طالبان ماڈل۔۔


طالبان کے حامی اور مخالف احباب اسلامی تحریکات پر طنز یا مشورہ دیتے ہوئے افغانستان کے معروضی حالات، طالبان کی ظہور اور ان کی پس منظر اور پیش منظر کو شاید نظر انداز کر لیتے ہیں۔

طالبان کا ظہور اس وقت ہوا جب نہ مکمل اور مضبوط ریاست موجود تھی اور نہ کوئی ملک گیر اور مستحکم حکومت موجود جسے قومی اور بین الاقوامی مکمل اعتماد حاصل ہو۔

سویت یونین کے خلاف مجاہدین نے طویل جنگ لڑی اور اس کی شکست اور انخلاء کے بعد اپنی کوتاہیوں، حلیفوں کی دغا بازیوں اور دشمنوں کی ریشہ دوانیوں کی سبب کسی باہمی اتحاد و اتفاق اور قومی حکومت کی تشکیل کی بجائے طاقت کے ذریعے تخت کابل کی حصول میں جت کر باہم دست و گریبان ہو گئے اور ان ہی میں سے ایک اور جتھہ نمودار ہوا اور قوت پکڑی یعنی میدان جنگ ہی میں ایک اور دھڑے کا اضافہ ہوا جسے مکمل سپورٹ پڑوسی ممالک اور دشمنوں تک نے فراہم کی اور تخت کابل پہ بٹھایا۔

ان ہی کو بعد میں امریکہ و اتحادیوں نے حکومت سے بے دخل کیا اور افغانستان پہ جارحیت کر کے قبضہ جمانے کی کوشش کی۔ تب سے طالبان میدان جنگ میں موجود ہیں لیکن اس بار ان کے حامیان اور پشت بانان میں کچھ کی کمی اور کچھ کا اضافہ ہوا ہے۔

سامنے کی بات یہ ہے کہ

اول، کسی پرامن ریاست اور تسلیم شدہ مسلم حکومت کے خلاف انھوں نے خروج نہیں کیا ہے بلکہ پہلے بھی جنگ کو آگے ہی بڑھایا اور اب بھی جارح اور قابض امریکہ اور اتحادیوں کے خلاف مزاحمت اور جہاد کیا۔ تاحال نہ قابضین کا مکمل انخلاء ہوا ہے اور نہ اس کے اثرات ختم ہوچکے ہیں۔ ( حالات کو معمول پہ لانے اور دیرپا امن کے لئے تمام افغان دھڑوں کو اعتماد میں لے کر ساتھ لے جانا ان کی دانش کا امتحان ہے۔ ماضی کی طرح کسی بھی غلطی کی کوئی گنجائش موجود نہیں )

دوم، وہ صرف اپنے بل بوتے پر نہیں بلکہ باقاعدہ ریاستوں کی پشت پناہی اور تعاون کے ساتھ میدان میں موجود چلے آ رہے ہیں۔

سوم، جب تک حالات مکمل نارمل نہیں ہوتے تب تک ان کی کامیابی یا ناکامی کا درست تجزیہ نہیں ہو پا سکتا۔

کہنا یہ ہے کہ مستحکم اسلامی ریاستوں میں اقامت دین کے لئے جدوجہد کرنے والی اسلامی تحریکات کا موازنہ ان کے ساتھ کیوں اور کیسے کیا جاتا ہے۔

ہر دونوں کی جدوجہد کا میدان، طریقہ کار اور اس کے تقاضے بالکل علیحدہ علیحدہ ہیں۔

آخری بات، اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ طالبان حکومت اگرچہ آئیڈیل ہرگز بھی نہیں ہے لیکن ان کا سب سے بڑا کارنامہ اس وقت افغانستان میں مثالی امن قائم کیا ہوا تھا جو اس وقت سب سے بڑی اور اولین ضرورت تھی اور جو بظاہر ناممکن ہی تھا کیونکہ ایک پوری نسل دوران جنگ ہی پروان چڑھی تھی اور جنگ ہی ان کا اوڑھنا بچھونا تھا۔ ریاست نام کی کوئی چیز نہیں تھی اور بے شمار چھوٹی چھوٹی ریاستیں وجود میں آئی تھی۔ درست بات یہ ہے کہ جس کی لاٹھی اس کا بھینس والا معاملہ تھا اور بندوق بردار جتھوں کی بادشاہیاں قائم تھیں۔

ایسے میں لوگوں سے ہتھیار اکٹھا کرنا اور انہیں کسی مرکزی حکومت کی تابع فرمان بنانا کسی معجزے سے کم کام نہیں تھا لیکن طالبان نے یہ کر کے دکھایا۔ سادگی، درویشی، امن، فوری انصاف کی فراہمی اور حکومتی رٹ کا قیام اس حکومت کے خصوصیات تھیں۔ ان کی ناتجربہ کاری تھی، کم فہمی تھی، ایک خاص قسم کا مائنڈ سیٹ تھا، غلط اپروچ تھا یا حالات کا جبر کہ کئی ایک قابل اعتراض، ناپسندیدہ اور درحقیقت غیر ضروری امور میں وہ الجھے رہے اور اقوام عالم میں نیک نام کمانے سے قاصر رہے۔ اسی بناء اسلامی تحریکات نے کبھی بھی ان کی طرز حکومت، ترجیحات اور اقدامات کو آئیڈیل نہیں گردانا اور بارہا انھیں اصلاح احوال کی جانب متوجہ کیا۔

محترم قاضی حسین احمد رحمہ اللہ نے اس وقت جب طالبان کی حکومت قائم تھی اور ان کا غلغلہ تھا بہت واضح انداز میں فرمایا تھا کہ

”ہمارے لئے نہ ایران ماڈل نہ ترکی ماڈل اور نہ افغانستان ماڈل نمونہ ہے بلکہ آئیڈیل“ ریاست مدینہ کی اسلامی فلاحی ریاست ”ہے۔

اسی طرح جناب سید منور حسن رحمہ اللہ نے فرمایا تھا کہ
ڈنڈے کی زور پر امن قائم ہو سکتا ہے اور نہ شریعت نافذ ہو سکتی ہے۔

” جیٹ کے ذریعے آئین نافذ ہو سکتا ہے نہ ہی بندوق کے ذریعے شریعت نافذ ہو سکتی ہے۔ جس معاشرے میں دعوت و تبلیغ کی اجازت ہو، لوگوں کے ذہن مسخر کیے جا سکتے ہوں، اس معاشرے میں بندوق اٹھانا کوئی معنی نہیں رکھتا۔“

راستہ بالکل واضح ہے۔

اقامت دین کی جدوجہد پرامن، آئینی اور قانونی طریقے سے کرنی ہے جس میں انقلاب امامت کے لئے دستیاب ذریعہ سیاسی، جمہوری اور انتخابی ہے جس میں مذکورہ پریم ورک میں رہتے ہوئے کامیابی کی امکانات نسبتاً زیادہ ہیں۔

قرآن و سنت کی روشنی میں سید مودودی رحمہ اللہ نے جدوجہد کا جو جامع اور ہمہ پہلو طریقہ کار وضع کیا ہے وہ صبر آزما ضرور ہے لیکن ہمہ گیر اور دیرپا انقلاب کا یہی فطری اور موثر راستہ ہے جو ترتیب، تدریج اور توازن کا شدید متقاضی ہے۔

تطہیر و تعمیر افکار، اصلاح معاشرہ، امامت انقلاب اور حکومت الہیہ کا قیام۔

Facebook Comments HS