EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

’’افغان باقی ،کہسار باقی ‘‘ والی حقیقت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ٹی وی میں دیکھتا نہیں۔ اپنے ذہن کو ففتھ جنریشن وار کے ذریعے پھیلائی گمراہی سے بچانے کے لئے چند باخبر محبان وطن کے یوٹیوب چینل البتہ بہت غور سے دیکھتا ہوں۔ میرے لئے خبروں اور خیالات کا بنیادی ذریعہ اخبارات کا وہ پلندہ ہے جو میرے اٹھنے سے پہلے ہی بستر پر موجود ہوتا ہے۔ ہمارے مقبول عام اخبارات میں نمایاں طورپر چھپی خبریں اور مضامین گزشتہ چند دنوں سے نہایت فخر و مان سے بتا رہے ہیں کہ بالآخر خود کو دُنیا کی واحد سپرطاقت کہتا امریکہ ماضی کی ایک اور سپرطاقت سوویت یونین کی طرح دم دبا کر افغانستان سے بھاگ رہا ہے۔ جن طالبان کو تسخیر کرنے وہ آج سے 20 سال قبل اس ملک میں داخل ہوا تھا غیر ملکی افواج کے انخلا کا عمل شروع ہوتے ہی اب ’’امارت اسلامی‘‘ کو بحال کرنے حیران کن سرعت سے کئی افغان صوبوں اور شہروں کو لوٹ رہے ہیں۔ افغان باقی کہسار باقی والی حقیقت ایک بار پھر اجاگر ہوگئی۔

امید ہے کہ افغانستان میں اپنی ذلت کے بعد امریکہ بندے کا پتر بن جائے گا۔ اپنے زخم چاٹتے ہوئے یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کرے گا کہ پاکستان کے موجودہ وزیر اعظم عمران خان صاحب کئی برسوں سے اصرار کر رہے تھے کہ افغانوں کو غلام بنانا ممکن نہیں۔ اپنی فوجوں کو وہاں سے نکالنے کے بعد امریکہ اگر افغانستان ہی نہیں بلکہ پورے خطے میں دائمی امن کا خواہاں ہے تو اسے عمران خان صاحب کی فراست سے عاجزانہ رجوع کرنا چاہیے۔ وگرنہ مزید ذلیل ورسوا ہوگا۔ ہمارے اصولی مؤقف کی جیت مجھ جیسے عام پاکستانی کو شاداں بنائے ہوئے ہے۔

ہمارے ہاں مگر قنوطی افراد کی بھی کمی نہیں ایک ڈھونڈنے نکلو تو ہزار مل جاتے ہیں۔ اتوار کے روز ایسے ہی چند افراد مجھے ایک ویڈیو کلپ بھیجتے رہے۔ آزاد کشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر اس کے ذریعے عمران حکومت اور اس کے بہی خواہوں کو للکارتے نظر آئے۔ مجھ سے تقاضہ ہوا کہ اس کلپ کے بارے میں کچھ لکھوں۔ براہِ راست جواب دینے سے لیکن میں نے گریز کیا۔ یہ کالم لکھنے بیٹھا ہوں تو خیال آیا کہ آزادکشمیر کی اسمبلی کے لئے انتخابی مہم جا ری ہے۔ بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز صاحبہ اپنی جماعت کے امیدواروں کے لئے ہوئے بڑے جلسوں سے خطاب کر رہے ہیں۔ وہ اپنے جلسوں میں عمران حکومت کے بارے میں جو بدکلامی کرتے ہیں حکومتی ترجمانوں کی فوج ظفر موج سخت ترین زبان میں اس کا حساب برابر کردیتی ہیں۔

بھارتی قبضے میں جکڑی وادیٔ کشمیر کے حالات پر میں کئی دہائیوں سے پیشہ وارانہ تقاضوں کی وجہ سے کڑی نگاہ رکھے ہوئے ہوں۔ آزادکشمیر کی سیاست کا لیکن مجھے ککھ علم نہیں۔ فقط 1986 کے انتخابات کے بارے میں میرپور اور مظفر آباد کے مختصر دوروں کے بعد کچھ لکھا تھا۔ مرحوم سردار عبدالقیوم خان کے کئی انٹرویو بھی کئے تھے۔ وہ مگر مسئلہ کشمیر کے حقیقی اسباب کا جائزہ لینے کے لئے ہوئے تھے۔ آزادکشمیر کے ایک اور سیاستدان بیرسٹرسلطان محمود سے تاہم بے تکلفی والے تعلقات رہے۔ میرے بھائی مشتاق منہاس کو بطور صحافی آزادکشمیر کی سیاست مجھے سمجھانے کا جنون لاحق رہا ۔ میں نے مگر توجہ ہی نہ دی۔ 2016 سے وہ خود بھی وہاں کی سیاست میں متحرک ہوچکا ہے۔ وزیر شذیر بھی بن گیا۔ اس کا صحافت سے سیاست کا رخ کرنے کے بعد میرا اس سے رابطہ نہ ہونے جوگا رہ گیا۔ ہمارے لاہور کی گلیوں میں کہتے ہیں:’’جا پت راوی نہ کوئی آوی نہ کوئی جاوی‘‘۔ مشتاق میرے لئے گویا ’’راوی‘‘ جا چکا ہے۔

آزادکشمیر کی سیاست اور انتخابی مہم میں عدم دلچسپی کا بنیادی سبب یہ بھی ہے کہ ہمارے ہاں کئی برسوں سے یہ طے ہو چکا ہے کہ وہاں ہوئے انتخابات میں وہی جماعت کامیاب ہوتی ہے جسے وفاقی حکومت کی سرپرستی میسر ہو۔ اسی باعث یہ فرض کر لیا گیا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری یا مریم نواز صاحبہ کچھ بھی کر لیں 25 جولائی 2021 کے دن ہوئے انتخاب میں تحریک انصاف ہی کامیاب ہوگی۔ پاکستان کے چند صحافی تاثر یہ بھی پھیلا رہے ہیں کہ بلاول بھٹو زرداری نے بالآخر دیوار پر لکھا پڑھ لیا ہے۔ انتخابی مہم کے درمیان لہٰذا امریکہ چلے گئے ہیں۔ وہاں جانا کیوں ضروری تھا؟ اس کے بارے میں بھی چہ مہ گوئیاں ہورہی ہیں۔ میں فی الوقت ان میں الجھنا نہیں چاہ رہا۔ مریم نواز صاحبہ اگرچہ اب بھی انتخابی مہم میں ڈٹی ہوئی ہیں۔ شاید ان کی دور کی نظر کمزور ہو گئی ہے۔ ان کے جلسوں کی کلپس بھی سوشل میڈیا پر وافر تعداد میں نظر آرہی ہیں۔

عمران خان صاحب انتخابی مہم کے آخری مراحل کے دوران وہاں جائیں گے۔ راولپنڈی کی لال حویلی سے اُٹھے بقراط عصر بھی غالباََ ان کے ہمراہ ہوں گے۔ آزادکشمیر جانے سے قبل ہی اگرچہ وہ تواتر سے اصرار کررہے ہیں کہ انتخاب کے نتیجے میں وہاں تحریک انصاف کی حکومت کا قیام یقینی ہے۔ ان کی پیش گوئیاں اکثر درست ثابت ہوتی ہیں اور ٹھوس حقائق تک رسائی کے بغیر بحث میں اُلجھنے کی مجھے عادت نہیں۔

ذات کا رپورٹر ہوتے ہوئے اگرچہ یہ کہنے کو مجبور محسوس کررہا ہوں کہ ہمارے ہاں واقعتا ’’صحافت‘‘ نام کی شے باقی رہ گئی ہوتی تو ٹی وی سکرینوں اور یوٹیوب پر چھائے ’’ذہن سازوں‘‘ میں سے چند اپنے سٹوڈیوز اور گھروں کی راحت سے باہر نکل کر آزادکشمیر جاتے۔ صحافیانہ تجسس یہ جاننے کے لئے بھرپور انداز میں استعمال کیا جاتا کہ وہاں کے انتخابات میں وہی جماعت ہر صورت کیوں کامیاب ہوتی ہے جسے وفاقی حکومت کی سرپرستی میسر ہوتی ہے۔ سیاست میں سنا ہے کہ ’’ثبات‘‘ فقط ’’تغیر‘‘ کو نصیب ہوتا ہے۔ 25 جولائی کے انتخاب کے بعد نواز شریف کے نام سے منسوب مسلم لیگ کی جگہ تحریک انصاف کی حکومت کا قیام ایک حوالے سے یقینا ’’تغیر‘‘ یا ’’تبدیلی‘‘ محسوس ہوں گے۔ ممکنہ نتائج مگر اس پرانی کہانی کا اثبات بھی تو ہوں گے کہ آزادکشمیر کے انتخاب میں وہی جماعت کامیاب ہوتی ہے جو وفاق میں بھی برسراقتدار ہوتی ہے۔ آزادکشمیر کے ووٹرو مذکورہ روش اپنائے رکھنے کو کیوں مجبوری محسوس کرتے ہیں۔ وہ ’’روایت‘‘ بدلنا کیوں نہیں چاہتے۔

پاکستان کے صوبے عرصہ ہوا مذکورہ روایت کو ترک کر چکے ہیں۔ آبادی کے اعتبار سے ہمارے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں 1988 سے اس کا آغاز ہوا۔ تاریخ نے خود کو اس صوبے میں 2008 میں بھی دہرایا۔ اس برس سے آج تک سندھ میں بھی پیپلز پارٹی ہی صوبائی حکومت تشکیل دے رہی۔ وفاق میں اگرچہ اس دوران مسلم لیگ (نون) اور تحریک انصاف برسراقتدار رہی۔ خیبر پختون خواہ میں بھی اکثر وفاقی حکومت کی خواہشات کے برعکس صوبائی حکومتوں کا قیام عمل میں آتا رہا ہے۔ آزادکشمیر میں ایسا کیوں نہیں ہوتا یا ہوسکتا۔ میرے پاس اس سوال کا جواب ہرگز موجود نہیں ہے۔ برسرزمین حقائق سے لاعلمی اس کا بنیادی سبب ہے۔ بڑھتی عمر نے اگر توانائی سے بتدریج محروم نہ کردیا ہوتا تو آزادکشمیر میں چند دن گزارتے ہوئے اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش کرتا۔ میری شدید خواہش ہے کہ چند نوجوان رپورٹر اس ضمن میں میری رہ نمائی فرمائیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے