ملالہ کا مزار نہیں بن سکا

ملالہ کا مزار نہیں بن سکا، ملالہ بچ گئی، اس لیے وہ سب فراموش کر دیا جائے گا کہ جب وہ تعلیم کے لیے خاص طور پر لڑکیوں کی تعلیم کے لیے مسلسل جد و جہد کر رہی تھی، اس وقت جب کہ طالبان لڑکیوں کے اسکول پر بمباری کر رہے تھے۔ تب بھی وہ کتابیں ہاتھ میں لے کر اسکول جاتی رہی۔ اس سے کہا گیا کہ طالبان لڑکیوں کی تعلیم کے دشمن ہیں۔ اسے یونی فارم میں اسکول نہیں جانا چاہیے۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ اسکول جیسی مقدس جگہ جانے کے لیے مکر نہیں کرے گی۔ اس کی سہیلیاں بھی اس کے ہم قدم تھیں۔ طالبان نے اس باغی لڑکی کو خاموش کر نے کے لیے اس کے سر میں گولیاں ماریں۔ اس وقت پوری قوم صدمے میں ڈوب گئی۔ اس کے بچنے کے چانس معدوم ہوتے جا رہے تھے۔ تب خصوصی طیارے کے ذریعے اسے برطانیہ بھیجا گیا۔
اور جیسے جیسے وہ زندگی کی جانب لوٹنے لگی۔ عقل سے فارغ لوگوں کو اچانک اس میں سازش نظر آنے لگی۔ چہ مگوئیوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ ہمیں سانس لیتے ہیرو قبول نہیں۔ مٹی ڈالنے کے بعد ہی ہمیں اوصاف نظر آتے ہیں۔
ملالہ پاکستان کا فخر ہے۔ درسی کتابوں میں موجودہ حکمران کی تصویر، کار ناموں کے ساتھ شائع کی جا سکتی ہے، لیکن دنیا بھر سے اپنی صلاحیت اور ہمت کا اعتراف کروانے والی کی تصویر درسی کتاب میں شائع نہیں ہو سکتی۔ کہیں بچے مطالعہ پاکستان میں ایک زندہ، حقیقی زیور تعلیم سے آراستہ لڑکی سے متاثر نہ ہو جائیں۔ کوئی ایک سچ بھی ان کا شعور اجاگر کر سکتا ہے۔ ملالہ ایک حقیقت ہے، حقائق چھپانے کے لیے ہوتے ہیں۔ چھاپنے کے لیے نہیں۔
درسی کتاب میں تصویر و تعارف کا اہل ہونے کے لیے اہل مزار یا اہل اختیار ہونا ضروری ہے۔ ایدھی صاحب کا نام نہ لیں تو اچھا ہے۔ اچھے وقتوں میں درسی کتب میں باتصویر ذکر خیر بھی ہوا، چوں کہ اب تصویر ہو ہی گئے ہیں، اس لیے تصویر دینے میں حرج بھی نہیں، ورنہ زندگی میں اور وفات کے فوراً بعد ان کی کس انداز سے مخالفت کی گئی سب جانتے ہیں۔
خیر ابھی حکومت کے کرنے کو بہت سے ایسے کام ہیں جن کا مطالبہ وہ اپوزیشن میں رہ کر کرتی رہی ہے۔
اب موقع ہے کہ بڑوں کی طرح بچوں کو بھی ٹک ٹاک، ٹک ٹاک، اسنیک اسنیک میں مشغول رکھ کر طالبان کے استقبال کی تیاری کی جائے۔

