مجھے کیوں نکالا


نواز شریف تیسری بار وزارت اعظمی کے منصب پر فائز تھے۔ 2013 کے عام انتخابات میں وہ بھاری اکثریت لے کر کامیاب ہو کر وزیراعظم بنے تھے۔

ایک دن ایک معتبر صحافی نے پانامہ کے حوالے سے خبر بریک کردی پوری دنیا کی طرح پاکستان میں وبال آ گیا۔ پاکستان میں چارسو سے زائد لوگوں کا نام آیا۔ مگر شاید قسمت کا کھیل کہیں یا قسمت کی دیوی کی مہربانی۔ قرعہ میاں نواز شریف کے نام کا نکلا جن کا اپنا نام پانامہ لیکس میں بھی نہیں تھا۔ سپریم کورٹ میں مقدمہ چلا، دو ججز نے نواز شریف کو نا اہل اور تین نے کیس جے آئی ٹی کو بھیج دیا۔ پھر متفقہ فیصلہ آیا نواز شریف صاحب کو وزارت اعظمی کے منصب سے ہٹا دیا گیا۔ چند دن بعد عدالت نے ان کو پارٹی کی صدارت سے بھی ہٹا دیا جس کا نقصان ان کی جماعت کو سینٹ الیکشن میں بھی اٹھانا پڑا اور جماعت کے امیدواران نے بطور آزاد امیدوار الیکشن لڑا۔ نواز شریف نے تو ایک دن تنگ آ کر کہا کے اب آخری آپشن میرا نام ہی رہ گیا ہے جو اب یہ مجھ سے چھین سکتے۔

نواز شریف کے قریبی ساتھیوں نے نواز شریف کو عوامی رابطہ مہم کا کہا جس کے دوران نواز شریف نے مشہور جملہ ”مجھے کیوں نکالا“ کہا۔

نواز شریف کے اس جملے کا بہت مذاق اڑایا گیا تضحیک کی گئی۔ تب کی اپوزیشن جماعت اور اب کی حکمران جماعت کے حامیوں نے تو ایک طوفان بدتمیزی برپا کیا۔ مگر گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ میرے ذہن میں تو یہ سوال مزید پختہ ہو گیا اور میں نے ارادہ کر کے یہ کالم لکھ ہی ڈالا کہ ”مجھے کیوں نکالا“ کر دیا۔

نواز شریف کے آنے سے پہلے ملک مختلف مسائل کا شکار تھا۔ دہشتگردی عروج پر تھی۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ نے زندگی اجیرن بنا رکھی تھی۔ روشنیوں کے شہر کراچی میں خون کی ہولی کھیلی جاتی تھی۔ بوری بند لاشیں عام تھیں۔ پٹرول اور گیس بحران کے باعث لمبی لمبی لائنیں سڑکوں کی زینت بنی ہوئی تھیں۔ انفراسٹرکچر کی کمی تھی۔

نواز شریف نے بجلی و توانائی کے بحران پے خصوصی توجہ دی اور ملک سے لوڈشیڈنگ کے خاتمے کو اپنا مقصد بنا لیا۔

نواز شریف نے توانائی، معیشت اور انتہاپسندی جیسے مسائل کو اہمیت دیتے ہوئے ان سے نمٹنے کی کوششیں جاری رکھیں۔ مسلم لیگ نون نے اقتدار میں آنے کے بعد سب سے پہلے توانائی کے بحران سے نمٹنے پر توجہ مرکوز کی۔ بجلی کے نئے منصوبے لگائے۔ پھر نواز شریف صاحب بیرونی سرمایہ کاری لے آئے اور چائنہ کے ساتھ ”سی پیک“ معاہدہ کر لیا جس کو دنیا گیم چینجر کی حیثیت سے دیکھنے لگی۔ جی ڈی پی 508 پر پہنچ گئی۔ گزشتہ پانچ برسوں میں ملک میں انفراسٹرکچر اور توانائی کے منصوبوں پر تیزی سے کام ہوا۔

نواز شریف کی حکومت نے حویلیاں موٹروے اور سیالکوٹ لاہور موٹروے کی منظوری دے کر اس کی تعمیر کرائی۔ کراچی حیدر آباد موٹر وے، راولپنڈی اسلام آباد، لاہور، راولپنڈی، ملتان میٹرو بس، لاہور اورنج لائن منصوبے، ایل این جی درآمد کے منصوبے سمیت متعدد منصوبے مکمل ہوئے۔ دہشتگردی کی جنگ لڑنے کے لیے تمام سول اور فوجی قیادت کو ایک صفحے پر لا کر نیشنل ایکشن پلان ترتیب دینے کی منظوری دی۔ کراچی کو دوبارہ سے روشنیوں کا شہر بنانے کے لیے نواز شریف نے سیاسی اور فوجی قیادت کو آن بورڈ لے کر آپریشن کر کے کراچی کا امن بحال کیا۔ ملک دہشتگردی کے مسائل میں گھرا ہوا تھا سیاسی و فوجی قیادت سے مشاورت کے بعد نواز شریف نے ضرب عضب اور ردالفساد نامی دو آپریشن کرائے اور دہشتگردوں کا خاتمہ کیا۔

مسلم لیگ نواز کے دور اقتدار میں قبائلی علاقوں میں برطانوی دور سے رائج ایف سی آر کا خاتمہ ہوا اور سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے حکومت نے فاٹا میں اصلاحات متعارف کروانے اور اسے خیبر پختونخوا میں ضم کرنے لیے آئینی ترمیم کی منظوری دی۔ اور فاٹا کے لیے خصوصی فنڈز کی منظوری دی اور صوبائی اسمبلی میں بھی نمائندگی دی۔

یہ تو تھے چند چیدہ چیدہ کام جو نواز شریف دور حکومت میں ہوئے۔

مگر اب ذرا آگے کے حالات دیکھیں۔ 2018 میں اپوزیشن جماعت پاکستان تحریک انصاف حکومت میں آئی۔ 2018 کا پاکستان 2013 سے مختلف تھا مگر آج اس حکومت کو آئے ہوئے تقریباً تین سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔ مجھے تو آج نواز شریف صاحب کا سوال بالکل ٹھیک لگتا ہے اور یہ سوال میرے دماغ میں پھرتا رہتا کے میاں نواز شریف صاحب کو کیوں نکالا۔

5.8 فیصد والی اکانومی جس کو سات فیصد پر جانا تھا دھڑام سے گر گئی اور تین سال گزرنے کے بعد بھی اپنی پاؤں پر کھڑی نہیں ہو سکی۔ کبھی منفی اور کبھی مثبت لیکن 5.8 سے نیچے نیچے۔ سوال تو پھر بنتا ہے ”مجھے کیوں نکالا“ ۔

بجلی کی لوڈشیڈنگ جو تقریباً ختم ہو چکی تھی گرمی کی شدت کے ساتھ ساتھ پھر بڑھنے لگی
اور لوگوں کو پرانے پاکستان کی یاد ستانے لگی۔ پھر سوال تو بنتا ہے ”مجھے کیوں نکالا“

جس آئی ایم ایف کو نواز شریف نے 2017 میں خیر آباد کہہ دیا تھا اس حکومت نے پھر اس سے ہاتھ ملایا اور کالم لکھنے تک ملکی ہوائی اڈے اور موٹروے اس کے پاس رکھنے کی کابینہ منظوری دی چکی تو جب حالات ایسے ہوں تو سوال تو بنتا ہے ”مجھے کیوں نکالا“

مہنگائی کی شرح جو 401 فیصد تھی اب 1102 فیصد پر پہنچ چکی۔ کرپشن انڈیکس 117 سے 120 پر پہنچ چکا۔ آزادی اظہار رائے انڈیکس بھی 139 سے 145 پر پہنچ چکا۔ تو پھر سوال تو بنتا ہے ”مجھے کیوں نکالا“

جب 55 روپے ملنے والی چینی سنچری کراس کر جائے جب روٹی دس کی اور پندرہ کا نان ہو جائے جب چکن پانچ سو کا ہندسہ پار کر لے جب ضروری اشیائے خورد و نوش کی قیمتیں کنٹرول سے باہر ہوجائیں تو پھر سوال تو ہوگا ”مجھے کیوں نکالا“

جب اس ملک میں کرونا جیسی وبا کے دوران ماسک اور ادویات چوری کا اسکینڈل منظر عام پر آ جائے تو پھر سوال تو ہوگا ”مجھے کیوں نکالا“

جب چینی اور آٹے کے بحران سے حکومتی نمائندوں کے ملوث ہونے کی خبریں آئیں تو پھر سوال تو ہوگا ”مجھے کیوں نکالا“

جب گیس اور بجلی کا بحران سر چڑھ کر بولے تو پھر سوال تو ہوگا ”مجھے کیوں نکالا“

Facebook Comments HS