EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

پاکستانی سقراط اور بقراط

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سقراط اور بقراط دو بھائی تھے، بڑے لائق فائق اور قابل تھے۔ سقراط نے سچ اور حق کی تلاش کا فیصلہ کیا اور اس تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔ اپنی اس خواہش کی تکمیل کے لیے اس نے صحافت کے میدان میں قدم رکھنے کا فیصلہ کیا کیونکہ صحافت ہی ایک ایسا پیشہ ہے جس کے ذریعے سچ کو تلاش کیا جا سکتا ہے اور دوسروں تک پہنچایا جا سکتا ہے تاکہ قوم میں آگاہی اور شعور پیدا ہو۔ اس نے اپنے کام کا آغاز ایک لوکل اخبار سے کیا اور موٹر سائیکل پر سوار ہو کر سرکاری دفاتر کے چکر لگانے شروع کیے اور ہر طرف اپنے جاسوس پھیلا دیے۔

اس کا ہدف سرکاری ملازمین تھے اور وہ دفاتر سے رشوت ستانی ختم کر دینا چاہتا تھا۔ اس لیے اس نے اپنی پہلی سٹوری لکھی اور اخبار میں بھیجنے سے پہلے اس سرکاری ملازم کو بھیج دی اور اس کے بعد سے آج تک وہ سٹوری اخبار میں شائع نہیں ہوئی۔ آج سقراط صاحب ترقی کرتے کرتے ٹی وی کے ایک بڑے چینل پر اینکر بن گئے ہیں اور قوم کو سچ اور جھوٹ کا فرق بتا رہے ہیں۔ دوسرے بھائی بقراط نے طب کا شعبہ اپنانے کا سوچا تاکہ وہ لوگوں کی بے پناہ خدمت کر سکیں اور طب کے میدان میں نئی جدت، علم کا اضافہ کرنے کا باعث بنیں۔

بقراط صاحب نے ایف ایس سی کی لیکن کچھ نمبر سے ان کا میرٹ نہ بن سکا۔ پھر ایف ایس سی کا دوبارہ امتحان دیا تاکہ نمبر بڑھ جائیں اور ان کا میرٹ بن سکے لیکن قدرت کی کرنی ایسی ہوئی کہ نمبر پہلے سے بھی کم آ گئے اور وہ شدید مایوسی میں گر گئے۔ ان کا اپنا طب کے میدان میں جانا کھٹائی میں پڑتا نظر آنے لگا۔ پھر ایک دوست نے ان کو چائنا سے ایم بی بی ایس کرنے کا مشورہ دیا جو کہ ان کو بہت پسند آیا۔ سستا سستا، پیارا پیارا ایم بی بی ایس آسانی سے ہو جائے گا۔

پھر جناب بقراط صاحب طب کی تعلیم کے لیے چائنا تشریف لے گئے۔ انہوں نے خوب دل لگا کر چائنا میں تعلیم حاصل کی تاکہ واپس آ کر وہ اپنے ملک کی بھرپور خدمت کر سکیں اور طب کے میدان میں نئے جھنڈے گاڑ سکیں۔ چین سے تربیت حاصل کرنے کے بعد آپ پاکستان تشریف لے آئے۔ یہاں آ کر ہاؤس جاب کی اور پھر ایک تگڑی پرچی کی مدد سے سرکاری ڈاکٹر ہو گئے۔ ساتھ کے ساتھ آپ نے اعلیٰ تعلیم کا سفر جاری رکھا اور ایف سی پی ایس کر لیا۔

کچھ عرصے بعد انہوں نے سرکاری نوکری کو لات ماری ہے کہ وقت کا ضیاع ہے۔ بچت وغیرہ تو کچھ ہوتی نہیں اور اپنا پرائیویٹ ہسپتال کھول لیا اور آج کل وہ چلا رہے ہیں اور امیر مریضوں کی مہنگے داموں خدمت کر رہے ہیں۔ انہوں نے طب کے شعبے میں نئے ریکارڈ قائم کیے ہیں کیونکہ آج ان کا ہسپتال پاکستان کا مہنگا ترین ہسپتال ہے۔ سقراط اور بقراط جب رات کو بیٹھتے ہیں تو اپنی علمیت اور قابلیت پر فخر کرتے ہیں اور عوام کو بے وقوف مانتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے