EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

نرگس اور نوری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کسی زمانے میں نرگس ہزاروں سال اپنی بے نوری پہ روتی تھی اور اب ہزاروں بے نور نرگس کے لئے رو رہے ہیں۔ نوری دور کہیں اپنے گاؤں بیٹھی حیران اور پریشان ہو رہی ہے کہ یہ دنیا کیا سے کیا ہو گئی ہے۔ بڑی مشکلوں کے باوجود چمن میں ”دیدہ ور“ پیدا نہیں ہو رہے بلکہ چمن سے کراچی تک متاثرین مال و زر پیدا ہو رہے ہیں۔ یہ سب دیکھ کر نوری کی آنکھوں کا نور بے سرور ہوا جا رہا ہے اور اس کی پلکوں سے زندہ رہنے کا خواب دور ہوا جا رہا ہے۔

نوری جیسی ماؤں کے بیٹے پہلے شہر آ کر بھول جاتے تھے کہ ان کی تعلیم کے لئے کس کس کی ماں نے کتنا زیور بیچا ہے۔ اب وہ اس مشکل سے آزاد ہو گئے ہیں کیونکہ نہ اب ان کی ماں کے پاس زیور رہ گیا ہے اور نہ ہی ان کو شہر میں پڑھنے کا شوق رہ گیا ہے۔ اگرچہ ہر ماں کو ابھی بھی زیور کی بجائے اولاد کی تعلیم کی فکر رہتی ہے اور وہ اسی کو اپنا زیور سمجھتی ہے اور اولاد کو بھی اس زیور سے آراستہ کرنا چاہتی ہے مگر اولاد کو اب یہ زیور ”راس“ نہیں، اسے مستقبل کی کوئی آس نہیں، علم کی اب پیاس نہیں کیونکہ اس نے مان لیا ہے کہ وہ عام ہے اور بن سکتی کبھی خاص نہیں۔

بہت سے لوگ نوری کو یہ سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ اب نوری کا دور ختم ہو چکا ہے اور نرگس کا دور ہے بلکہ دور دورہ ہے۔ نوری سے نرگس کی مسافت طے کرنا اتنا مشکل نہیں مگر نہ جانے کیوں نوری ابھی نرگس بننے سے صدیوں کی دوری پہ ہے۔ نوری جانتی ہیں کہ یہ خاکی اپنی فطرت میں بھلے ”نوری“ نہ ہو اور ”ناری“ بھی نہ ہو مگر یہ دوسروں کی زندگی ”نار“ بنانے میں ید طولیٰ رکھتا ہے۔ بعض اوقات اس مطمح نظر کو اپنی ترجیح اولا رکھتا ہے۔ کبھی نوری ہمارے گھر کا مرکز تھی تو اب نرگس ہمارے معاشرے کا محور ہے۔ شاید یہی ہمارے تہذیبی سفر کی کہانی ہے۔

نوری جانتی ہے کہ لوگ اسے نرگس کا پھول نہیں اپنی راہوں کی دھول بنانا چاہتے ہیں اور پھر عمر بھر دھول چٹانا چاہتے ہیں۔ نوری ”طائر لاہوتی نہیں“ مگر وہ جانتی ہے کہ ”جس رزق سے پرواز میں کوتاہی آتی ہو، اس رزق سے موت اچھی ہے“ لیکن رزق کے بغیر روز روز کا جینا ایک دائمی موت سے بہت زیادہ اذیت ناک ہے اور بندے کو خاک میں ملاتا نہیں خاک کر ضرور دیتا ہے۔

نوری کے ہاتھ کی بنی چوری کھا کر اپنا سب کچھ نرگس پر لٹا دینے والے ”دیدہ ور“ نہیں بن سکتے ہاں بے گھر ضرور ہو سکتے ہیں۔ نوری اگر جی حضوری سیکھ لے تو نرگس بن جاتی ہے ورنہ یاسیت کا شکار رہتی ہے اور سدا بیمار رہتی ہے۔

کبھی کبھی لگتا ہے کہ ہمارا آج کا نوجوان اس نتیجے پر پہنچ گیا ہے کہ نوری تو فقط ایک مجبوری ہے زندہ رہنے کے لیے بس نرگس ضروری ہے۔ بعض اوقات بندہ اپنی نوری سے دوری اور کسی کی نرگس کی جی حضوری میں اپنا آپ بھلا بیٹھتا ہے مگر ایک روز اسے پتہ چلتا ہے کہ وہ بندہ نہیں رہا، گندا ہو گیا ہے مگر جب وہ لٹ لٹا کر واپس آتا ہے تو نوری کو اپنا منتظر پاتا ہے۔ ہمارے ہاں نوری نہ طلاق لے سکتی ہے نہ دے سکتی ہے۔ نرگس طلاقیں کرواتی بھی ہے اور اتراتی بھی ہے۔

بجا ہے کہ ”اے پتر ہٹاں تے نہیں وکدے“ مگر نوری بھی تو جنت کا پھول ہے۔ اس کا خیال رکھنا بھی تو انسانیت کا پہلا اصول ہے۔ حکم خدا، حکم رسول ہے مگر کیا بد قسمتی ہے کہ معاشرے کا رویہ اس بابت فضول ہے اور بچیوں کی حق تلفی ہی ہر معاملے میں مروجہ اصول ہے۔

”دیدہ ور“ تو بہت بڑی ہستی ہوتا ہے۔ ہمارے چمن میں تو اب مناسب ”دھی دا ور“ بھی پیدا نہیں ہو رہا۔ کوئی ”دھی دا ور“ جس کو سسر ”نامور“ سمجھتا ہے ”جانور“ نکل آتا ہے۔ کبھی کبھی ”دھی دا ور“ لگتا بظاہر نور ہے نکلتا مگر ناسور ہے۔ یہ ”ور“ اکثر اوقات صرف ایک ”نر“ اور نری ”ٹر ٹر“ ہوتا ہے۔ نوری کے ذہن میں مگر صرف اگر مگر ہوتا ہے۔ باپ ساری زندگی اپنی ”نوری“ کو ادھوری اور غیر ضروری ہوتے دیکھتا رہتا ہے مگر کچھ کر نہیں پاتا۔ جس نوری کا باپ بچپن میں مر جائے وہ شادی کے بعد ہمیشہ اس فکر میں رہتی ہے کہ اب کس کے گھر جائے۔ ساری زندگی شوہر کے گھر میں رہتے ہوئے وہ بے گھر ہوتی ہے۔ نوری کا مقدر ہر پل کی اذیت ہوتی ہے وہ جانتی ہے کہ اگرچہ شوہر کا گھر بھی اس کا گھر نہیں تو دنیا میں اس کے لیے اور بھی کوئی دوسرا ”در“ نہیں۔

جس شخص کا مقدر اپنی نوری سے دائمی دوری ہے اس کی زندگی فقط ادھوری اور بے سروری ہے۔ کسی کی زندگی میں اگر اس کی نوری نہ ہوتی تو شاید یہ زندگی بھی اس کے لئے ضروری نہ ہوتی اور اسے زندہ رہنے کی اتنی مجبوری نہ ہوتی۔ دور کہیں اک دل ہر وقت اپنی نوری کے لئے روتا رہتا ہے اور وہ دیوانہ یہی سوچتا رہتا ہے کہ نوری کے ساتھ ایسا کیوں ہوتا ہے، ایسا کیوں ہوتا ہے۔

نوری یا نرگس، اس نسل کی نوری تو شاید اس کشمکش میں رہے اور کوئی فیصلہ نہ کر سکے مگر آئندہ نسل کی نوری اس کشمکش کا کیا فیصلہ کرے گی یہ بات اگرچہ آپ بھی جانتے ہیں اور میں بھی جانتا ہوں لیکن پھر بھی اس بابت آپ کی رائے کا انتظار رہے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے