EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

اسلام آباد ویڈیو تشدد کیس: ملزمان کے خلاف جنسی زیادتی اور بھتہ خوری سمیت نئی دفعات شامل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈی آئی جی آپریشنز اسلام آباد افضال احمد کا کہنا ہے کہ لڑکے اور لڑکی پر تشدد کیس میں گرفتار ملزمان کے خلاف نئی دفعات شامل کر رہے ہیں۔ ڈی آئی جی آپریشنز افضال احمد نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ اسلام آباد میں لڑکے اور لڑکی کو تشدد کا نشانہ بنانے والے اب تک 6 ملزمان گرفتار ہیں جن میں عثمان مرزا شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ لڑکے اور لڑکی کا بیان ریکارڈ کر لیا ہے۔ بیان کے بعد مزید دفعات شامل کی جا رہی ہیں۔ ملزمان عثمان مرزا کے تمام موبائل فون برآمد کر لیے گئے۔ ڈی آئی جی آپریشنز نے بتایا کہ کیس کے تمام محرکات کو حل کر رہے ہیں۔ عثمان مرزا کے خلاف تھانہ سہالہ میں مقدمہ درج کیا ہے۔ موبائل فرانزک کے لیے بھیجے گئے ہیں جس سے ویڈیو کی تفصیل سامنے آئے گی۔

ڈی آئی جی آپریشنز افضال احمد کوثر نے اپنے دفتر پولیس لائنزہیڈ کوارٹرز میں ایس ایس پی انویسٹگیشن عطاء الرحمن اور ایس ایس پی آپریشنز سید مصطفی تنویر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مزید کہا کہ اس کیس میں کچھ نئے حقائق سامنے آئے ہیں ان حقائق کی روشنی میں ایف آئی آر میں کچھ نئی دفعات کا اضافہ کیا جا رہا ہے،ان دفعات میں 375A,375D PPC,384 PPC, 342 PPC,114 PPC,395 PPC, 496A  377B شامل ہیں، اب یہ کیس مزید مضبوط اور موثر ہو گا۔

مرکزی ملزم عثمان مرزا کے خلاف تھانہ سہالہ میں ایک مقدمہ درج ہے۔ ان ملزمان کا اگر کوئی اور متاثرہ شخص ہے تو اسے بھی پولیس سے رابطہ کرنا چاہئے۔ ڈی آئی جی نے بتایا کہ متاثرہ لڑکے اور لڑکی کے مطابق ملزم عثمان مرزا نے ان سے بھتہ بھی لیا۔ ویڈیو کس نے سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی، اس پر تفتیش کی جا رہی ہے۔ ملزم عثمان مرزا کا بھائی بھی اس کیس میں ملوث ہے جس کی گرفتاری کے لئے ٹیمیں کام کر رہی ہیں۔ ویڈیو کس نے لیک کی اس سے متعلق ایف آئی اے سے رائے لی جا رہی ہے۔

انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ گرفتار ملزمان کی پشت پناہی کرنے کے حوالے سے جو بھی شواہد سامنے آئیں گے ان کی روشنی میں کارروائی ہو گی۔ اس کیس میں جو دفعات شامل ہیں ان کی روشنی میں سزائے موت سے عمر قید تک کی سزائیں ہو سکتی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے