EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

بلدیاتی حکومتیں جمہوریت کی نرسریاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بلدیاتی حکومتیں ایک محدود علاقے میں اقدامات کا تعین اور ان پر عمل درآمد کا اختیار رکھتی ہے۔ مقامی حکومت کا نظام تمام جمہوری ممالک میں مختلف ناموں سے نافذ ہے۔ یہ نظام نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ مقامی حکومت فیصلہ کرنے اور اس پر عمل کرنے کے لئے علاقے میں آزاد ہوتی ہیں۔ بلدیاتی حکومتوں کو جمہوریت کی نرسریاں کہا جاتا ہے۔ کیوں کہ ان اداروں کے ذریعے سے لیڈرشپ ابھر کر آتی ہے۔ یہاں جمہوریت کے رموز اوقاف سے آشنائی حاصل ہوتی ہے۔

بہت سے ممالک میں بلدیاتی انتخابات ہوتے ہیں۔ مختلف ممالک میں لوکل گورنمنٹ کے ادارے بہت مختلف ہوتے ہیں۔ ہر ملک میں مختلف اصطلاحات استعمال ہوتی ہیں۔ مقامی سرکاری اداروں کے نامزد کردہ مشترکہ ناموں میں ریاست، صوبہ، علاقہ، کنٹونمنٹ بورڈ، ، کاؤنٹی، صوبہ، ضلع، شہر، بستی، قصبہ، برو، ولیج یا نیبرہڈ کونسل، تحصیل کونسل، پیرش، بلدیہ، شائر، گاؤں، وارڈ، لوکل سروس ڈسٹرکٹ اور لوکل گورنمنٹ ایریا شامل ہیں بلدیاتی اداروں کا رواج انیسویں صدی میں وجود میں آیا۔

جب جمہوری نظام کے اختیارات کے استعمال کے حوالے سے مرکزیت اور علاقائیت کے نام پر اختیارات کے استعمال کے حوالے سے بحث و مباحثہ کا آغاز ہو گیا۔ بلدیاتی حکومتیں بنیادی طور پر اختیارات کی نیچے سطح تک منتقلی کا نظام ہے۔ یہ مقامی سطح پر عوامی نمائندگی کا نظام ہے جہاں فیصلہ کرنے کا اختیار مقامی طور پر منتخب افراد کی کونسل کو حاصل ہے جو خود عہدیداروں کے ساتھ ان کی صوابدید پر عمل کرتے ہیں اور وہ خود آزادانہ طور پر تقرری اور نظم و ضبط رکھتے ہیں۔

جمہوری نظام کی تکمیل کے لیے بلدیاتی اداروں کا فعال ہونا بہت ضروری ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان میں ہمیشہ غیر جمہوری حکومتوں نے بلدیاتی انتخابات کروائے ہیں۔ پہلی بار ملک میں جنرل ایوب خان نے متعارف کروایا۔ 1958 ء میں ایوب دور کے مارشل لا ء کے نفاذ کے بعد مقامی حکومت میں خود اختیاری کے میدان میں کئی اقدام کیے گئے اور اس سلسلہ میں سی۔ ڈی۔ او 1959 ء میونسپل ایڈمنسٹریشن آرڈیننس 1960 ء مسلم فیملی لا ء آرڈیننس اور مصالحتی عدالتوں کے آرڈیننس پاس کیے گئے۔

ان قوانین کے نفاذ کے بعد پہلے کے تمام قوانین منسوخ کر دیے گئے اور لوکل گورنمنٹ نظام کا نیا ڈھانچہ مذکورہ بالا قوانین کی روشنی میں تیار ہوا۔ اس نئے نظام کو ”بنیادی جمہوریتوں“ کا نام دیا گیا جنرل ایوب خان نے مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان سے 70 ہزار کے قریب ممبران کا انتخاب کیا۔ جنرل ایوب خان کے حکومت کے خاتمے کے ساتھ ہی 1969 میں بلدیاتی حکومتیں ختم ہو گئی۔ دوسری بار جنرل ضیاء الحق نے 1980 میں بلدیاتی انتخابات کروائے۔

جو جنرل ضیاء الحق کے ساتھ ہی 1988 میں ختم ہو گئے۔ تیسری بار 2002 میں جنرل پرویز مشرف نے انتخابات کروائے۔ جنرل پرویز مشرف نے دوبار بلدیاتی انتخابات کروائے۔ پھر تیسری بار سپریم کورٹ آف پاکستان کے دباؤ کی وجہ سے 2014 میں بلدیاتی انتخابات کروائے گئے۔ افسوس کہ پاکستان میں تمام سیاسی جماعتیں بلدیاتی انتخابات کو ملتوی کروانا چاہتی ہیں۔ 2019 میں بلدیاتی حکومتیں ختم ہو گئی اور قانون کے مطابق 120 دنوں میں انتخابات کروانا لازمی اور ضروری ہے۔

لیکن دو سال گزرنے کی باوجود کسی بھی صوبے نے بلدیاتی انتخابات نہیں کروائے۔ بلکہ جمہوریت اور بلدیاتی انتخابات کی چیمپئن جماعت پاکستان تحریک انصاف کی خیبرپختونخوا میں قائم حکومت نے گزشتہ سال پنڈامک اینڈ ایمرجنسی آرڈننس کے ذریعے دو سال تک بلدیاتی انتخابات ملتوی کر دیے۔ جو کہ نہ صرف قانون کی خلاف ورزی بلکہ بنیادی جمہوری روایات کے خلاف ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ملک میں جمہوریت کی بنیادی نرسریوں کو پھلنے پھولنے کا موقع نہیں ملا۔ لہذا سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات کے مطابق فوری طور پر ملک بھر کے تمام صوبوں میں بلدیاتی انتخابات کروانا وقت کی ضرورت ہے تاکہ ہر شہری کو گھر کے دہلیز پر سہولیات کی فراہمی ممکن ہو سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے