EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

بنوں شوز، ٹاپوں کی آواز اور ریل کی سیٹی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کچھ منظر یاداشت پر ایسے نقش ہو جاتے ہیں جیسے کل کی بات ہو۔ رمضان کا مہینہ تھا۔ ابا جان (والد صاحب کے بڑے بھائی، تایا ابو) اسکول آئے تھے مجھے لینے۔ پانچویں میں تھا شاید جب پہلی دفعہ بنوں جانا ہوا تھا۔ بنوں ہمارے گاؤں کے بہت قریب ہے لیکن پتہ نہیں کیوں پانچویں تک انتظار رہا۔ عجیب سی سرشاری تھی کہ تایا ابو اسکول مجھے لینے آئے ہیں۔ پرنسپل صاحب نے کلاس ٹیچر کو بلاوا بھیجا اور ان کو کہا کہ بچے کو آدھی چھٹی (پہلی چار کلاسوں کے بعد چھٹی ) دے دیں۔ معلوم ہوا رمضان کے آخری دن ہیں ابا جان مجھے جوتے دلوانے لے جا رہے ہیں۔ اتنی خوشی شاید ہی کبھی محسوس ہوئی ہو۔ کیوں نہ ہوتی کہ پہلی دفعہ عید شاپنگ کے لئے کسی دوسرے شہر جا رہا تھا۔ اسکول سے اڈے گئے۔ سیٹ پکڑی اور چچا زاد بھائی اور ابا جان کے ہمراہ بنوں نکل پڑے۔

راستہ بہت مختصر ہے گاؤں سے بنوں سٹی تک مگر اس مختصر راستے میں بھی سوال پوچھتا رہا۔ اچھا یہ کون سی جگہ ہے۔ سپینہ تنگی سے کچھ دور آگے کی آبادی کو ڈومیل کیوں کہتے ہیں؟ یہ کیسا عجیب سا نام ہے، ساتھ ساتھ سوچتا رہا۔ آگے بنوں ہے۔ بنوں والوں کا لہجہ ایسے مختلف سا کیوں ہوتا ہے؟ یہ نیچے دریائے کرم ہے جس پر بنے پل سے ابھی گزرے ہیں۔ پیچھے ذہن میں پشتو کا گانا چل رہا ہے جس میں گہرے دریائے کرم کا ذکر ہے۔ بنوں ایک اچھی خاصی فوجی چھاؤنی رہی ہے انگریز دور سے لے کر اب تک۔ ابا جان بتائے جا رہے ہیں۔ اسی بیچ شور سا محسوس ہونے لگا۔ گاڑیوں کی تیز آوازیں اور ان میں کنڈیکٹروں کی آوازیں جو گاڑیوں میں چند خالی سیٹیں بھرنے کے لئے لگائی جا رہی تھیں۔ میں پوچھنے لگا،

”ابا جان! یہ بنوں کا مرکزی اڈہ ہے؟“
”جی بچو (وہ پیار سے بچو پکارتے ہیں )“

سوچنے لگا یہ کسی عجیب سی جگہ ہے۔ اتنا رش اور شور برپا ہے۔ دل میں خیر ایک اشتیاق تھا کہ یہ شہر اور دیکھا جائے۔ انہوں نے ہمیں چنگ چی رکشے میں بٹھایا اور بازار لے گئے۔ وہیں ایک دکان سے دوسری دکان پھراتے رہے۔ اسکول میں تب بچوں کے ہاں بنوں شوز کا فیشن تھا۔ یہ چارسدہ چپل سے تھوڑے مختلف ہوتے ہیں۔ اور بتاتا چلوں بنوں شوز پہلی دفعہ دیکھے تھے اسکول میں تب ہی لو ”ایٹ فرسٹ سائٹ“ ہو گیا تھا۔ وہیں ایک دکان میں یہ بنوں والے مخصوص جوتے نظر آئے تو سیدھی فرمائش کر ڈالی۔ ابا جان نے فرمائش پوری کر دی۔

یادش بخیر! اس سے چند ایک سال پہلے کوئی رشتہ داروں میں سے افغانی چپل لیا تھا میرے لئے۔ یہ چپلیں کھلی سی ہوتی ہیں۔ چمڑے کی پٹیاں ہوتی ہیں ان میں جن پر مختلف رنگوں کے نقش بنے ہوتے ہیں۔ اگلے سرے والی پٹی پر پھول سا جڑا ہوتا ہے۔ انتہائی خوبصورت ہوتی ہیں لیکن تب نصاب زدہ ذہن کے لئے یہ روایتی اور ثقافتی چپل قبول کرنا ناممکن تھا۔ سو وہ الماری میں کہیں اندر چھپا کر رکھ دیں۔ سوچتا تھا لوگ کیا کہیں گے یہ کیا پہن رکھا ہے اس نے؟ تب یہ حقیقت نہیں کھلی تھی کہ ثقافتوں کے مختلف رنگ انسانی نوع کی واحد خوبصورتی ہے جو انسان کی حیوانی جبلت سے ہٹ کر ایک ارتقائی حقیقت بھی ہے اور تنوع کی علامت بھی۔ تب پہاڑوں سے اترتے جھرنوں جیسی زبان پشتو کے ٹپے دل پر نقش نہیں ہوئے تھے۔ شاید یہی کمی تھی۔ اب نہیں ہے۔

ابا جان نے نے بازار میں بنوں کا مشہور پلاؤ کھلایا۔ وہیں بیٹھے تھے کہ اچانک وہ کہنے لگے کہ واپسی میں اڈے تک تانگے سے چلیں گے۔ وہ پہلی اور آخری دفعہ تھی جب تانگے کا سفر کیا تھا۔ تارکول کی سڑک سے ابھرتی ٹاپوں کی آوازیں اور ریل کی سیٹی ہم سے پہلوں کے لئے ہجر کی تمہید تھی یا پھر جنگ سے یا دور شہر سے آنے والوں کے لئے زندگی کا استعارہ۔ ہماری نسل کے لئے یہ افسانوی علامتیں ہیں، رومانوی احساسات ہیں جنھیں ہم نے صفحات کے دریچوں سے اکثر تمہید یا استعارے کی صورت میں محسوس کیا ہے یا شاید ایک آدھ بار ایکسپیرینس کیا ہے۔ ہمارے بعد آنے والوں کے لئے یہ متروکات میں سے ہے۔ ہمارے بعد کے لوگ بھی کیا ہی بدقسمت ہیں جنہیں نہ ریل کی سیٹی میں افسردگی میسر ہے اور نہ ہی سٹیشن کا انتظار کا۔ جنھیں خط کی خوشبو ملی ہے اور نہ ہی ٹاپوں کی آواز۔

ابا جان تانگے سے اڈے لے کر آئے۔ ایک مختصر سے سفر اور خریداری کے بعد جانے کی اداسی نے گھیر لیا۔ کیا خبر پھر کب اس مصروف شہر میں آنا ہو؟ لیکن قصد کر لیا تھا کہ جب بھی آنا ہوا تانگے کا سفر ضرور کرنا ہے۔ پہیے کے ہر چکر کے ساتھ ہلکورے لیتے ہوئے گھوڑے کی ٹاپوں کی آواز ضرور سننی ہے۔ تب علم نہیں تھا کہ جب پہاڑوں سے اترتے جھرنوں جیسی زبان پشتو کے ٹپے دل پر نقش ہونا شروع کریں گے تب پلوں کے نیچے بہت سارا پانی بہہ چکا ہوگا۔ تب یہ بھی علم نہیں تھا کہ آگے جب انتظار کا دکھ آ لے گا تب یہی گھوڑے کی ٹاپوں کی آواز اور ریل کی سیٹی اپنی طرف کھینچے گی لیکن پھر یہ سب میسر نہیں ہو گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے