EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

ہمارا تعلیمی نظام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کہا جاتا ہے کہ دنیا میں سب سے اچھے نظام تعلیم فن لینڈ اور سویڈن کا ہے۔ فن لینڈ میں بچے کو سات سال کی عمر میں سکول میں داخل کیا جاتا ہے۔ شروع کے چند سالوں میں کوئی کتاب نہیں ہوتی بلکہ بچے کو مختلف عملی سرگرمیوں کے ذریعے سکھایا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں بچے کے بڑے ہونے تک کوئی امتحان نہیں لیا جاتا۔

اس کے برعکس جب میں وطن عزیز کے نظام تعلیم کی طرف دیکھتا ہوں تو بڑی تکلیف دہ صورتحال نظر آتی ہے۔ ہمارے یہاں بچہ تین سال کا ہوتا ہے تو سکول میں داخل کرا دیا جاتا ہے۔ ہمارے یہاں سکولوں کے بھی دو نظام چل رہے ہیں۔ غریب کے لئے الگ سکول اور امیر کے لئے الگ سکول ہیں۔ فی الوقت میں خواص کو چھوڑ کر عام لوگوں کے تعلیمی نظام پر ہی بات کروں گا۔

ہمارے سرکاری سکولوں میں بچے کو داخلے کے ساتھ ہی بھاری بھرکم کتابوں کا بوجھ تھما دیا جاتا ہے۔ چھوٹے چھوٹے بچوں کے کندھوں پر وزنی بستوں کا بوجھ دیکھ کر بہت افسوس ہوتا ہے۔ مار پیٹ اور سختی کا کلچر عام ہے۔ شروع سے ہی بچوں پر امتحانات اور مختلف ٹیسٹوں کا بوجھ بھی ڈال دیا جاتا ہے۔ بچوں کو کم از کم شروع کے تین چار سال کھیل کود اور عملی سرگرمیوں کے ذریعے تعلیم دینی چاہیے۔ اہم مضامین کو مختلف ابواب کی صورت میں تحریر کر کے ایک کتاب بنانی چاہیے۔

نصاب، سکول کا ماحول، اساتذہ کا رویہ اور نظام تعلیم ایسا ہونا چاہیے جس سے بچے کے اندر پڑھنے کا شوق پیدا ہو۔ مار پیٹ اور سختی کا کلچر ختم ہونا چاہیے اور اس کے خلاف شکایات کا موثر نظام متعارف کرانا چاہیے۔ شکایت باکس اور آن لائن سسٹم سے بھی فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ اساتذہ اور والدین کی زیادہ سے زیادہ میٹنگز ہونی چاہئیں تاکہ بچے کی کارکردگی، مسائل اور شکایات کا بروقت تبادلہ ہو سکے۔

بچے کو غیر نصابی اور سپورٹس کی سرگرمیوں کے بھرپور مواقع فراہم کرنے چاہئیں تاکہ بچے کے اعتماد، جسمانی اور دماغی صحت میں اضافہ ہو۔ بد قسمتی سے ہمارے ملک میں بچے کے مستقبل اور کریئر کا فیصلہ والدین بچے کا رجحان دیکھے بغیر کر دیتے ہیں جو سراسر غلط ہے۔ بچے نے کون سے مضامین پڑھنے ہیں اور مستقبل میں ایک کامیاب ڈاکٹر، انجینئر، استاد، کھلاڑی یا کچھ بھی بننا ہے اس کا فیصلہ بچے کا رجحان اور دلچسپی دیکھ کے کرنا چاہیے۔ رجحان کا تعین کرنے کے لئے مختلف مضامین اور سرگرمیوں میں بچے کی دلچسپی اور ذہنی لگاؤ معلوم کرنا بے حد ضروری ہے۔ اس مقصد کے لئے سکولوں میں ماہرین نفسیات کی مدد بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔ ہمارے مستقبل کے معماروں کو کارآمد اور مفید شہری بنانے کے لئے جدید اور سائنسی بنیادوں پر اقدامات کرنے چاہئیں۔

ہماری ہائر ایجوکیشن اور تحقیقی کام بھی ذرہ بھر قابل تعریف اور عالمی معیار کے ہم پلہ نہیں ہے۔ اصل تحقیق کے بجائے ساری توجہ جیسے تیسے کر کے ریسرچ ورک مکمل کر کے ڈگری حاصل کرنے میں ہوتی ہے۔ پرائمری کے بجائے سیکنڈری ڈیٹا پر زیادہ انحصار کیا جاتا ہے۔ ہمارا نظام تعلیم چربہ سازی کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ خالص اپنی محنت کے بجائے دوسروں کے کیے ہوئے کام اور تحقیق کو الفاظ کا ہیر پھیر کر کے اور چربہ جانچنے کے سافٹ ویئرز سے کھیل کر اپنا نام دے دیا جاتا ہے۔

ہمارے تحقیقی کام کا مقصد فقط کسی بھی طرح ممتحن کو مطمئن کرنا ہوتا ہے۔ ہمارے اس بوسیدہ نظام کی وجہ سے ہم ترقی کے عمل میں بہت پیچھے ہیں۔ نئی تخلیقات اور ایجادات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں ڈگری کے اجراء کے لئے قابلیت، تجربے اور تحقیقی و علمی کام کو فوقیت دی جاتی ہے۔ پرائمری ڈیٹا کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ کئی یونیورسٹیاں تحقیقی کام اور تجربہ دیکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگریاں بھی دیتی ہیں۔ اس کے برعکس ہمارے ملک میں ایم فل اور پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے کے لئے بھی مختلف امتحانات دینے پڑتے ہیں۔ یوں لکیر کا فقیر، رٹو طوطا اور ٹیکسٹ بک کا پابند بننے کا سلسلہ سکول سے یونیورسٹی لیول تک چلتا ہے۔

اگر ہم پاکستان میں انجینئرنگ کی تعلیم کا موازنہ ترقی یافتہ ممالک کے نظام سے کریں تو واضح فرق نظر آتا ہے۔ پاکستان میں انجینئرنگ کی تعلیم میں زیادہ توجہ تھیوری اور سلیبس پر دی جاتی ہے۔ عملی کام اور پریکٹیکل کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی۔ ڈاکٹرز کی ہاؤس جاب کی طرز پر انجینئرز کی لازمی انٹرن شپ یا ٹریننگ کا کوئی نظام نہیں ہے۔ عملی تجربے کے بغیر انجینئرز کو ڈگریاں تھما کر مارکیٹ میں دھکیل دیا جاتا ہے۔ نتیجے کے طور پر اول تو کوئی انہیں نوکری نہیں دیتا اور اگر دے بھی دے تو انہیں افسران اور نیچے کے ملازمین کی طرف سے شدید تضحیک اور طعنے بازی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے برعکس ترقی یافتہ ممالک میں انجینئرز کو تھیوری کے ساتھ عملی اور اپنے ہاتھوں سے کام کرنے کی تربیت بھی دی جاتی ہے اور لازمی انٹرن شپ بھی کروائی جاتی ہے۔ ان کا انجینئر ڈگری کے ساتھ عملی کام کا مکمل تجربہ حاصل کر کے بھرپور اعتماد کے ساتھ جاب مارکیٹ میں جاتا ہے۔

ہمارا سلیبس پرانا ہے اور اس کو اپ ڈیٹ کیے بغیر سالہا سال پڑھایا جاتا ہے۔ جدید سافٹ ویئرز اور ہائی ٹیکنالوجی کے بارے میں کوئی تربیت نہیں دی جاتی۔

ہمارے نظام میں ایک اور بڑی خامی یہ بھی ہے کہ ہماری انجینئرنگ کی تعلیم اور انڈسٹری میں زیادہ توجہ آپریشن اور مینٹیننس پر دی جاتی ہے۔ تخلیق اور ڈیزائننگ میں ہم بہت پیچھے ہیں۔ اسی وجہ سے مشینری اور ٹیکنالوجی کے استعمال، آپریشن اور مینٹیننس میں تو ہمارے انجینئرز باکمال ہیں مگر ڈیزائننگ اور تخلیق کے عمل سے کوسوں دور ہیں۔

ایک اور بڑی کمی یا خامی سلیبس میں سوشل سائنسز کا نہ ہونا بھی ہے۔ آج کے جدید دور میں کمیونیکیشن اور سوشل سائنسز کے مضامین کی بنیادی معلومات کا ہونا بھی بے حد ضروری ہے۔ معاشرے کی ضروریات کے مطابق تحقیق اور ایجادات کے عمل کے لئے بنیادی علوم کی معلومات کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ انجینئرز کے ذہنوں کو کشادہ اور معاشرے کے لئے مفید بنانے کی ضرورت ہے۔ ان کو معاشرے کا فعال اور متحرک کردار ادا کرنے کے قابل بنانا چاہیے۔ عصر حاضر کی مشکلات، تقاضوں اور ان کے ٹھوس حل نکالنے کے لئے سلیبس میں ترامیم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

کامیاب اور ترقی یافتہ قوموں کی تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو ان کی ترقی میں ان کی قومی و مادری زبانوں کا نمایاں کردار نظر آتا ہے۔ کم وبیش ہر مہذب و ترقی یافتہ قوم نے اپنے کامیابی کے سفر کا آغاز اپنی قومی زبان کو کلی طور پر رائج کر کے کیا ہے۔ بھرپور تحقیق کے باوجود راقم ابھی تک ایسی کوئی ترقی یافتہ قوم یا ملک تلاش نہیں کر سکا جس نے کسی دوسرے کی زبان اپنا کر ترقی کی منازل طے کی ہوں۔

کتنی بڑی ستم ظریفی ہے کہ ہمیں آزادی حاصل کیے سات عشرے گزر گئے مگر ہم اپنی نظام تعلیم کو قومی زبان اردو پر منتقل نہ کر سکے۔ حالانکہ اردو بہت پرانی، جامع اور وسیع ذخیرہ الفاظ کی حامل زبان ہے۔

قارئین، انسان کی اپنی زبان سے انسیت و محبت کا سفر اس دنیا میں آنکھیں کھولتے ہی شروع ہو جاتا ہے۔ کہتے ہیں کہ انسان اپنی ماں کی گود سے سیکھنا اور پڑھنا شروع کرتا ہے۔ ماں کی لوری، ڈانٹ ڈپٹ، تربیت اور سکھانے کا تمام عمل اپنی زبان میں ہی ہوا کرتا ہے۔ کچھ بڑا ہوتا ہے اپنی زبان کی مدد سے ہی اپنا پیٹ بھرتا اور والدین سے اپنی فرمائشیں پوری کرواتا ہے۔

سکول میں پڑھنے کا آغاز بھی اپنی زبان سے ہوتا ہے۔ اگر ہم سرکاری سکولوں کی بات کریں تو پرائمری تک ساری پڑھائی اردو میں ہوتی ہے مگر بچے کی مشکلات کا اصل آغاز چھٹی جماعت سے شروع ہوتا ہے جب انگریزی کو بطور لازمی مضمون پڑھنا پڑتا ہے۔ اردو اور انگریزی کی آنکھ مچولی میٹرک تک چلتی ہے اور کالج میں قدم رکھتے ہی نئی افتاد آن پڑتی ہے کہ تمام سائنس کے مضامین انگریزی میں ہوتے ہیں۔ یوں زیادہ صلاحیتیں اور وقت اصل علم حاصل کرنے کے بجائے انگریزی کی لغات ٹٹولتے اور مہارت حاصل کرنے میں صرف ہونا شروع ہو جاتا ہے۔

ہمارے احساس کمتری اور ذہنی غلامی کی انتہا دیکھیں کہ اردو پر عبور رکھنے والے مگر انگریزی میں کمزور طلبہ، افسران اور سیاست دانوں کا تمسخر اڑایا جاتا ہے۔ مذاق اڑانے والے یہ کم فہم لوگ انگریزی، فرانسیسی، جرمن اور چائنیز بولنے والے ممالک کی ترقی کے بنیادی راز کو بھی نظر انداز کر دیتے ہیں۔ لگ بھگ تمام ترقی یافتہ ممالک میں تعلیم ان کی مادری اور قومی زبان میں ہی دی جاتی ہے جو ان کی ترقی کی ایک اہم اور بنیادی وجہ ہے۔

قارئین، نظام تعلیم میں انقلابی اصلاحات کیے بغیر روشن مستقبل کا تصور بھی محال ہے اور اس طرف فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر راہی (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ڈاکٹر راہی کی دیگر تحریریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے