EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

حسنین جمال المعروف داڑھی والا کے ساتھ ملتان میں ایک غیر روایتی ادبی نشست کا احوال

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کچھ ماہ ہوتے ہیں ”کتاب چہرہ“ پر معروف اشاعتی ادارے بک کارنر جہلم کے پیج پر ایک کتاب کے چند منتخبات نظر نواز ہوئے، عام طور پر ہمارا مزاج ایسا نہیں کہ ناشر حضرات کی طرف سے ان کی اپنی شائع شدہ کتب کی بابت تعارفی لائنیں بالاستعیاب پڑھتے پھریں لیکن یہاں معاملہ یکسر مختلف تھا۔ اس تحریر میں کچھ ایسا تھا جس نے ہماری بصارت کو وہیں جکڑ لیا۔ تذکرہ مصنف موصوف نے اپنے بچپن کا کیا تھا اور بچپن کی بابت آپ سبھی جانتے ہیں کہ بچپن کی شرارتیں، مختلف لوگوں اور جگہوں کی یادیں، بچپن کے سبھی موسموں کے مختلف رنگ اور ذائقے انسان کو تاعمر ہانٹ کرتے ہیں سو ہمارے ممدوح نے بھی اپنی بچپن کی انھی یادوں کو صفحہ قرطاس پر منتقل کیا تھا، تحریر تکلف سے یکسر عاری، بھاری بھرکم الفاظ، تراکیب اور اصطلاحات سے مبرا سیدھی سادی اور رواں دواں تھی۔ گویا کہ فاضل مصنف حضرت ذوق کے مسللک و مشرب کے پیرو ہوں :

اے ذوق تکلف میں ہے تکلیف سراسر
صاحبو! باور کیجیے وہ چند سطور پڑھ کر اپنی جو کیفیت ہوئی وہ کچھ ایسی ہی تھی:
میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے!

ہوتا عموماً ایسے ہی ہے کہ جب کوئی تحریر آپ کو کچھ ایسے اپنی گرفت میں لے اور اس طرح سے آپ کا احاطہ کر لے کہ آپ اسی میں ہی جینا شروع کر دیں اور خود کو اس کے ساتھ اس طرح ریلیٹ کر لیں کہ گویا مصنف اپنی نہیں آپ ہی کی بات کر رہا ہے تو ایسی تحریر تادیر زندہ رہنے والی تحریر ہوا کرتی ہے۔ اس تحریر کی بابت اپنا پہلا تاثر یہی تھا کہ یار یہ بندہ تو اپنی نہیں ہماری بچپن کتھا سنا رہا ہے۔ یہ تھا داڑھی والے سے ہمارا پہلا تعارف!

کتاب کا نام دیکھا، پہلے پہل کچھ عجیب سا لگا کہ ایں یہ بھلا کیا نام ہوا! سرورق پر تصویر بھی خاصی بارعب بلکہ خاصی رومینٹک سی تھی اور بادی النظر میں تصویر پر گروجنیش اوشو، مارکس یا کسی سردار جی کا گماں ہوتا تھا لیکن یہ صاحب حسنین جمال تھے یعنی داڑھی والے!

تصویر اور نام سے کچھ کچھ یاد آیا کہ اغلبا ”ہم سب بلاگ“ پر انھیں کبھی دیکھا ہے اور پھر بعد میں اس کی تصدیق بھی ہو گئی۔ کتاب بک کارنر نے زیور طبع سے آراستہ کی تھی اور کتاب کی عمدہ اور دیدہ زیب طباعت سے ہمیں ارباب بک کارنر امر شاہد اور گگن شاہد کے ذوق لطیف کا قائل ہونا پڑا۔ کتاب کے فلیپ پر محترم عامر ہاشم خاکوانی اور یاسر پیرزادہ کی آراء درج تھیں اور افتتاحیہ علی اکبر ناطق ایسے باکمال افسانہ نگار اور ناول نگار کا تھا اور پھر ”ہم سب“ پر متواتر شائع ہونے والا لکھاری!

بظاہر مجموعہ اضداد معلوم ہوا کہ میاں ان حضرت کی تو کوئی سی کل سیدھی نہیں، چھپتے ”ہم سب“ ایسے پروگریسیو فورم پر ہیں لیکن فلیپ عامر خاکوانی صاحب ایسے دائیں بازو کے معروف کالم نگار اور دانش ور سے لکھواتے ہیں۔ اتنا تو اندازہ ہو گیا کہ صاحب سبھوں کو خوش رکھنے کا فن جانتے ہیں اور ساتھ ہی یہ تسلی بھی کہ یہ درویش بے گلیم یقیناً کسی مخصوص فکری و نظریاتی سانچے میں خود کو مقید کر کے نہیں رکھتا تبھی اس کے لیے فکری و نظریاتی بعد رکھنے والوں کے یہاں یکساں قبولیت ہے!

سو یہ احوال ہے محترم حسنین جمال المعروف داڑھی والے سے ابتدائی تعارف کا!

کچھ دن یوں ہی گزر گئے اور پھر ایک دن پتہ چلا کہ درویش نگر نگر شہر شہر گھوم پھر کر نوجوانوں اور اپنے محبت کرنے والوں سے ملنے کا ارادہ رکھتا ہے اور غالباً اس سلسلے کا پہلا اکٹھ باغ جناح لاہور میں ہونا قرار پایا۔ یہ ہمارے لیے ایک مزید چونکا دینے والی بات تھی کہ کبھی اس سے پہلے کسی لکھاری کو اس طرح غیر رسمی، غیر روایتی، تکلفات سے مبرا نشستوں کا اہتمام کرتے نہیں دیکھا تھا۔ دل پر درویش کی سادگی نقش ہو گئی!

کیونکہ ہمارے اس عہد میں تو کچھ ایسی رسم چلی ہے کہ نومولود و نوزائیدہ لکھاری بھی اپنے لیے باقاعدہ پرتکلف اور رکھ رکھاؤ والی بھاری بھرکم ادبی تقریبات کا اہتمام کرتے کراتے نظر آتے ہیں اور پھر مستزاد ان نونہال ادیبوں کی یہ معصوم خواہش کہ جو صاحب بھی اسٹیج پر آئیں تو ان کی کتاب کی تعریف و توصیف میں ہفت آسمان کے تارے توڑ کر لائیں۔ لیکن یہاں ایسا کچھ دیکھنے میں نہیں آیا۔ دل میں تب تک یہ خیال تو پختہ ہو چکا تھا کہ یار یہ داڑھی والا ذرا وکھری ٹائپ کا بندہ لگتا ہے اور واقعی یہ کتاب پڑھنے لائق ہے۔ کچھ ہفتے مزید گزرے اور گزشتہ دنوں اچانک ایک پوسٹ نظر سے گزری کہ داڑھی والا ملتان گول باغ میں منڈلی جمانے آ رہا ہے۔ فوراً تہیہ کر لیا کہ میاں کچھ ہو جائے، اب تو اس بندے سے ملنا ہی پڑے گا، فوراً اس پوسٹ پر اپنا خیر مقدمی کمنٹ کیا۔

بروز جمعہ قریباً ساڑھے چھ بچے گول باغ گلگشت ملتان کی طرف عازم سفر ہوا تو دیکھا منڈلی جمی ہے، جینز کی پینٹ اور کرتا پہنے درویش محو کلام ہے اور مختلف عمروں کے اکثر مرد اور چند خواتین انہماک سے گفتگو سن رہے ہیں۔ گاہے کسی بات پر کوئی شریک محفل شگفتہ سا تبصرہ کرتا ہے تو محفل میں قہقہہ پھوٹ پڑتا ہے، ٹین ایجر نوجوانوں سے لے کر پختہ عمر کے حضرات تک سبھی محفل میں موجود ہیں، درویش کے قریب ہی پینٹ شرٹ میں ملبوس سرخ و سپید رنگت کے ایک باوقار سے صاحب تشریف فرما ہیں، پتہ چلا کہ درویش کے والد محترم یاسین جمال صاحب ہیں جو اپنے مخصوص انداز میں درویش کی باتوں کی اکثر و بیشتر تائید اور ایک آدھ جگہ پر محبت بھری گرفت کرتے نظر آتے ہیں۔

شرکاء کے سوالات بھی ساتھ ساتھ چل رہے ہیں اور کہیں سے ایک آدھ جملہ بھی محفل کو کشت زعفران بنائے دے رہا ہے۔ گویا ملتان کی اس گرم سہ پہر میں گرمئی محفل بھی اپنے پورے جوبن پر تھی۔ قریب قریب تیس پینتیس لوگوں کا اکٹھ تھا جو بہرحال اس گرمی میں ایک عوامی مقام پر حیرت انگیز بات تھی۔ یقیناً یہ داڑھی والے سے اس کے قارئین اور چاہنے والوں کی محبت تھی جو انھیں کشاں کشاں گول باغ کھینچ لائی تھی۔ ملتان کے معروف کالم نگار اور ادیب محترم سجاد جہانیہ صاحب سے بھی اس محفل میں سلام دعا ہوئی۔

اس مجلس کا تسلسل تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد اس وقت ٹوٹتا جب مختلف لوگ واپس جانے کے لیے درویش کے ساتھ تصویر بنوانے کے خواہاں ہوتے، اسی دوران مختلف احباب اپنے اپنے نسخوں پر درویش سے دستخط بھی کرا رہے تھے اور درویش مسلسل اس چہار عمل میں مصروف تھا، پہلا یہ کہ نوواردان کے ساتھ ملنے کے لیے اس نشست سے کھڑا ہونا اور انھیں ملنا اور ان کا خیر مقدم کرنا، دوسرا مختلف احباب کے کتابی نسخوں پر اپنے دستخط ثبت کرنا، تیسرا گفتگو کا تسلسل پھر وہیں سے جوڑنا جہاں سے سلسلہ کلام منقطع ہوا تھا اور چوتھا رخصت لے کر جانے والے احباب کے ساتھ تصاویر بنوانا۔

اس سارے منظرنامے کو دیکھ کر ہمارے حیطہ خیال میں مجید امجد کی شہرہ آفاق نظم ”آٹوگراف“ کی اختتامی لائنیں آ گئیں جہاں شاعر کرکٹ کے ایک معروف کھلاڑی کے گرد حسیناؤں کے جھرمٹ کو دیکھتا ہے جو اس سے آٹوگراف لینے کے لیے اسے گھیرے ہوئے ہیں اور پھر آخری لائنوں میں اپنی تنہائی، ناپذیرائی و ناقدری کا شکوہ کچھ یوں کرتا ہے :

میں اجنبی، میں بے نشاں
میں پابہ گل
نہ شہرت دوام ہے، نہ رفعت مقام ہے
یہ لوح دل، یہ لوح دل
نہ اس پہ کوئی نقش ہے
نہ اس پہ کوئی نام ہے!

کاش مجید امجد اس عہد میں ہوتے تو دیکھتے کہ اب ادیب اور لکھاری بھی سلیبریٹیز میں شمار ہوتے ہیں، یقیناً اس میں سوشل میڈیا کا بہت بڑا کردار ہے۔

شام بھیگ چکی تھی، ملتان کی ایک گرم سہ پہر نے معتدل شام کا لبادہ اوڑھ لیا تھا، گول باغ میں شام کے دھندلکوں کے رتھ اترنا شروع ہو گئے تھے لیکن گرمئی محفل میں سر مو فرق نہ آیا تھا! ہاں یہ ضرور تھا کہ منڈلی قدرے مختصر ہو گئی تھی۔ درویش نے پرسنل سپیس پر اپنی کتاب سے ایک منتخب حصہ قرات کیا۔ راقم اور دیگر احباب نے درویش کے ساتھ تصاویر بنوائیں اور یوں ایک خوبصورت محفل اپنے اختتام کو پہنچی۔ شرکاء کے نہاں خانہ دل پر درویش کا خلوص، عجز و انکسار، سادگی اور محبت ثبت ہو چکا تھا!

 

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے