EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

سیاست کے گدلے تالاب میں اجلے دامن والا ممنون حسین

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

صدر ممنون حسین پردہ فرما گئے وہ ایسے ولی کامل تھے جنہوں نے سب سے پہلے "پاناما لیکس” کی پیش گوئی کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ اس سکینڈل میں ملوث افراد اللہ کی پکڑ سے بچ نہیں سکیں گے۔ یہ سوچ کے حیرت ہوتی ہے کہ  ان جیسا مرنجان مرنج اور اکل کھرا دیانتدار بزرگ نواز شریف کو کیسے پسند آ گیا۔ جناب ممنون حسین برصغیر کی جنگ آزادی کا زندہ و جاوید استعارہ تھے۔ تمام اہم تاریخی واقعات کی جزئیات تک انہیں ازبر تھیں کمال کا حافظہ پایا تھا اللہ تعالی پر بے پایاں اور حد درجہ محکم ایمان رکھتے تھے جو کچھ فرمایا حرف بحرف پورا ہورہا ہے

"‎یہ اللہ کا نظام ہے جو چوروں، لٹیروں ملک دشمنوں کے خلاف متحرک ہو چکا ہے” یہ کوئی اور نہیں صدر ممنون حسین نے نے برسوں پہلے کراچی میں تاجروں کی مجلس میں باکل غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے فرمایا!۔

‎”یہ پانامہ لیکس کا معاملہ قدرت نے اٹھایا ہے۔ آپ دیکھیں گے بہت سارے جو لوگ اطمینان سے بیٹھے ہیں، جوکہہ رہے ہیں کہ ہم نے پکا انتظام کرلیا ہے، ان کا کچھ نہیں ہوسکتا۔ دیکھئے گا کیسے کیسے لوگ پکڑ میں آئیں گے۔” صدر ممنون حسین نے کرپشن کی درجہ بندی کرتے ہوئے کہا تھا کہ کچھ درجات ہیں کچھ زیادہ کچھ نارمل اور کچھ ایکسٹرا آرڈنری کرپٹ ہوتے ہیں کبھی آپ ان کے چہرے غور سے دیکھئے گا، منحوس چہرے ہوتے ہیں، ان کے چہروں پر نحوست برس رہی ہوتی ہے۔ اللہ کی لعنت ان چہروں پر نمایاں ہوتی ہے۔ انہوں نے اپنی اس بات کو بار بار دہرایا تھا کہ یہ کرپٹ لوگ ایک دن لازمی پکڑے جائیں گے۔ ان میں بعض لوگ تو بڑے لوٹیا سردار سینہ تانے بڑے بنے پھرتے ہیں جنہوں نے کرپشن کے بڑے معرکے مارے ہیں لیکن کہتے ہیں کہ ان سے بڑا ملک کا ہمدرد کوئی نہیں ہے۔ انہوں نے تو کوئی غلط کام کبھی کیا ہی نہیں۔ یہ جو وقت آ رہا ہے میں یقین سے آپ کو کہتا ہوں کہ پاناما لیکس قدرت کی طرف سے اٹھا ہے۔ نجانے کیسے کیسے لوگ پکڑ میں آئیں گے۔ میری یہ بات یاد رکھئے گا، کوئی واقعہ دوماہ کے بعد ہو گا، کوئی چار ماہ کے بعد ہو گا، کوئی چھ ماہ کے بعد ہو گا، کوئی ایک سال کے بعد ہو گا، یہ اللہ کا نظام ہے جو چوروں، لٹیروں اور ملک دشمنوں کے خلاف متحرک ہو چکا ہے۔” جناب ممنون حسین کی پیش گوئیاں حرف بہ حرف پوری ہورہی ہیں ان پیش گوئیوں کا ہدف احباب تیزی سے اپنے انجام کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

‎ممنون حسین بذات خود نواز شریف کا حسنِ انتخاب تھے لیکن چونکہ جناب ممنون حسین کی تقریر روایتی خطاب کی بجائے الہام تھا، واردات قلب تھی اس لئے وقت نے ثابت کردیا ہے اس روحانی گفتگو کا مخاطب جناب نوازشریف اور ان کے اہل خانہ ہی تھے جو مشکوک مئے فئیر شاہانہ اپارٹمنٹس کے بے نامی مالک ہیں جسے خالی کرانے کے ئے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل متحرک ہو چکی ہے۔ صدرممنون حسین برصغیر کی زندہ جاوید تاریخ تھے۔ انہوں نے بلا کا حافظہ پایا تھے۔ انہیں متحدہ ہندوستان کے واقعات پوری صحت سے مکمل تفصیلات سے یاد تھے۔ آگرہ سے مسلم ریاست حیدرآباد دکن ہجرت’ اس کی بربادی کے بعد آگرہ واپسی اور پھر خاندان کی پاکستان دوسری ہجرت کی کہانی ایسے بیان کرتے کہ سماں باندھ دیتے تھے۔ ان کے دادا آگرہ سے دوستوں کے بلانے پر ڈھاکہ چلے گئے تھے انہیں 1971 میں تیسری ہجرت کراچی کرنا پڑی تھی ۔

‎جناب ممنون حسین سے اس کالم نگار کی پہلی ملاقات 17 جنوری 2014 کو ظہرانے پر ہوئی تھی۔ ون آن ون ہونے والی ملاقات میں جناب صدر کے علم و فضل خاص طور برصغیر کے فہمِ تاریخ نے ششدر کر کے رکھ دیا تھا۔ ” صدر مملکت ممنون حسین بھی ہجرت کا استعارہ بنے آگرہ اور اس سے جڑی ہوئی داستانیں سنا رہے تھے اور یہ طالب علم گم سم بیٹھا سن رہا ہے "تحریک پاکستان کے آغاز پر دادا مرحوم نے میرے والد گرامی کو بتایا تھا کہ اب ہندوستان کا متحد رہنا ممکن نہیں رہے گا۔ تقسیم ناگزیر ہو چکی ہے” جس کے بعد والد محترم نے فیصلہ کیا کہ آگرہ سے کسی مسلمان ریاست کو ہجرت کرلی جائے اور ہم نے اپنا کاروبار حیدرآباد دکن منتقل کر لیا۔ آزادی کے فوراً بعد وہاں پر بھارت نے پولیس ایکشن کر دیا تو ہمارا خاندان واپس آگرہ آ گیا تھا کہ مسلم ریاست کے سقوط کے بعد وہاں رہنے کاکوئی جواز نہیں تھا۔”

صدر ممنون حسین محو گفتگو تھے لیکن اب وہ پہلے والا آگرہ نہیں تھا، وہاں بھی دنیا بدل چکی تھی "دادا مرحوم نے والد صاحب کو مال واسباب سمیٹنے اور پاکستان ہجرت کا حکم دیا کہ صدیوں سے ایک ہی جگہ بسے رہنے والوں کے تیور بدل چکے تھے۔ "دادا مرحوم کا خیال تھا کہ ایسے ماحول میں رہنا مناسب نہیں ہے کہ اپنے پرکھوں کی زمین اجنبی ہوتی جا رہی تھی۔”

‎” آگرہ کے مسلمانوں کی اکثریت چمڑے اور اس کی مصنوعات کے کاروبار سے منسلک تھی "صدرممنون حسین کے دادا اور والد مرحوم کے جفت سازی کے دو الگ الگ کارخانے تھے کہ دانش مند بزرگ نے اپنے بیٹے کو الگ کاروبار اور کارخانہ بنا دیا تھا” صدرممنون حسین کی جنوبی ایشیا کی سیاست پر گہری نگاہ تھی، انہیں بنگلہ دیش ، بھارت اورسری لنکا کے اہم واقعات پوری صحت اور جزیات کے ساتھ ازبر تھے”۔ بنگلہ دیش میں جاری سیاسی ہنگامہ آرائی کا ذکر کرتے ہوئے بنگلہ دیشی وزیر اعظم حسینہ واجد کے پاکستان کے بارے میں رویوں کا ذکر کرتے ہوئے بتا رہے تھے کہ ڈھاکہ میں ہونے والے کرکٹ کے فائنل میچ میں پاکستان اور بھارت مدمقابل تھے، آخری لمحوں میں پاکستان کی فتح پر حسینہ واجد کا تمام اخلاقیات کو پس پشت ڈال کر چلے جانا اور مہمان خصوصی کی حیثیت سے پاکستان ٹیم کو ٹرافی دینے کی تقریب سے غیر حاضر ہونا بھی یاد تھا،” شیخ مجیب الرحمن کے قتل کے عوامل اور پس پردہ محرکات پر وہ تاریخ کے استاد کی طرح مربوط اورمبسوط گفتگو کر رہے تھے، "سری لنکا کے تاملوں کی تحریک ہو یا پھر ہندوستان کی مختلف ریاستوں میں چلنے والی علیحدگی کی تحریکیں جناب ممنوں حسین کومکمل طورپر اپ ٹو ڈیٹ پایا۔

‎دوپہر کے کھانے کے بعد یہ طالب علم اپنے بزرگ میزبان صدر مملکت جناب ممنون حسین سے اذن رخصت چاہ رہا تھا کہ آج دوپہر برصغیر کی زندہ تاریخ سے مکالمہ قلب ونظر آسودہ کر گیا تھا۔ برصغیر کو تقسیم ہوئے مدتیں بیت چکیں، کامل 70 برس بعد بھی ہجرت کے المیے سے جنم لینے والی کہانیاں ختم ہونے کا نام نہیں لے رہیں ۔ ”ہجرت اور مہاجر” سندھ کی شہری سیاست اور کراچی کے پس منظرمیں خونین استعارہ بن چکے ہیں۔

‎جناب ممنون حسین خوش قسمت تھے کہ اعزاز کے ساتھ ایوان صدر سے رخصت ہوئے تھے۔ انہیں مکمل پروٹوکول کے ساتھ الوداع کیا گیا۔ پاکستان کی تاریخ میں جناب ممنون حسین کو "زندہ تاریخ” کا درجہ حاصل تھا وہ کاروبار ی علوم میں درجہ تخصص رکھتے تھے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ جناب نواز شریف سے سیاسی وفاداری نے ان کے علم و فضل اور شخصی وجاہت کو دھندلا کر رکھ دیا تھا۔ وہ برصغیر کی جنگ آزادی کا ایسا استعارہ تھے کہ جن کے سامنے یہ تاریخ مرتب ہو ئی تھی اسی طرح وہ پاکستان کی بنیادیں استوار کرنے والی معزز اور معتبر نسل سے تعلق رکھتے تھے لیکن افسوس صد افسوس کہ وہ سیاسی عمل کی بجائے شخصی وفاداری کی بنیاد پر صدر مملکت کے عالی شان منصب کے لئے چنے گئے تھے جس سے وہ آخری لمحوں تک جان نہ چھڑا سکے جس کی وجہ سے انہیں عالی مقام آئینی منصب دار کی بجائے شخصی وفادار سیاسی کارکن کی حیثیت سے یاد رکھا جائے گا۔

‎جناب نواز شریف کا کمال تھا کہ وہ سیاست کے بے رحم کھیل میں اہلیت سے زیادہ وفاداری کو ترجیح دیتے تھے، سرور محل میں مدتوں پہلے جلاوطنی کے دوران، عشائیے پر ہو نے والی بلا تکلف اور کھلی ڈلی گپ شپ کے دوران انہو ں نے اس کالم نگار کو بتایا تھا کہ گاہے گاہے چھکے مارنے کا مشورہ دینے والے اور کڑاکے نکالنے والے لطیفہ گو مزاج شناس مصاحب مشاہد حسین سید فوجی بوٹو ں کی آواز سنتے ہی گدھے کے سر سینگوں کی طرح غائب ہو گئے تھے لیکن موقع ملتے اسی نواز شریف نامعلوم وجوہ کی بنا پر اس بھگوڑے کو دوبارہ ووٹ کی عزت کے پراجیکٹ پر لگا دیا۔ عجیب وغریب اور ناقابل فہم ذہنی ساخت کی وجہ سے جناب نوازشریف نے ممنون حسین کے سیاسی قدوقامت کو کم کرنے کے لئے انہیں”دودھ ربڑی والا” مشہور کرایا ویسے اگر واقعی جناب نواز شریف کو ممنون حسین صاحب کے گھر کا دودھ ربڑی پسند تھا تو خاص موقع پر ایسی خبریں نمایاں کرنے کے کیا مقاصد ہو سکتے تھے۔ اس معاملے میں جناب نواز شریف کی "نگاہ التفات” کو داد دینی چاہیے کہ ان کے حسن انتخاب کا معیار کیسا مزے دار اور خوش ذائقہ تھا۔ پہلے گورنر سندھ کے عہدہ جلیلہ پر بٹھاتے ہیں اور ‎مو قع پاتے ہی صدر مملکت کے عہدے کے لیے نامزد فرماتے ہیں۔ حقائق جو بھی ہوں لیکن یہ تو حقیقت ہے کہ جناب ممنون حسین شرافت اور نجابت میں کسی طرح بھی فاروق لغاری اور عقل و دانش میں جناب غلام اسحق خان سے کم نہیں تھے۔

‎جناب ممنون حسین نے کراچی یونیورسٹی سے ایم بی اے کیا تھا۔ جناب نوازشریف اپنے ہی تجویز کردہ آئینی منصب داروں سے اس طرح کے سلوک کی طویل تاریخ رکھتے ہیں۔ بزرگ دانشمند صدر غلام اسحق’ جنرل آصف نواز ‘ جنرل وحید کاکڑ’ اپنے محسن فاروق لغاری اور جنرل پرویز مشرف سے  ‎سلوک تاریخ کا حصہ بن چکا ہے

‎جناب ممنون حسین نے ملزم نوازشریف سے ملاقات میں ناکامی کے بعد حوصلہ نہیں ہارا۔ ‎ جناب ممنون حسین لندن جا پہنچے جہاں انہوں نے پاکستان کو سنگین جرائم میں مطلوب ملزمان سے ملاقاتیں کیں جو ان کے منصب صدارت سے منسلک آئینی تقاضوں کے منافی تھیں لیکن یہ سرکاری خرچ پر شریف خاندان سے ان کا اظہار وفاداری تھا جس نے ان کو سیاسی کارکن کے مقام پر لا کھڑا کیا تھا۔

 ‎لیکن افسوس صد افسوس کہ وہ کامل 5 برس اپنے علم و فضل سے پاکستان کو کوئی فائدہ نہ پہنچا سکے وہ پاک بھارت تعلقات کو قومی امنگوں کے مطابق استوار کرانے کی بجائے گونگے پہلوان کا کردار ادا کرتے رہے۔ مودی نواز شریف اور جندال نوازشریف عشق کی پینگ ہلارے کھاتی رہی۔ اس سب کے باوجود لیکن یہ بھی تاریخ میں لکھا جائے گا کہ آصف زرداری کے بعد یہ ممنون حسین ہی تھے جنہوں نے سویلین صدر کی حیثیت سے اپنی آئینی مدت صدارت مکمل کی تھی

وہ اجلے دامن کے ساتھ اپنے مالک و خالق کے ہاں پیش ہوئے وہ ایسی پاکیزہ روح کے مالک تھے مہکتا ہوا معطر کنول تھے کہ شریف خاندان کے گدلے اور آلودہ تالاب میں رہنے کے باوجود اپنے دامن کو ہر طرح کی آلودگیوں سے بچائے رکھا اب شاید دوسری مثال برادرم پرویز رشید ہی ہو سکتے ہیں۔ خدائے مہربان ممنون حسین رح کی بدعنوانوں ، لٹیرے سیاستدانوں اور  "ہر قسم” کی افسر شاہی کو منطقی انجام تک پہنچائے اور ممنون حسین جنت کے باغات سے یہ سب دیکھ رہے ہوں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسلم خان

محمد اسلم خاں گذشتہ تین دہائیوں سے عملی صحافت کے مختلف شعبوں سے منسلک رہے ہیں اب مدتوں سے کالم نگار ی کر رہے ہیں تحقیقاتی ربورٹنگ اور نیوز روم میں جناب عباس اطہر (شاہ جی) سے تلمیذ کیا

aslam-khan has 51 posts and counting.See all posts by aslam-khan

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے