EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

تحریک انصاف کی پچھتر سالہ حکومت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شیخ رشید فرماتے ہیں کہ آئندہ بیس سال تک تحریک انصاف کی حکومت ہو گی۔ اپنی جملہ مضحکہ خیز طبیعت و شخصیت کی باوجود مجھے تو ان کی یہ کئی ہزارویں پیشین گوئی بالکل درست محسوس ہوتی ہے۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ محترم شیخ رشید صاحب روحانیت اور طریقت کے رموز و اسرار جاننے والے شیخ ہیں۔ ان کی بات کا عامیانہ معنی لینا نری جہالت ہے۔ اس میں کئی معرفت کے زمزمے بہتے ہیں۔ کئی سربستہ راز دفن ہوتے ہیں۔ اگلے بیس سال کی پیشین گوئی بھی ایسی ہی ہے۔

تحریک انصاف کی حکومت سے مراد وہ حکومت نہیں جو ایک مبینہ وزیراعظم سے شروع ہو کر وزارت موسمیات سے گزرتی وزارت مواصلات پہ ختم ہو جاتی ہے۔ بلکہ یہ وہ جہان حیرت ہے جہاں ہر روز مداری کی ٹوپی سے نیا کبوتر برامد ہوتا ہے کبوتر کی ملگجی رنگت ایسی ایسی نئی جہت لیے ہوتی ہے کہ ناظر دیدے پھاڑ پھاڑ روہانسا ہوا چلا جاتا ہے۔ حالیہ کرامت یہ ہوئی کہ پنجاب کے سب سے بڑے ڈاکو کا بیٹا وزیر آبی وسائل بن جاتا ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت وہ آفاقی حکومت ہے قریب ساڑھے سات دہائیاں قبل قائم ہوئی اور سیکڑوں قیامتیں گزریں کیسے کیسے شعلہ بار مقرر آئے کیسی کیسی شخصیات گزریں لیکن حکومت ہنوز قائم ہے۔

تحریک انصاف کی حکومت تو در حقیقت اسی روز قائم ہو گئی تھی جب برطانوی سامراج کے زیر سایہ پروان چڑھنے والے جاگیردار نظام کا لازم حصہ ٹھہرے۔ وقت کے بہتے دھارے میں اس مستقل حکومت کے حصے داروں میں گوہر ایوب اور اعجاز الحق جیسے صاحبزادگان بھی شامل ہوئے۔ اور دنیا کی عجوبہ روزگار لبرل تنظیم ایم کیو ایم بھی۔ اب ایوب خان کی ترقی کی بگٹٹ شاہراہ پہ بھاگتا پاکستان ہوں یہ حکومت قائم و دائم نظر آتی ہے، یحییٰ خان کا رنگ و نور میں ڈوبا پاکستان بھی اسی تحریک انصاف کی حکومت کا امین ٹھہرا اور اس حکومت کو گرانے کے خواہش مندوں کو ہم نے خلیج بنگال کے اس پار کاٹ پھینکا، کہانی یہاں تک تھی کہ قائد عوام کی عوامی حکومت بھی تحریک انصاف کی حکومت ختم نہ کر سکی جتوئی اور کھر صاحب جیسے نابغے اس حکومت کے نورتن بنے۔

پھر مرد مومن اور مرد حق ضیا الحق کے دور میں پھریرے لہراتا تحریک انصاف کا انقلابی عہد براہ راست دشمنوں کے سینے پر مونگ دلتا رہا۔ اگرچہ نوے کی دہائی سے قبل یہ حکومت یہ حکومت بہاولپور کے نزدیک شعلوں میں جلتی فیصل مسجد مدفون ہو گئی۔ لیکن اس کا آسیب ایوان صدر میں ایسا جا کر بیٹھا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے نوے کی دہائی دشمنوں کو دھوبی پٹکے دیتے گزار دی۔ پھر بارہ اکتوبر ننانوے ایک بار پھر تحریک انصاف کی حکومت پورے طمطراق سے روشن خیالی اور پاکستانی ساختہ مصطفیٰ کمال سے پاکستان کو بقعہ نور کرتی رہی۔

اس کے بعد کی تاریخ دوہرانے کی ضرورت لیکن تحریک انصاف کی حکومت کراچی کے نفیس سیاستدانوں کی شکل میں ہو صاحبزادگان ایوب و ضیا کی شکل میں ملتان کے ولی عصر یا پھر گجرات کے شیرشاہ سوریوں کی شکل میں متواتر قائم و دائم ہے۔ اور اس پہ پاکستان کی حقیقی محب وطن عقابی نگاہیں رکھے ہیں۔ تو قرائین تو یہی بتاتے ہیں کہ تحریک انصاف کی حکومت کا یہ ازلی بندوبست ایسے ہی جاری و ساری رکھنے کی شدید خواہش متعلقہ ذمہ داران کے ہاں موجود ہے۔

سو ہمارے شیخ جی ایسے بھولے تو نہیں کہ جس تحریک انصاف کو اپنا وزیر داخلہ اور وزیر خزانہ تک لگانے کی اجازت نہ ہو اس کی حکومت کو رائج تسلیم کریں۔ لیکن یہ خیال رہے کہ اب تحریک انصاف کی حکومت اور پاکستان اکٹھے نہیں چل سکتے۔ اب اس دھرتی میں مزید بوسیدہ نظام کو سہارنے کی صلاحیت ختم ہو چکی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے