم کرتا رہے گا۔ اس طرح بلوچستان میں بدامنی اور انتشار کا موجب بنے گا۔ پاکستان کا خیال ہے کہ طالبان کی حکومت میں بھارت کا ایسا کردار محدود ہوجائے گا۔ افغان حکومت و اسٹبلشمنٹ کے ساتھ بھی پاکستان کی اصل لڑائی اس کے بھارت کی جانب جھکاؤ ہی کی وجہ سے ہے۔ کیا بھارت نئی افغان صورت حال میں وہاں سے بوریا بستر لپیٹ لے گا؟ اس سوال کا جواب نئی قائم ہونے والی حکومت کی حکمت عملی پر ہوگا۔ لیکن موجودہ حالات کے تناظر میں دیکھا جائے تو امریکہ افغانستان سے نکلنے کے بعد وہاں بھارت کے کسی نہ کسی رول کی حوصلہ افزائی کرے گا۔ گویا امریکہ افغانستان میں بھارتی مفادات کا سہولت کار بن سکتا ہے کیوں اس طرح اسے خود اپنے مفادات کا تحفظ آسان لگے گا۔

یہ صورت حال پاکستان کے لئے قابل قبول نہیں ہے۔ شاید اسی لئے طالبان کی حکومت اسلام آباد کے لئے زیادہ خوش آئیند ہوگی۔ لیکن موجودہ حالات میں کسی بڑی خوں ریزی کے نتیجےمیں کابل پر قبضہ سے قائم ہونے والی حکومت کو امریکہ اور عالمی برادری کی حمایت حاصل نہیں ہوسکے گی۔ خاص طور سے اگر ایسی کسی حکومت نے بنیادی انسانی حقوق اور خواتین کے معاشرے میں رول کو تبدیل کرنے کی پرتشدد کوشش کی تو اس پر داخلی اور عالمی سطح پر رد عمل سامنے آئے گا۔

طالبان کے لئے بہتر طریقہ تو یہی ہوگا کہ وہ سیاسی رسوخ و معاہدہ کے ذریعے اقتدار میں حصہ دار بنیں پھر آہستہ آہستہ اپنی سیاسی قوت مضبوط کریں۔ پاکستان بھی شاید طالبان کویہی حکمت عملی اختیار کرنے کا مشورہ دیتا ہے تاکہ فوری طور سے کوئی بڑا بحران پیدا نہ ہو۔ اس بات کا امکان موجود ہے کہ طالبان اس حکمت عملی سے پوری طرح متفق نہ ہوں۔ اس کی ایک وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ طالبان میں بعض انتہا پسند عناصر ملا عمر کا افغانستان بحال کرنے کی عجلت میں ہیں۔ جبکہ معتدل مزاج عناصر سیاسی قوت مستحکم کرنے کی پالیسی اختیار کرنا چاہتے ہیں۔ اس کی دوسری اہم وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ طالبان نے عسکری گروہ کے طور پر تو کامیابی حاصل کی ہے لیکن انہیں افغان عوام کی وسیع تر حمایت حاصل نہیں ہے۔ طالبان نے ہمیشہ طاقت کے زور پر کامیابی حاصل کی ہے۔ اب اگر وہ سیاسی عمل کا حصہ بنتے ہیں تو اس میں کسی نہ کسی طرح کا جمہوری طریقہ اختیار کرنا پڑے گا۔ اس طریقہ میں عوام سے صرف طاقت کی بنیاد پر رجوع نہیں کیا جاتا بلکہ انہیں متاثر کرنے کے لئے عوامی بہبود اور سہولتوں کے منصوبوں پر کام کرنا پڑتا ہے۔ طالبان کو اس کام کا کوئی تجربہ نہیں ۔ طالبان کے لئے یہ کایا کلپ قبول کرنا شاید آسان بھی نہ ہو۔

پاکستان امریکہ کے ساتھ مذاکرات اور معاہدہ میں سہولت کار تھا۔ اسی کی وجہ سے طالبان مذاکرات کی میز پر آئے اور معاہدہ ہوسکا۔ پاکستان کی خواہش ہوگی کہ طالبان اب بھی سیاسی حل اور مفاہمت کا راستہ اختیار کریں۔ طالبان اگر کابل پر بزور قابض ہوگئے اور انہوں نے اپنے دعوؤں کے مطابق اپنی سابقہ حکومت کی طرز پر خود ساختہ اسلامی شرعی حکومت قائم کرنے کی کوشش کی تو مغربی ممالک افغانستان کی امداد بند کردیں گے۔ سعودی عرب میں سیاسی تبدیلی کے موجودہ ماحول میں اس بات کا امکان نہیں ہے کہ ریاض 90 کی دہائی کی طرح عالمی طاقتوں کو للکارنے والی کسی ’ افغان اسلامی حکومت‘ کو مالی و سفارتی تحفظ فراہم کرنے میں کردار ادا کرے گا۔

اس صورت میں کابل پر طالبان کے قبضہ سے پیدا ہونے والی صورت حال میں طالبان کا سارا بوجھ پاکستان پر پڑے گا۔ پاکستان اپنی معاشی مجبوریوں اور سفارتی حدود کی وجہ سے یہ بوجھ برداشت کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ اس کے باوجود کابل پر طالبان کے ممکنہ قبضہ کے بارے میں اسلام آباد کے اطمینان اور خوشی کو محسوس کیا جاسکتا ہے۔ سوال ہے کہ کیا ان مضمرات کا جائزہ لے کر پاکستان کی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لئے منصوبہ بندی کرلی گئی ہے جو اس صورت حال میں سامنے آئیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words