EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

قومی و یکساں نصاب اور مادری زبانیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے گلگت میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے طلباء کو یہ ’نوید‘ سنا دی کہ امتحانات ہر صورت ہوں گے۔ گلگت بلتستان میں نیشنل کالج آف آرٹس کا کیمپس کھول دیا جائے گا۔ گلگت بلتستان کے طلباء و طالبات کے لئے 56 کروڑ کی خصوصی گرانٹ کا بھی اعلان کر دیا جو سکالرشپ کے لئے مختص کیے جائیں گے جن سے ملک کے نامور تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کی جاسکے گی۔ 60 کروڑ مالیت کا منصوبہ تکنیکی مہارت کے لئے مختص کرنے کا اعلان کر دیا جبکہ 600 طلباء کے لئے جدید مضامین کے سکالرشپ کا بھی اعلان کر دیا جن میں آرٹیفیشل اینٹیلیجنس، ڈیٹا سائنس و دیگر شامل ہیں۔

وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کا بنیادی مدعا قومی نصاب کے متعلق تھا جس پر انہوں نے کہا کہ پہلی مرتبہ قومی نصاب تیار کر لیا گیا ہے جو کہ تمام سرکاری، نجی تعلیمی اداروں اور مدارس پر بھی لاگو ہوگا۔ شفقت محمود نے اس بابت اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ وہ بدنصیب ملک ہے جہاں پر جس کا جی چاہا ویسا نصاب متعارف کرایا گیا ہے جس کی وجہ سے تقسیم در تقسیم شروع ہو گئی۔ پہلی مرتبہ وفاقی حکومت نے قومی نصاب کے لئے قدم اٹھایا ہے جس کا مقصد تمام تعلیمی اداروں کو برابری کی سطح پر لانا ہے۔

وفاقی وزیر شفقت محمود کی پریس کانفرنس کے دوران ہی خیال آیا کہ اس سے گلگت بلتستان کے متعلق سوال کیا جائے اور پہلا خیال صوبائی وزیر تعلیم کے متعلق تھا جو اپنا عہدہ سنبھالنے سے لے کر اب تک مکمل طور پر منظر سے غائب ہیں، خوش قسمتی یہ ہوئی کہ پریس کانفرنس کے دوران ہی وفاقی وزیر نے اپنے بائیں جانب موجود خاموش مزاج شخص کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ صوبائی وزیر تعلیم راجہ اعظم صاحب بھی موجود ہیں ورنہ نجانے کہیں نہ کہیں سے تو سوال نے آنا تھا کیونکہ راجہ اعظم جب سے وزیر تعلیم بنے ہیں تب سے اب تک کہیں پر بھی سامنے نہیں آئے ہیں؟ ایک عرصے تک تو اسمبلی کے اجلاس سے غیر حاضر رہے تاہم بعد کے اجلاسوں میں انہوں نے شرکت تو کرلی لیکن اب تک لب کشائی کچھ نہیں کی ہے۔

حکومت کی نیت پر شک نہیں کیا جاسکتا ہے کہ تعلیم کے میدان میں بہت بڑا قدم اٹھانے جا رہی ہے۔ اس قدم میں کسی بھی قسم کی جلدبازی آئندہ کی نسلوں پر اثر انداز ہوگی۔ اس تعلیمی نظام اور قومی نصاب پر عملدرآمد کرانے سے قبل ملک کی جغرافیائی صورتحال کو دیکھنا ناگزیر ہے۔ راقم نے وفاقی وزیر شفقت محمود سے یہی سوال کیا تھا کہ پاکستان اس وقت 6 اکائیوں پر مشتمل ملک ہے جس میں چار صوبے، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان بھی شامل ہے، ان تمام علاقوں کی ایک قومی نصاب میں کس طرح نمائندگی کی جا سکتی ہے؟

دوسرا سوال مادری زبانوں کے متعلق تھا جن کو نصاب میں شامل کرنے، نصابی زبان بنانے اور قومی سطح پر ان کے تحفظ کے لئے سابقہ حکومت کے دور میں کچھ کام ہوا تھا تاہم آپ (وفاقی وزارت تعلیم) کے دفتر میں آ کر وہ فائل گم گئی ہے تو ان زبانوں کے تحفظ اور ترویج میں کیا رکاوٹیں ہیں؟ ان دو معاملات پر مبنی سوال کے جواب میں وفاقی وزیر شفقت محمود نے کہا کہ ’پہلی مرتبہ قومی اور یکساں نصاب تعلیم شروع کیا گیا اور ابتدائی مراحل میں ہے جس کے عملدرآمد میں صوبائی حکومتوں کا کردار ہے۔

مادری زبانوں پر انہوں نے کہا کہ ان کی ترویج کی اہمیت مسمم ہے تاہم ایسی کوئی پالیسی زیر غور نہیں ہے۔ یہ جواب غیر تسلی بخش تھا جسے صحافتی زبان میں‘ گول کرنا ’بھی کہا جاتا ہے۔ یہ بھی سمجھ نہیں آ سکا کہ یکساں نصاب کے ذریعے ترقی کے زینے طے کرنے والے اداروں کو کھینچ کر منجمد اداروں کے برابر کر دیا جائے گا یا پھر منجمد اداروں کو ترقی کی جانب گامزن کیا جائے گا۔

پاکستان کی تمام اکائیوں کا پس منظر، تاریخ اور جغرافیہ ایک دوسرے سے بہت مختلف ہے، کہیں پر صرف شاہراہ قراقرم مشترک ہے تو کہیں پر دریائے سندھ مشترک ہے، کہیں پر جی ٹی روڈ مشترک ہے تو کہیں پر سمندری تعلقات ہیں۔ ہر صوبہ بلکہ صوبے کے اندر بھی متعدد اقوام بس رہی ہیں جو اپنا تاریخی پس منظر رکھتی ہیں اور بھرپور ثقافت کے مالک ہیں۔ اس ساری صورتحال کو اگر حکومت نے نظر انداز کر کے عجلت میں فیصلہ کر لیا تو یقیناً منفی نتائج بھی برآمد ہوسکتے ہیں، کیونکہ کوئی صوبہ نہیں چاہے تو کہ اس کے بچے کسی اور صوبے یا علاقے کے ہیروز کی کہانیاں پڑھیں، مقامی سطح پر اپنے ذخائر کو چھوڑ کر دیگر علاقوں کے استعاروں کو استعمال کریں اور اپنی تاریخ کو الماریوں میں بند کردے۔

مادری زبانوں کا معاملہ بھی اسی نوعیت کا ہے۔ پاکستان میں کم و بیش 70 مختلف زبانیں پائی جاتی ہیں تاہم کسی حکومت نے ان زبانوں کے ترویج و تحفظ کے لئے اس طرح اقدامات نہیں اٹھائے ہیں بالخصوص گلگت بلتستان کی زبانوں پر۔ گلگت بلتستان کی پانچ بڑی مادری زبانوں شینا، بلتی، کھوار، بروشسکی اور وخی بڑی مشکل سے اس مرحلے پر پہنچ چکی ہے جہاں پر اس کو لکھنے کا رواج قائم ہوا ہے۔ اس سے قبل ان زبانوں پر کسی غیر ملکی مفکرین اور سکالرز نے کام کیا ہے لیکن علاقائی اور ملکی سطح پر حکومتوں نے کبھی اس بات پر توجہ ہی نہیں دی ہے کہ اتنے بڑے ذخیرے اور علم کے تحفظ کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں۔

مسلم لیگ نون کی سابق حکومت نے اس حوالے سے خاصا کام کیا تھا جس میں سابق وزیراعلیٰ حافظ حفیظ الرحمن کی اپنی کاوشوں کے علاوہ اس وقت کے چیف سیکریٹری ڈاکٹر کاظم نیاز کی دلچسپی بھی شامل تھی، جس کے بعد حکومتی سطح پر تھوڑا بہت کام ہوا لیکن بہت ہی جلد حافظ حفیظ الرحمن روایتی سیاست میں پھنس گئے اور مرکز میں حکومت تبدیل ہو گئی۔ ڈاکٹر کاظم نیاز کے بعد کے چیف سیکریٹری بابر تارڑ نے اس شعبے کو مکمل نظر انداز کر دیا یہاں تک کہ ایک بار فائل ان کے سامنے گئی تو انہوں نے عدم دلچسپی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فائل کو دوسری جانب رکھ دیا اور پھر فائل کھل بھی نہیں سکی۔ اس وقت خیبر پختونخوا حکومت اور بلوچستان حکومت نے اپنے علاقائی و مادری زبانوں کے تحفظ کے لئے قانون سازی بھی کی ہے اور معاملات کو بہتری سے آگے لے کر چل رہے ہیں۔

اس بات میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ عمومی طور پر زبان صرف اظہار کا ذریعہ ہے اور کئی خیالات دماغ کے اندر صرف اس وجہ سے مر جاتے ہیں کہ ان کے اظہار کے لئے مناسب الفاظ نہیں ملتے ہیں۔ آج کی کوئی ایک ایسی زبان نہیں ہوگی جو یہ دعویٰ کرسکے کہ وہ کسی دوسری زبان کے متبادل کے طور پر سامنے آ سکتی ہے یا کمی کو پورا کر سکتی ہے۔ گلگت بلتستان حکومت سے توقع ہے کہ وہ قومی اور یکساں تعلیمی نصاب پر جائزہ لے گی اور گلگت بلتستان کی مادری زبانوں کے تحفظ و ترویج کے لئے اقدامات اٹھائے گی، جسے صدیوں تک یاد رکھا جائے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے